انشا جی اٹھو

  • Agrandir la taille de police
  • Réduire la taille de police
  • Imprimer l'article
 



انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سیکیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

اس دل کے دریدہ دامن میں، دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا

شب بیتی، چاند بھی ڈوب چلا، زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہوں، سجنی سے کرو گے بہانا کیا

جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں، کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا

 

... تازہ ترین

Today BACK NEXT