اللہ کی معرفت کو پہچاننے کے لئے غور و فکر کرنا ضروری: علیم الدین بلخی

Akhtar Adil Gilani Discussed Seat Patna

Akhtar Adil Gilani Discussed Seat Patna

پٹنہ: تحریک تعمیر اسلامی معاشرہ کے زیر اہتمام یہاں تحریک کے رکن اور خطیب محمد اختر عادل گیلانی کی کتاب نبیوں کی کہانی قرآن کی زبانی کا اہتمام کیا گیا جس میں دانشوروں نے گیلانی صاحب کی کوششوں کی تعریف کی اور اسے عبادت سے تعبیر کیا۔ نشست کی صدارت خانقاہ بلخیہ فردوسیہ فتوحہ کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ علیم الدین بلخی نے کی اور نظامت کا فریضہ ممتاز عالم دین اور خطیب مولانا فضل کریم قاسمی نے ادا کیا۔مولانا علیم الدین بلخی نے اپنی صدارتی خطبہ میں کہا کہ اللہ کی معرفت کی پہچاننے کے لئے غور و فکر کرنا ضروری ہے۔

یہ ایک طرح کی عبادت ہے۔ انہوں نے اختر عادل گیلانی کی کتاب کی تعریف کی۔ انہوں نے قرآن شریف کو سمجھ کر پڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ قرآن ہی واحد ایسا آسمانی صحیفہ ہے جو مختلف طرح کی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکتا ہے۔ مولانا بلخی نے کہا کہ قرآن کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ اس کی تلاوت سے بہت مزہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کتنی ہی دلچسپ کوئی کہانی ہو، داستان ہو یا قصہ ہو، آپ پڑھتے پڑھتے تھک جائیے گا لیکن قرآن کریم کی تلاوت سے آپ کو تھکاوٹ کے بجائے لطف حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ مخالفین نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے اور اس پر حیرت ظاہرکی ہے۔

Akhtar Adil Gilani Discussed Seat Patna

Akhtar Adil Gilani Discussed Seat Patna

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جامع مسجد مرادپور پٹنہ کے امام و خطیب مولانا غلام اکبر قاسمی نے کہا کہ قرآن کریم کی تشریح کے لئے جتنی کتابیں لکھی گئیں اتنی کتابیں کسی دوسرے مذاہب میں نہیں لکھی گئیں۔ یہ قرآن کا معجزہ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ اس سے جو لوگ جتنا رشتہ جوڑیں گے قرآن اس سے اتنا ہی جڑے گا۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ اختر عادل گیلانی کی اس کتاب کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں علمائے کرام کی بڑی خدمات رہی ہیں اور مدارس اسلامیہ نے ایمان کو بچائے رکھا ہے ۔ اگر مدارس اور خانقاہیں نہ ہوتیں تو آج اسلام کچھ اور ہی شکل ہوتی ۔ ممتاز خطیب ابو نصر فاروق نے کہا کہ اخترعادل گیلانی محقق ہیں۔

وہ جو کچھ لکھتے ہیں تحقیق کے ساتھ لکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے انبیائے کرام کی کہانیاں لکھی ہیں لیکن اختر عادل گیلانی کا انداز سب سے منفرد ہے۔ ماہر تعلیم پروفیسر محفوظ الرحمن اختر نے اس کتاب پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے جو بھی کام کیا جائے وہ عبادت ہے۔ اس لئے اس کتاب کی تصنیف بھی عبادت ہے۔ حافظ فیروز احمد نے کہا کہ اختر عادل گیلانی تحریک اسلامی معاشرہ کے بانی ڈاکٹر سید ضیاء الھدیٰ کے اسکول کے پروردہ ہیں ا سلئے ان کے کام اور ان کی تحریریں بھی دعوتی ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ اختر عادل گیلانی کی کتاب چونکہ دعوتی ہے ا سلئے آج کی یہ نشست بھی دعوتی مشن کا حصہ ہو گئی ہے۔ اس موقع پر کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے کہا کہ ہر دو رمیں نظریہ توحید اور نظریہ کفر میں تصادم رہا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی دراز ہے اور قیامت تک رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اختر عادل گیلانی کی اس کتاب سے نئی نسل کو زیادہ فائدہ حاصل ہوگاکیوں کہ انہوں نبیوں کے حالات جاننے کیلئے قرآن کے مختلف صفحات کھنگالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

Akhtar Adil Gilani Discussed Seat Patna

Akhtar Adil Gilani Discussed Seat Patna

نشست کا آغاز حافظ رمان غنی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور اسامہ غنی نے بارگاہ رسالت مآبۖ میں نعت کا نذرانہ پیش کیا۔ نشست میں صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید حیات، سید شکیل حسن، ڈاکٹر منور گیلانی، سرفراز عالم ، نصر بلخی، معین کوثر، ڈاکٹر عبدالواحد انصاری، ضیاء الرحمن ، انور امام غزالی، مشتا ق احمد، خورشید عالم ایڈوکٹ، نوشاد عالم، شاہد انور، انوار الہدی، وکیل حسن، ڈاکٹر محبوب اقبال، اسماعیل حسنین نقوی، پروفیسر محمد شفاعت، مظفر زاہدی، ارشد اقبال، ارشد امام اور صدر الحق سمیت کافی تعداد میں اہل ذوق حضرات موجود تھے۔