علی رضا سید کا بھارت کی ایک یونیورسٹی میں چار کشمیری طلبہ پر تشدد اور ان کی حراست کی مذمت

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ۔ر) چیئرمین کشمیر کونسل یورپ (ای یو) علی رضا سید نے بھارت کی ’’موار یونیورسٹی‘‘ میں چارکشمیری طلبہ پر تشدد اور انہیں حراست میں لیئے جانے مذمت کی ہے۔ان طلبہ پر بڑا گوشت کھانے کے الزام کے تحت ایک مقامی گروپ نے حملہ کیا۔ پھر پولیس آئی اور پولیس نے ا ن کشمیری طلبہ کوہی حراست میں لے لیا۔

اس صورتحا ل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے علی رضا سید نے کہاکہ یہ سب کچھ مودی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں اوران کا انتہا پسندگروہ ’’شیوسینا‘‘ کے ساتھ گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے ۔مودی کے اقتدارمیں آتے ہی انتہاپسندوں کے متشدد رویے میں اضافہ ہواہے۔

مودی اور ان کی جماعت بھارتیا جانتا پارٹی بھی اس رویئے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ گوشت کھانے پر لوگوں کو مارا جا رہا ہے اور خاص طورپران طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو بھارت کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی کرکٹ ٹیم کی حمایت کرتے ہیں۔

ان افراد کو بھی جیل میں ڈالا جا رہا ہے جو آزادی اظہارکا حق استعمال کرنے کی جرت کرتے ہیں۔ دلتوں، عیسائیوں، مسلمانوں اور سکھوں کو ان کی عقیدے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ شیوسینا گروپ بھارت کو ایک انتہا پسندہندو ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے جہاں دوسری قومیتوں، اقلیتوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔

علی رضا سید نے کہا کہ ان حالات میں بھارت دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اپنے ملک کے اندر متعصبانہ پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس طرح کے ظالمانہ اقدامات سے عالمی برادری کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور بھارتی نام و نہاد سب سے بڑی جمہوریت کے اصل چہرے کو بے نقاب ہو جانا چاہیے۔

چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے ایک تحقیقاتی کمیٹی کی طرف سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پانچ طلبہ جن میں طلباء یونین کے صدر کنیہا کمار بھی شامل ہیں، کو خارج کرنے کی سفارش پر افسوس کا اظہار کیا اور اس اقدام کی پر زور الفاظ میں مذمت کی۔ ان طلبہ پرمظلوم کشمیریوں کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔