سکندراعظم، سانگلہ ہل اور مغربی دنیا

Sikandar Azam

Sikandar Azam

تحریر: علی عمران شاہین
سکندر اعظم کے نام سے کون واقف نہیں ہو گا۔ تین براعظموں کا52لاکھ مربع کلومیٹر علاقہ فتح کرنے والے سکند ر اعظم کو دنیا کے بڑے فاتحین میں شامل کیا جاتا ہے۔ آج کے یورپی ملک یونان سے فتوحات کا آغاز کرنے والے سکندر اعظم نے یورپ سے افریقہ اورایشیا کی جانب فتح کاسفر شروع کیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ جب وہ وسطی پنجاب کے علاقے سانگلہ ہل (ننکانہ)پہنچا تو اس نے فوج کے ہمراہ یہاں قیام کیا۔اس قیام کے دوران میں اس نے یہاں ایک کنواں بھی کھدوایا تھاجو آج کے دور تک موجود رہا۔چند سال پہلے وہ کنواں مٹا اور پھر یہاں ایک چوک بنا دیا گیا۔ ہند اور پھر اس سے آگے کی دنیا کی فتح کا خواب آنکھوں میں سجائے سکندر اعظم سانگلہ ہل میں قیام پذیر تھا تو مقامی قبیلے کے سردار جسرت کھوکھر نے پہاڑی پر چڑھ کر سکندراعظم کے خیمے پر تیر مارا،جو اسے زخمی کر گیا۔یوں یہ تیر سکند ر کے لئے مہلک ثابت ہوا اور پھر بابل (عراق) جا کر وہ اسی زخم سے 33سال کی عمر میں موت کے منہ میں چلا گیا۔یوں اس کا ساری دنیا فتح کرنے کا خواب اس کے ساتھ قبر میں اتر گیا( ایک دوسری روایت میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سکندر کو مہلک تیر ملتان کے محاصرے میں لگا تھا)۔ پاکستان کے ضلع چترال کی وادی کیلاش کے کافر خود کو سکندراعظم کی اولاد کہتے ہیں جن کے عقائد و روایات انتہائی عجیب و غریب ہیں۔

سانگلہ ہل کہنے کو تو وسطی پنجاب کے ضلع ننکانہ کا چھوٹا سا شہر ہے لیکن اس کی اپنی ایک باکمال تاریخ ہے۔ اس خطے پر جب انگریز قابض ہوئے تو ان کی نگاہ پہاڑی پر پڑی تو انہوں نے یہاں ریلوے سٹیشن بنا کر تعمیراتی کاموں میں پتھر کے حصول کیلئے اس پہاڑی کی کٹائی شروع کر دی۔ پھر یہ سلسلہ 1990ء تک چلتا رہا یہاں تک کہ یہ پہاڑی جس کی نسبت سے علاقے کا نام سانگلہ ہل قرار پایا تھا، کا نشان ہی مٹنے کے قریب پہنچ گیا۔ تب کہیں جا کر اس کی کٹائی کا سلسلہ بند ہوا۔ زرخیز زمین اور امرود کی پیداوار کیلئے شہرت رکھنے والا سانگلہ ہل ہفتہ رفتہ جانا ہوا تو یہاں کے باسیوں نے ہر لحاظ سے کمال محبت کا اظہار کیا۔ شہر سے متصل مرکز المدینہ میں خطبہ جمعہ کا اہتمام تھا، جہاں شہر اور گردونواح سے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ خطبہ جمعہ کے دوران میں دعوت وجہاد کے تذکرے کرتے ہوئے یہ کہنے کا موقع ملا کہ یہ میاں نواز شریف ہی تھے جنہوں نے اپنے حالیہ دورئہ امریکہ کے دوران امریکی صدر باراک اوبامہ سے ملاقات میں امریکہ سے اتحادی فنڈ کے حصے کے 90کروڑ ڈالر کی وصولی کے معاملے میں قومی خودداری کا دلیرانہ مظاہرہ کیا۔ عالمی میڈیا نے لکھاکہ جواب میں اوبامہ نے کہا کہ رقم تو 90 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ مل سکتی ہے لیکن شرط صرف ایک ہے کہ جماعة الدعوة پر پابندی کے ایسے عملی اقدامات کر کے دکھائیں جن سے ہم اور بھارت دونوں مطمئن ہوں۔(اوبامہ کے اس مطالبے کی وجہ یہ تھی کہ اس سے قبل نریندر مودی نے جو امریکی دورہ کیا تھا، اس میں اس نے اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے دوران سب سے بڑا اور اہم نکتہ یہی رکھا تھا کہ امریکہ جماعة الدعوة پر عملی پابندی عائد کروائے کیونکہ جماعة الدعوة ہی افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

Nawaz Sharif

Nawaz Sharif

سو اب باراک اوبامہ نے وہ وعدہ پورا کرنے کیلئے یہ سنہری موقع جانا۔) میاں نواز شریف اوبامہ کا مطالبہ سن کرخاموشی سے ان کو یہ پیغام دے کر چلے آئے کہ ڈالروں کے حصول کیلئے وہ جماعة الدعوة پر پابندی کا مطالبہ قبول نہیں کر سکتے، نہ ہم ڈالر لیں گے اور نہ پابندی لگائیں گے۔ چند روز پہلے جماعة الدعوة کے حاسدین کے ہاتھ ایک اور” گیدڑ سنگھی ”آئی کہ جماعت نے ملک میں متوازی عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے۔ وہاں لوگوں کو سمن بھیج کر طلب کیا جاتا ہے،سزائیں دی جاتی ہیں اور حاضر نہ ہونے کی صورت میں تادیبی کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہے۔ خبر کا سامنے آنا تھا کہ ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی کہ جماعة الدعوة کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جانا چاہئے ۔ اس خبر پر انڈیا نے تو وہ طوفان بدتمیزی بپا کیا کہ ”رے رب دا ناں” لیکن جب معاملہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے حکومتی عہدیداران کے سامنے رکھا تو زعیم قادری اور رانا ثناء اللہ نے اس پرایسے ترکی بہ ترکی جواب دیئے کہ سارے ہی مخالفین کے منہ بندہوگئے۔ زعیم قادری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعة الدعوة ، اس کے مرکز القادسیہ اور ان کی ‘عدالت ‘سے بخوبی واقف ہیں، وہاںوہی ثالثی پنچایت قائم ہے جو ہمارے ہاں گلی محلوں میں ہوتی ہے۔ان جوابات نے مخالفین کی ایسی ہوا نکالی کہ وہ سبھی بغلیں جھانکتے نظر آتے۔

نماز مکمل ہوئی تو مسئول جماعة الدعوة سانگلہ ہل اسحاق بھٹی بتانے لگے کہ مقامی رکن صوبائی اسمبلی جناب چوہدری طارق محمود باجوہ بھی آج یہاں تشریف لائے ہیں، ان کے ساتھ علیک سلیک ہوئی اور پھر مختصر سی پریس کانفرنس۔ میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں طارق محمود باجوہ کہنے لگے کہ ہمارے ہاںروایت یہ ہے کہ منبر و محراب پر ہمیشہ حکومت کی مخالفت ہوتی ہے لیکن آج حکومت کے نیک کارناموں کی تعریف سن کر خوشی ہوئی اور میں اس پر جماعة الدعوة کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ہی طارق محمود باجوہ کہنے لگے کہ آپ نے واپسی سے پہلے میرے گھر ضرور تشریف لانا ہے۔مرکز المدینہ سے کھانے کیلئے محمد اسحاق بھٹی کے گھر پہنچے تووہاں ذوالفقار بٹ صاحب سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔

ALLAH

ALLAH

ذوالفقار بٹ کو سارا ملک بلکہ باہر کی دنیا کے بے شمار لوگ بھی” ٹاہلی (شیشم کا)درخت” کاٹنے کے مباہلہ کے حوالے سے بخوبی جانتے ہیں جس پر انہوں نے مباہلہ کے بعد ایک لاکھ روپے انعام بھی وصول کیا تھا۔ (اس ٹاہلی کا ”مڈھ” اب بھی شہر کی ایک مسجد میں موجود ہے)۔یہاں سے طارق محمود باجوہ کے گھر پہنچے تو انہوں نے پرتپاک استقبال کیا اور پھر عمرہ کے سفر سے لائی کھجوریں پیش کرنے کے بعدخود مہمانوں کی ضیافت کی۔ کہنے لگے کہ ہم نے نیکی کی نیت سے یہ عمل شروع کر رکھا ہے کہ ہمارے جانوروں کے باڑے میں جو بھی نر جانور پیدا ہو، وہ ہم ہمیشہ پال پوس کر اللہ کی راہ میں صدقہ کریں گے اور ہم عرصہ دراز سے یہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں جہاں کہیں دعوت دین کے سلسلے میں جو بھی اور جیسی بھی خدمت درکار ہو ہم حاضر ہیں۔ ان کی عوام و انسان دوستی کے مظاہر سانگلہ ہل میں بھی خوب نظر آتے ہیں جہاں انہوں نے اپنے مہمان خانے میں ہر کسی کا بلا روک ٹوک داخلہ ہروقت کھلا رکھا ہوا ہے۔ سانگلہ ہل کا چھوٹا سا شہر انہی کی محبتوں کی وجہ سے بڑے بڑے شہروں سے زیادہ کشادہ و خوبصورت نظر آتا ہے۔

واپسی کے سفر میں بار بار دل و دماغ کے نہاں خانوں میں یہی خبر گونج رہی تھی کہ جماعة الدعوة کے خلاف مرکزی عدالتوں کے قیام کے الزام کا ڈھونگ رچانے والے خالد سعید اور ان کے حواریوں نے میڈیا کے میدان میں منہ کی کھانے کے بعد اب ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ وہاں حکومتی وکلاء نے اپنے جواب میں کہا کہ یہ مقدمہ بنتا ہی نہیں کہ خالد سعید نے قانونی راستہ نہیں اپنایا۔اسے پہلے مقامی تھانے جانا چاہئے تھا۔ فیصلے میں جسٹس شاہد بلال نے یہ حکم دیا کہ اس حوالے سے تحقیق کر کے رپورٹ دی جائے۔حقیقت تو یہ ہے کہ خالد سعید مقامی تھانے کو منہ دکھانے کے قابل نہیں کہ وہ تو 14مقدمات میں اشتہاری ہے اور لوگوں کا مال ہتھیانے کے بعد اب ملک سے فرار ہونے اور بیرون ملک سیاسی پناہ کے لئے ڈرامہ رچا رہا ہے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔مغربی دنیا اس ڈرامے کو بھی فوری تسلیم کرے گی۔ فرانس میں تو اس وقت باقاعدہ طور پر توہین رسالت کی سزا یافتہ مجرمہ آسیہ مسیح کو پناہ دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اور تو اور لاہور کے گلشن پارک میں دھماکہ ہوا تو عیسائی دنیا کے سربراہ پوپ فرانسس نے اسے بھی فرقہ وارانہ دھماکہ قرار دینے میں دیر نہیں کی۔ بیان داغا کہ پاکستان اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنائے، حالانکہ گلشن اقبال پارک دھماکے کا نشانہ تو قطعاً کوئی اقلیت نہیں تھی ۔ پاکستان و اسلام کو بدنام کرنے کی عالمی مہم مدت سے جاری ہے لیکن اس کے علمبردار ہمیشہ ہی رسوا ہوئے ، اب کے پھرو ہی نوشتہ دیوار نظر آیا ہے اور آج بھی سکندر اعظم کے پیروکاروں کا نام اسی طرح مٹنے والا ہے (ان شاء اللہ)

Imran Shaheen

Imran Shaheen

تحریر: علی عمران شاہین
برائے رابطہ: 0321-4646375