خود کشی
کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ اس کا مالک کون ہے؟ کیا نام ہے؟ بکری کا بچہ میں، میں کرتا ایک کھیت میں غائب ہو گیا۔
ہیروں کا سوداگر
دل آرام ریسٹورنٹ کے باہرجب پہلی مرتبہ میری نظراس پرپڑی تو میں نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ ۔ ۔ مگرجب وہ اکثرشام کے بعد وہاں دکھائی دینے لگاتو میں نے ایک دن اس سے پوچھ ہی لیا۔
ایک دن
ٹرین حیدر آباد کے سٹیشن پر کھڑی تھی۔ اس کے ڈبے میں سے وہ رنگین اور نازک صراحیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ جن کی مٹی کا رنگ نارنجی اور بیل بوٹوں کا نمونہ خالص سندھی تھا۔ دو امریکن میمیں ہاتھوں میں دو دو صراحیاں تھامے دوکاندار سے سودا کر رہی تھیں۔ ان کے لکیردار فراک گھٹنوں سے نیچے تنگ اور بغلوں تلے بہت زیادہ کھلے تھے۔ آستینیں غائب تھیں اور گرمی سے جھلسی گردنوں اور سینوں کا کھلا حصہ بہت سرخ نظر آ رہا تھا۔
لحاف
معاف کیجئے گا، میں آپ کو خود اپنے لحاف کا رومان انگیز ذکر بتانے نہیں جا رہی ہوں۔ نہ لحاف سے کسی قسم کا رومان جوڑا ہی جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں کمبل آرام دہ سہی، مگر اس کی پرچھائیں اتنی بھیانک نہیں ہوتی جتنی.... جب لحاف کی پرچھائیں دیوار پر ڈگمگا رہی ہو۔
ٹیوشن کلچر
اب یہ ایک امیر انسان کی پہچان بن گیا ہے کہ اس کے پاس گاڑی ہے، بنگلہ، نوکر چاکر اور بینک بیلنس ہے اور کیا اس کے بچے مہنگے کوچنگ سینٹر میں ٹیوشن پڑھتے ہیں یا نہیں۔






















