انشا جی اٹھو
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سیکیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں، دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی، چاند بھی ڈوب چلا، زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہوں، سجنی سے کرو گے بہانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں، کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
... مزید خبریں
- کراچی : ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں2 افراد جاں بحق
- امریکا: سان فرانسسکو ایئرپورٹ کے قریب دھماکا
- روس : جنوبی شہر کی مارکیٹ میں دھماکے،5 افراد ہلاک
- واشنگٹن : امریکی صدر اور انکی اہلیہ کی مسلمانوں کو عید کی مبارکباد
- لاہور : تمام چیزیں میڈیا میں نہیں لا سکتے۔ اعجاز بٹ























































