سانحہ ماڈل ٹائون کی دوسری برسی پر PAT یورپ کا جرمنی میں پاکستانی سفارتخانہ کے سامنے مظاہرہ

PAT Europe, Mruzahira, Model Town Incident, 17.06.16, Pak. Emb., Berlin

PAT Europe, Mruzahira, Model Town Incident, 17.06.16, Pak. Emb., Berlin

جرمنی (انجم بلوچستانی) برلن بیوروا ور مرکزی آفس برلن MCBیورپ کے مطابق دو سال قبل ١٧ جون ٢٠١٤ء کو منہاج القرآن انٹرنیشنل پاکستان کے مرکزی سکریٹر یٹ ،ماڈل ٹائون لاہورپر حکومت پنجاب کے احکامات کے مطابق پولیس کے دھاوے ، آنسو گیس کے بے دریغ استعمال،سکریٹریٹ پر جمع عوام کو گولیوں سے بھون د ینے ،معصوم ا فرا دوبیگناہ کارکنوں کی ناجائزگرفتاریوں اوران پر جھوٹے مقدمات کے خلاف پوری دنیا میںسانحہء ماڈل ٹائون کی دوسری برسی پر PAT، MQI اور انصاف پسند پاکستانیوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔اس سلسلے میںپاکستان عوامی تحریک کی جانب سے یورپی ممالک میںمظاہرے اوراجلاس منعقد ہوئے۔

چیف کوآرڈینیٹرپاکستان عوامی تحریک یورپ محمد شکیل چغتائی کے اعلان کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں١٧ جون ٢٠١٦ئ، بروز جمعہ،بوقت ٣بجے سہ پہر سفارتخانہء اسلامی جمہوریہ پاکستان،شیپر اشٹرسے٢٩ کی عمارت کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میںجرمنی و برلن کی پاکستانی و کشمیری سیاسی،سماجی،مذہبی اورطلباء کی تنظیمات ،پارٹیوں اور عام پاکستانی و کشمیری افرادنے حصہ لیا۔ سابق صدرانجمن پاکستان ،ہیومن کیر اسٹفٹنگ پاکستان/جرمنی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرریاست خان؛پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے سینئر رہنما سید مجاہد حسین شاہ،سینئر رہنما قیصر ملک، رہنماملازم حسین اور دیگر ارکان ؛پاکستان عوامی تحریک برلن کے شیخ صلاح الدین،عمیر سعید،محمد اکرم ،عاصم شہزاد؛ جرمن پاکستان فورم کے ریجنل سر براہ بر لن،وزیر حسین ملک؛منہاج الحسین برلن کے صدملک صفدرر علی؛انجمن جعفریہ کے سینئر نائب صدرسید فرحت شیرازی؛ جامع مسجد منہاج القرآن کے امام و خطیب،علامہ طارق علی؛سابق صدرMQI جرمنی فیض احمد،MQI برلن کے صدر میاں عمران الحق، جنرل سکریٹری محمد ارشاد،خازن محمد رفیق،چوہدری اشتیاق،محمد عارف،محمد اشرف، ذیشان احمد،کریم چیمہ، میاںافتخار؛منہاج وومن لیگ کی بیگم کے ایچ تارڑ،بیگم ایس چغتائی ،بیگم محمد اشرف ؛ منہاج یوتھ لیگ کے وجاہت علی تارڑ ، محمد علی،شعیب افضل،محمداشرف تارڑاور منہاج چائلڈ لیگ کے پرنس ایربکان چغتائی و پرنسس فصیحہ چغتائی؛فری کشمیر آرگنائزیشن کے صدر صدیق کیانی نے اپنی تنظیمات وسربراہ ویب سائٹ پاکبان انٹر نیشنل ،پیپلزپارٹی کے سینئر کارکن ظہور احمدنے صحافیوں کی نمائندگی گی۔

مظاہرہ کی صدارت مشہور و معروف عالمی ایشین صحافی و شاعر،پاکستان عوامی تحریک یورپ کے سینئر رہنما و چیف کوآرڈینیٹر،تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کے میڈیا کوآرڈینیٹر برائے یورپ،چیر مین ایشین جرمن رفاہی سوسائٹی و سرپرست منہاج میڈیا کوآرڈینیشن بیورویورپ ،محمد شکیل چغتائی نے فرمائی اور نظامت کے فرائئض PATبرلن کے نوجوان کارکن سمیر سعید نے سر انجام دئے۔مہمان خصوصی ، مظاہرہ کے معاون، پاکستان عوامی تحریک جرمنی کے سینئر رہنما و سینئر نا ئب صدرPATجرمنی، صدر مجلس شوریٰ MQI برلن،خضر حیات تارڑ تھے۔ مظاہرہ کاآغازحبیب الرحمٰن کی تلاوت کلام مجید سے ہوا۔سمیر سعید نے اس مظاہرہ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے پاکتان میں ہونے والے سرکاری و غیر سرکاری دہشت گردی کے متاثرین سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ خضر حیات تارڑ نے جملہ شرکاء کو خوش آمدید کہا۔پھر مجاہد شاہ نے پیپلز پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے اس بر بریت اور پاکستان کی تاریخ میںپہلے عوامی قتل عام کی مذمت کی اوراس جدوجہد میںپاکستان عوامی تحریک کابھر پور ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔

اسکے بعد صدیق کیانی نے ان مظالم ونا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کی اور اسے پوری قوم کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی تمام جماعتوں کواسکی تائید میں کھڑے ہونے کی تلقین کی۔ملک صفدر علی نے منہاج الحسین کی جانب سے PATکے جائز مطالبات کے حصول کی خاطر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عہد کیا۔میاںعمران الحق نے جذباتی انداز میںتقریر کرتے ہوئے تحریک منہاج القرآن اور تحریک پاکستانی عوامی تحریک کے اس مشترکہ واندوہ ناک نقصان عظیم پر غم کا اظہار کیا۔انہوں نے ان مقاصد کے حصول کے لئے مرتے دم تک ہر قسم کی قربانی دینے کا عہد کیا اور PATکے ذمہ داران کو اس مظاہرہ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ خطیب وامام جامعہ مسجدمنہاج القرآن برلن، علامہ طارق علی نے اپنے خیالات کااظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ”سانحہ ماڈل ٹائون کے متاثرین کی اب تک دادرسی نہ کرناحکومت کی نااہلی وبد دیانتی کا ثبوت ہے۔شہداء کے وارثین اپنے حق کے لئے کسی قسم کے ہتھکنڈوں میں نہیں آئیں گے۔وہ عدل و انصاف کے متلاشی ہیں ، ہم ا س جدوجہد میںپیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

خضر حیات تارڑ نے اپنی تقریر کا آغاز ان اشعار سے کیا: عزت کسی شخص کی محفوظ نہیں ہے٭اب تو اپنے ہی نگہبانوں سے ڈر لگتا ہے ڈنکے کی چوٹ پر ظالموں کو برا کہتا ہوں٭مجھے سولی سے نہ زندانوں سے ڈر لگتا ہے۔ انہوں نے حکو مت کے غیرجمہوری، غیرقانونی،غیراسلامی و جانبدارانہ رویہ کو پاکستان کی جمہوریت پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیا اور اسکے خلاف آخری حد تک جانے کا اعلان کیا اورکہا کہ” ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میںظلم کی یہ اندھیری رات بہت جلد ختم ہوگی۔ہم حکومت کی کوئی دھمکی اور لالچ قبول نہیں کریں گے۔ ہم ، ہمیشہ کی طرح اپنے قائد کے پیچھے متحدہیںاوراس راہ میںقربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔”

اختتامی خطاب کرتے ہوئے منتظم اعلیٰ محمد شکیل چغتائی نے مظاہرہ میں شامل تمام تنظیمات کے نام لے کران کاشکریہ ادا کیا جنہوں نے ایک مختصر نوٹس پرشریک ہو کر اس مظاہرہ کو کامیاب بنایا،جو جرمنی کی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے بیداریء شعور کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ ”پاکستان عوامی تحریک پاکستان میں عدل و انصاف،حقیقی جمہوریت اور نظام مصطفےٰ کے نفاذ کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔اسی لئے آج کا یہ مظاہرہ صرف ماڈل ٹائون کے شہداء اور متاثرین کے لئے نہیں بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کے شکاران تمام افراد کیلئے ہے، جو برسوں سے اپنے جائزحقوق اور انصاف کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔”

انہوں نے ١٧ جون ٢٠١٤ء کے تاریخی واقعہ کو یاد کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ”ہم نے تہیہ کر لیا ہے کہ اب ہم شہدائے ماڈل ٹائون کو قصاص دلائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ،حکمرانوں کے خلاف کٹنے والیFIRمیں وزیر اعظم پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب،مرکزی وزیر داخلہ، مرکزی وزیر دفاع،مرکزی وزیر ریلوے، پنجاب کے صوبائی وزیر قانون ، دیگر وزراء ،سول بیورو کریسی اور اعلیٰ پولیس حکام کے نام موجود ہیں ،جن پر لگائے جانے والے الزامات کی روشنی میںغیر جانبدارانہ تحقیقات،ثبوت کی فراہمی اور سزا پر عمل درآمدPATکی نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے، جو اس کو پورا نہیں کر رہی، لہٰذا مجبو ر ہوکرہم پوری قوم کی طرح اس معاملے کے حل کے لئے افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔”

شکیل چغتائی نے کہا کہ”یہ کوئی جمہوری روایت نہیں ہے، تاہم جب ملک کے حکمران جمہوریت کا کھلم کھلا مذاق اڑاتے ہوئے من مانی پر اتر آئیں، تو عوام عدل و انصاف کی فراہمی کے لئے دیگر مقتدر قوتوں سے توقعات باندھ لیتے ہیں۔یوں بھی اسFIRکا اندراج جنرل راحیل شریف کی مداخلت سے ہی ممکن ہوا تھا،تو اب ان سے مدد طلب کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟” انہوں نے امید ظاہر کی کہ” پانامہ پیپرز کے دھماکے کے بعدشہدئے ماڈل ٹائون کے وارثین کا مطالبہء قصاص ملک کو ان کرپٹ حکمرانوں سے نجات کا ذریعہ بنے گا اور قائد انقلاب پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کی جرات مندانہ،مدبرانہ ،عالمانہ اور حکیمانہ قیادت میںانقلاب کا سورج جلد طلوع ہوگا۔انشااللہ۔”

انہوں نے اس شعر پراپنے خطاب کو ختم کیا: ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ٭ خون پھر خوں ہے،ٹپکتا ہے تو جم جاتا ہے مظاہرے کے شرکاء نے جو پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، ان میں کچھ پر پرپنجاب پولیس کے قتل عام کی جھلکیاں چسپاں تھیں اورباقی پر”ماڈل ٹائون کے شہداء کاخون ناحق رائیگاں نہیں جائے گا”،”ملک میں عدم ا ستحکام،عدم برداشت، عدم اطمینان اور لاقانونیت پر قابو پانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے”،”پاکستان میںمذہبی،لسانی،سیاسی انتہا پسندی ناقابل برداشت ا ور قابل مذمت ہے۔”،” ہم دنیا میں ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں”،”پاکستان عوامی تحریک،منہاج القرآن انٹرنیشنل ا ور پاکستان میں سرکاری دہشت گردی کے شہداء کوانصاف کب ملے گا؟؟؟”،” ہم پاکستان میںہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مہم کی پرزور حمائت کرتے ہیں”،”ظالمو جواب دوظلم کا حساب دو”،”عوام پر سرکاری و غیر سرکاری تشدد بند کرو ”کے نعرے درج تھے۔

ایک بڑے بینر پر” ١٧ جون ٢٠١٤ء کو لاہور میں تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سکریٹریٹ،ماڈل ٹائون پر ہونے والے سرکاری جبروتشدد اورقتل وغارت کی یاد میںپاکستان عوا می تحریک، یورپ کا پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے تعاون سے حکومتی ناانصافی اور ظلم و ستم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ” اور دوسرے پرڈاکٹرطاہرالقادری کی تصویر کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک،یورپ تحریر تھا۔ پاکستان عوامی تحریک کے جھنڈوں کی خاصی تعداد موجود تھی۔آخر میں پاکستان عوامی تحریک یورپ کے کوآرڈینیشن بیورو،برلن کی تیار کردہ قرارداد چیف کوآرڈینیٹڑ PATیورپمحمد شکیل چغتائی نے پیش کی ،جومتفقہ طو پر منظور کر لی گئی۔جسے بعد میں ایک وفد کی صورت میں سفارتخانہء اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے فر سٹ سکریٹری تنویر احمد بھٹی کے سپرد کیا گیا۔

مظاہرہ کی تصاویراپناانٹرنیشنل کے انجم بلوچستانی، ایربکان چغتائی، فصیحہ چغتائی وعاصم شہزاد نے اتاریں،جبکہ ویڈیو فلم وجاہت علی نے بنائی۔