انصار برنی ایڈوکیٹ کی بارسلونا بار کونسل میں ہونیوالے سیمنار میں شرکت

Barcelona

Barcelona

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) پاک انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل کے سربراہ اور بین الاقوامی سفیر برائے امن و انسانی حقوق انصار برنی ایڈوکیٹ نے بارسلونا بار کونسل میں ہونیوالے سیمنار میں شرکت کی۔ جس کا موضوع ’’سیاسی پناہ، انسانی حقوق اور ریاستوں کا کردار‘‘ تھا۔ سیمینار میں تمام یورپی ممالک کے وکلاء نے بھی شرکت کی اور انصار برنی کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ واحد وکیل تھے جو یورپی ملک کی طرف سے نہیں بلکہ پاکستان کی نمائندگی کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہو ئے انصار برنی ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ آزادی کا نظریہ ہے کہ جس کے تمام انسان یکساں طور پر حقدار ہیں۔خطوں، معاشروں اور ترقی کے پیمانوں کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات اور حقوق کی اشکال تبدیل ہوتی ہیں۔ جنیوا کنونشن کے تحت ایساشخص یورپ میں اسائلم کا دعوی دائرکرسکتا ہے جس کی قانونی پہچان اسائلم سیکر کی حیثیت سے کی جاتی ہے جبکہ اسائلم منظور ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ،کسی شخص کو جان کے خطرے کی وجہ سے رکنے کی اجازت دی جائے۔

پناہ مانگنے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دعوے کو صحیح ثابت کریاگر کیس مضبوط نہ ہو تو ناکافی شواہد کی بنیاد پر پہلے مرحلے پر ہی کیس مسترد ہو سکتا ہیجبکہ زیادہ ترایسے کیسوں کی اپیلیں بھی مسترد ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانوں کو حدود میں نہیں باندھا جاسکتا اور ہمیں وکلاء کو انسانوں کے حقوق کیلئے ڈٹ جانا چاہیے۔ انصار برنی ایڈوکیٹ نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں خود یورپین اقوام مہاجرین بنیں تھیں اور انہوں نے اپنے ممالک سے دوسرے ممالک میں نقل مکانی کی تھی اگر مہاجرت اس وقت جائز تھی تواب ناجائز کیوں ہے؟۔انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو شامی اور دیگر جنگ زدہ ممالک کے مہاجرین کیلئے اپنے دروازے کھولنے چاہیں اور ان کو تما م حقوق دو اور ان کو انسانی تقسیم میں مت بانٹو۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مہاجر خوشی سے اپنے ملک اور گھر کو نہیں چھوڑتا۔انہوں نے کہا کہ یورپ جمہوریت کا دعویدار ہے اور اسے انسانی حقوق کیلئے بڑھ چڑھ کر بات کرنا چاہیے تھی مگر یورپ میں بارڈرز اور راستے بند کر کے انسانوں کی تذلیل کی جارہی ہے۔ سیمنار سے میڈرڈبار کی رکن نے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سپین نے پندرہ ہزار مہاجرین لینے کا دعوی کیا تھا اور ابھی تک صرف سولہ مہاجرین سپین آئے ہیں۔

انصار برنی سے دنیا نیوز کے نمائندہ بارسلونا ڈاکٹر قمرفاروق نے سیمینار کے حوالہ سے خصوصی انٹرویو کیا جس میں انصار بر نی نے مختلف سوالو ں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔
1 ۔اسائلم اور مہاجرین کے موضوع پر ہو نے والا سیمینار سے آپ کیا توقعات رکھتے ہیں۔
2۔شامی مہاجرین جو یورپی ممالک کی سرحدو ں پر سردی میں اپنے جان و مال کو داؤ پر لگا ئے بیٹھے ہیں انصار بر نی ٹرسٹ ان کے لئے کیا کر
رہا ہے؟
3۔اسپین کی مختلف جیلو ں میں قید پاکستانیو ں کی حالتِ زار پر بھی کوئی بات ہو ئی؟
4 ،بارسلونا کے نواحی علاقہ لگرونیو میں پولیس نے چار رکنی پاکستانی انسانی اسمگلنگ گروپ گرفتار کیا ہے جو شامی مہاجرین کے ساتھ پاکستانیو ں کو بارڈر کراس کراتا تھاایسے لوگو ں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟