قلندرانِ اقبال ابوظہبی کے زیراہتمام ادبی محفل

Qalandarane Iqbal

Qalandarane Iqbal

ابوظہبی، متحدہ عرب امارات (حسیب اعجاز عاشر) قلندرانِ اقبال ابوظہبی کے زیر اہتمام فرہاد جبریل کے پہلے مجموعہ کلام ’’تم بھی حد کرتے ہو‘‘ کی پذیرائی اور صحافی حسیب اعجاز عاشرؔ کے لئے الوداعیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹرصباحت عاصم واسطی نے کی۔تلاوت قرآن پاک کی سعادت شیخ واحدالحسن سے حاصل کی۔ نجمی مسرت نے نعتِ رسول مقبولﷺ پیش کی۔نظامت کے فرائض عبدالسلام عاصم نے سرانجام دیئے۔

حسیب اعجاز عاشرؔ نے اپنے اظہار خیال میں خوبصورت محفل کے انعقاد پر طارق حسین بٹ اور عبدالسلام عاصم کی کاوشوں کو سراہا اور فرہاد جبریل کے پہلے مجموعہ کلام ’’تم بھی حد کرتے ہو‘‘ کی تقریب پذیرائی پر مبارکباد پیش کی انہوں نے کہا کہ فرہاد کی شاعری بلاشبہ انکی شخصیت کے طرح شاندار اور لاجواب ہے ،انہوں نے اپنے متحدہ عرب امارات میں ۱۶ سالہ قیام کے دوران درپیش نشیب و فراز کو بھی سماعتوں کی نذر کیا ۔انہوں نے بھرپور حوصلہ افزائی پر حاضرین کا بھی شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں نجمی مسرت نے پرترنم کلام اقبال پیش کر کے خوب داد سمیٹی۔

نیر نیناں نے اپنے مضمون بعنوان ’’فرہاد شیریں سخن‘‘میں اظہارِ خیال پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے جدت پسند شاعر فرہاد جبریل اپنے انوکھے تخلص کی طرح خیال بھی اچھوتا رکھتے ہیں ۔ بے رنگ و بُو کو اس چابکدستی سے استعمال کرتے ہیں کہ یہ ناصرف رنگ و موسیقیت سے لبریز ہو جاتے ہیں ۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فرہادؔ جبریل کا شمار دُنیائے علم و ادب کے اُن چند تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جِن کے تخیل کی پرواز اور فنی مہارت کی بدولت اوائلِ سفر میں ہی کامیابیوں نے اُن کا والہانہ استقبال کیا۔

سلمان احمد خان سے اظہار خیال میں فرہاد کے ساتھ گزرے یادگار اور دلچسپ لمحات کو سماعتوں کی نذر کیا اور کہا کہ فرہاد جبریل نے بڑے قلیل عرصے وہ مقام کیا ہے جو ہر شاعر کیلئے ممکن نہیں انہوں نے اپنے اس مقام کو قائم بھی رکھا ہے جو بہت اہم ہے ۔انہوں نے ناشر علی زبیر کا مضمون بھی پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرہاد جبریل نے اردو شاعری کو ایک نئی جمالیات سے آشنا کیا ہے۔اِس کے ہاں غیر شعری الفاظ بڑی خوبصورتی سے شعری لباس زیب تن کیے نظر آتے ہیں۔پہلے وہ اپنے شعر کا پورا خمیر روایت اور جمالی نظام کے حامل الفاظ سے اٹھاتا ہے اور پھر اُس شعر میں بڑی سہجتا سے، بڑی سنبھلتا سے، بڑی نزاکت سے اپنے عہد کی لفظیات کو رکھ دیتا ہے۔

سلیمان جاذب نے کہا کہ قلنداران اقبال کے زیراہتمام اس خوبصورت تقریب کا انعقاد قابل تحسین ہے ۔اپنے دوست حسیب اعجاز کے جانے پر دکھ بھی ہے مگر ان کا عزم دیکھ کر دلی سکون اور خوشی ہے اللہ انہیں انکے نیک مقاصد میں کامیاب و کامران فرمائے۔انہوں نے بڑے خلوص سے ادبی و صحافتی خدمات پیش کی ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا متحدہ عرب امارات کی ادبی فضاء میں انکی کمی محسوس کی جائے گی ۔فرہاد جبریل کا پہلا مجموعہ کلام ’’تم بھی حد کرتے ہو‘‘ یقیناًایک خوبصورت اضافہ ہے بہت جلد انہوں نے ایک اپنا مقام حاصل کیا ہے کہ ابھی ادبی محافل انکے بغیر ادھوری محسوس ہوتیں ہیں دعا گوہ ہوں کہ انکا یہ سفر اسی آب و تاب کے ساتھ جاری رہے۔

جناب پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق کا کہنا تھا کہ صاحبِ کتاب سادگی شعار ہے ، کردار میں اخلاص میں زبان میں رہن سہن میں اور گفتگو میں سادگی کو پسند کرتا ہے۔یہ حسین ترین تراکیب کو نئے رنگ میں ڈھالنے میں کوشاں ہے۔اسکا کلام خوبصورت بھی اور جاذب نظر بھی ،آسان بھی اور رواں بھی جس میں مسلسل جستجو نظر آتا ہے۔یعقوب تصورنے فرہاد جبریل کی کتاب اور شاعری کے حوالے سے لکھی اپنی تحریربعنوان’’تم نے حد کر دی ہے‘‘ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسم فرہاد جبریل شہر لغت میں مرکب ہوا ان دو الفاظ سے جن میں اک کا تعلق تو دنیا سے ہے۔

دوسرے کا تعلق ہے عرش معلی کی اقلیم سے ،اک علمدار جذباتِ آتش فشاں، احساسات سبک کا حسین آئینہ، جذبِ حُب ووفا دوسرا وجہ ترسیل احکام خوش کن فِکاں،داستانِ ازل تا ابد عرش سے فرش تک حسن نظارہ زندگی کا بیاک،ایک جسم زمیں ایک روح الامیں۔ذہین فرہاد میں ساری باتیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئی کچھ بھی کہے میں یہ کہتا نہیں ‘‘تم بھی حد کرتے ہو‘‘ ۔۔۔ہاں مگر بزم میں میرا اعلان ہے ۔۔ہو مبارک تمہیں ’’تم نے حد کر دی ہے‘‘۔

تقریب کے میزبان چیئرمین قلنداران اقبال طارق حسین بٹ نے فرہاد جبریل کی شخصیت و شاعری کے حوالے سے لکھے اپنے مضمون باعنوان’’ نئے فکری ر ویوں کانوجوان شاعر‘‘ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اشعار میں سر مستی کا رنگ اور خودی کا آہنگ ہے۔ ان کی غزلیات ایک کہکشاں ہے جو رنگ برنگ کی جلوہ نمائیوں اور عشوہ طرازیوں سے نگاہوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔کلام اتنا مترنم ہے کہ ندی کے جھرنوں کا گمان ہوتا ہے ۔ان کی شاعری کا ایک ایک لفط حسن ،جذبات اور شدتِ کیفیات کا آئینہ دار ہے ۔بٹ صاحب نے حسیب اعجاز عاشر کو بھی نئے سفر کے آغاز پر دعاؤں سے نوازا ۔انہوں نے تمام شرکاء کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

صاحبِ کتاب فرہاد جبریل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مقررین ،حسیب اعجاز، نیر نیناں،عبدالسلام عاصم،سلمان خان،سلیمان جاذب،وحیدالزمان طارق، یعقوب تصور،طارق حسین بٹ اور ، ڈاکٹر واسطی اور تمام حاضرین سے بھی اظہار تشکر کیا جن کے محبت بھرے اظہارِ خیال اور شرکت نے محفل میں خوب رنگ بھر کر اِسے انکی زندگی کا یادگار لمحہ بنا دیا۔فرہاد نے کہا امارات میں مقیم بڑی ادبی شخصیات سے میں نے بہت کچھ سیکھ رہا ہوں۔انہوں نے حسیب اعجاز عاشرؔ کو پاکستان منتقل ہونے کو انکا ایک مشکل فیصلہ قرار دیا مگر کامیابیوں کے لئے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔نہیں ۔فرہاد جبریل نے اپنے پہلے مجموعہ کلام ’’تم بھی حَد کرتے ہو‘‘ سے منتخب اشعار سے بھی سامعین کو نوازا اور داد و تحسین کے حقدار بنے۔

صدر محفل نامور شاعرڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے اپنے اظہارِ خیال میں کہا کہ فرہاد جبریل نے اپنے آپ کو لفظوں کے سپرد کرکے لفظوں سے پذیرائی حاصل کرنے کا گُر بڑے ہی قلیل مدت میں سیکھ لیا ہے کہ اب الفاظ اور خوبصورت الفاظ فرہاد کی تلاش میں گھومتے ہیں۔فرہاد میں وہ تمام جوہر موجود ہیں جو اچھے شاعر میں ہونے چاہیے۔۔’’تم بھی حَد کرتے ہو‘‘ فرہاد کا پہلا اور مضبوط قدم ہے اور اب یہ اپنی شناخت بنانے کی طرف گامزن ہو چکاہے۔

مجھے ذاتی طورپر بھی اس کی یہ کتاب دیکھ کر خوشی کے ساتھ ساتھ فخر بھی ہوا ہے کہ ابوظہبی سے عرصہ بعد ادب میں ایک حسین اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے حسیب اعجاز عاشرؔ کے کامیاب سفر کے لئے دعائیہ کلمات بھی پیش کئے اور کہا مجھے قوی امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالی مستقبل میں اِس کا نام بڑے صحافیوں میں ہو گا۔