لندن : ہفتے سے شروع ہونے والے فسادات پر قابو پا لیا گیا

London

London

لندن : برطانیہ میں فسادات ،بارہ سو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ،وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ،بر منگھم میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کی ہلاکت پر کمیونٹی سوگوار، شمعیں روشن کی گئیں۔ برطانوی دارالحکومت لندن میں ہفتے سے شروع ہونے والے فسادات پر قابو پا لیا گیا ہے۔ برطانیہ میں تین پاکستانی نژاد نوجوانوں کی ہلاکت پر مسلم کمیونٹی میں شدید غم وغصہ پایاجاتاہے۔جبکہ فسادات کے الزام میں بارہ سو افراد کو گرفتارکیاگیاہے۔پارلیمنٹ میں برطانوی وزیراعظم نے سخت سوالات کے جوابات دیئے۔
برطانیہ کے شہر برمنگھم کی فضا سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔تین پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی فسادات میں ہلاکت کیبعد مسلم کمیونٹی میں سخت اشتعال پایا جاتاہے۔ ونسٹن گرین کے علاقے میں سیکڑوں شہریوں نے جمع ہوکر جاں بحق افراد کوخراج عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر شمعیں روشن کی گئیں۔ مقامی شخص ناصر احمد نے بتایاکہ پولیس اگرسرگرمی کا مظاہرہ کرتی تو لوٹ مار کیواقعات کو روکا جاسکتاتھا۔  برمنگھم پولیس نے تین پاکستانی نوجوانوں کے قتل کے شبہ میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔
دوسری جانب فسادات کرنے والوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈان جاری ہے۔ہنگامہ آرائی کے الزام میں بارہ سو افراد کو گرفتارکیا گیا۔جنہیں رات بھر مجسٹریٹ عدالتوں میں پیش کیا جاتارہا۔ا دھر پاکستان کے برخلاف معاملہ ٹھنڈا ہونے کا انتظارنہیں کیاگیاہیبلکہ فوری طورپر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیاگیا۔جس میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت پر شدید تنقید کی گئی ۔ پارلیمنٹ سے خطاب میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ۔فسادات کے دوران جن افراد کی املاک کو نقصان پہنچا ان کی امداد کی جائے گی۔ ۔جن افراد نے انشورنس نہیں کروائی انہیں بھی حکومت چودہ سے بیالس دن میں معاوضہ فراہم کریگی۔
انھوں نے بتایاکہ وہ برطانیہ میں خوف کا کلچر نہیں دیکھنا چاہتے ۔ آئندہ ہنگاموں میں فوج کوبلانے پر غور کرسکتے ہیں ۔ برطانیہ میں چار روزہ فسادات کیبعد انتظامی مشینری صفائی ستھرائی کے کاموں میں مصروف ہے۔