علی رضا سید نے خرم پرویز کو جنیوا جانے سے روکنے کی مذمت کی ہے

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ۔ر) کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے انسانی حقوق کے کشمیری علمبردارخرم پرویز کو دہلی کے اندراگاندھی ائرپورٹ پر روکے جانے کی مذمت کی ہے۔وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اجلاس میں شرکت کے لیے بدھ کے روز جنیوا جارہے تھے۔ انہیں بھارتی حکام نے ائرپورٹ پر ڈیڑھ گھنٹہ حراست میں رکھا اور پھر کہاگیاکہ وہ ملک سے باہرنہیں جاسکتے۔

خرم پرویز نے جنیوا کے علاوہ بلجیم کے دارالحکومت برسلز جاناتھاجہاں انھوں نے یورپین حکام کے سامنے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اٹھاناتھا۔باقاعدہ دعوت نامہ، ویزا اور دیگر دستاویزات کے باوجود خرم پرویز کو روکاگیااور بار بار وجوعات معلوم کرنے پر صرف یہ ہی کہاگیاکہ بھارتی انٹیلی جنس بیورو کی طرف انہیں باہرجانے سے روکنے کا آرڈر ہے۔

علی رضاسید نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ خرم پرویز اس لئے باہر جاناچاہتے تھے تاکہ مقبوضہ کشمیرکی گھمبیر صورتحال خصوصاًدوماہ کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو دنیاکے سامنے پیش کرسکیں۔

انھوں نے بھارتی حکومت کے رویے کو غیرمجازاورغیرجمہوری قراردیتے ہوئے کہاکہ خرم پرویز کو جنیواجانے کی فوری اجازت دی جائے۔ خرم پرویز جو ایشین فیڈریشن برائے انسدادجبری گم شدگی کے چیئرمین اور جموں و کشمیرسول سوسائٹی اتحادکے پروگرام کوآرڈی نیٹربھی ہیں، نے ایک وفد کے ہمراہ جنیوامیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرناتھی۔

علی رضاسید نے کہاکہ کشمیری اپنا حق خودارادیت چاہتے ہیں تاکہ وہ بھارت سے آزادی حاصل کرسکیں لیکن بھارت ان کے اس حق کے لیے اٹھنے والی پرامن آواز کو سنگین جرائم اور تشدد کے ذریعے دباناچاہتاہے۔