غزل
دیکھ مت دل کی طرف اتنی فراوانی سے
یہ کبھی دام میں آتا نہیں آسانی سے
آج کل اوج پہ ہے حالت وحشت اپنی
اور کیا پوچھتے ہو درد کے زندانی سے
بابِ حیرت کبھی کھلتا نہیں آئینے پر
تنگ دامان و تہی دست ہے عریانی سے
میں تری چشمِ فسوں ساز میں الجھا ایسا
آج تک لوٹ کر آیا نہیں حیرانی سے
اپنے ہمراہ کہاں زاد سفر رکھتے ہیں
جو محبت کی طرف آئے ہوں نادانی سے
محفلِ عیش و طرب میں بھی گیا ہوں لیکن
دل کو تسکین ملی دشت کی ویرانی سے
... مزید خبریں
- کراچی : ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں2 افراد جاں بحق
- امریکا: سان فرانسسکو ایئرپورٹ کے قریب دھماکا
- روس : جنوبی شہر کی مارکیٹ میں دھماکے،5 افراد ہلاک
- واشنگٹن : امریکی صدر اور انکی اہلیہ کی مسلمانوں کو عید کی مبارکباد
- لاہور : تمام چیزیں میڈیا میں نہیں لا سکتے۔ اعجاز بٹ

























































