ہمارا بے حس معاشرہ

Qandeel Baloch

Qandeel Baloch

تحریر : کومل سعید
گذ شتہ دنوں ماڈلنگ کی دنیا کی گرل ماڈل قندیل بلوچ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا اور اس قتل کو غیرت کے نام پہ قتل قرار دیا گیا۔قند یل کو ن تھی کیا تھی کو ئی نہیں جا نتا تھا مگر اس کے قتل کے بعد اس کے گھر یلو پس منظر کو دیکھ کر عقل د نگ رہ گئی کہ اس قدر پسما ندہ علا قے کی لڑ کی اور اس قدر آ زاد ماحول میں آ خر کس طرح پہنچا گئی۔اس کے گھر یلو پس منظر نے سب کو حیران کیا مگر عقل ر کھنے والے خو ب جا ن گئے کہ اسی طرح کے ما حول میں گھٹن محسوس کر نے والی،دولت کے خواب دیکھنے والی نے راہ فرار چا ہی اور اپنے حا لا ت کو بد لنا چا ہا اس کے لئے جو جو طر یقے استعمال کئے گئے وہ اس کی نظر میں درست تھے۔غر بت کے راستے پہ محض عزت کا لبادہ اوڑ ھ لینے سے پیٹ کی آ گ کو نہیں بجھایا جا سکتا بس اسی پیٹ کی خا طر اپنے گھر کی خو شحالی کی خا طر خود کو اپنی عزت نفس کو بھول کر اس راستے کو اختیار کیا جو ہم سب کی نظروں میں ناجا ئز ہے۔۔

مگر ذرا ہم اس کے اعما ل کو نا جا ئز کہنے والے اپنے گر یبانوں میں بھی جھا نک کے د یکھیں کہ کیا ہم بھی اس معا شرے کا وہ کردار نہیں کہ اس کی نیم عر یاں تصا و یر دیکھ کر محظوظ ہو ئے،اس کے ہر معا ملے کو میڈ یا نے اتنا بڑھاچڑ ھا کر بیان کیا اور اس قدر تشہیر کی کہ با آخر وہ راہ عدم کو چل دی۔اور میڈ یا بر ی الذ مہ ہو گیا۔مر حو مہ کے جنا زے میں سو افراد بھی شر یک نہ ہو سکے جبکہ نیم عریاں تصاویر میں ہزاروں کے حساب سے لا ئک ملتے تھے اور لا ئک دینے والے اس کی حو صلہ افزائی کر نے ہمارے ہی معا شرے کے لو گ ہیں۔

یہ لو گ بھی وہ لو گ ہیں جو سفید کر تا پہنے سر پہ دستار با ند ھے با ہر مہذ ب کہلا تے ہیں اور بند کمروں میں اسی ما ڈل کے سا تھ تصاویر بنوانے میں پیش پیش ر ہے،شراب کے جام بھر بھر کے پیتے پلا تے رہے اور آ ج فر ما رہے ہیں کہ مجھے پھنسایا جا رہا ہے۔۔ان کے کردار کے لئے بس اتنا ہی کا فی ہے کہ
دستار کے ہر تار کی تحقیق ہے لا زم
ہر صاحب دستار معزز نہیں ہو تا

Society

Society

ہما رے معا شرے کے بگاڑ میں ہما را میڈ یا صف اول میں شا مل ہو چکا ہے پہلے خود تشہیر کر تا ہے پھر خبر نشر کر کے قصہ ختم کر دیتا ہے،ماڈ لنگ کی نیم عریاں دنیا کی جھلکیاں میڈ یا انڈ ین گا نوں کی لہک پہ دیکھتا ہے کہ کیٹ واک پہ ما ڈ لنگ کر تی لڑ کیوں نے جلو ے بکھیر دیئے ہیں تو ظا ہر کہ قند یل جیسی پسما ندہ علا قے کی لڑ کیاں تو اس دینا میں آ نے اور شہر ت و پیسے کیلئے ہر حر بہ اختیا ر کر یں گی اس بات سے بے خبر کہ انجام ایسا بہیمانہ قتل ہو گا۔میڈ یا آ زاد ہے اس کیلئے کو ئی قا نون لا گو نہیں جو اس کی اصلا ح کر سکے یا اس قسم کے فعل سے روک سکے۔قند یل مر حو مہ کے بھا ئی نے غیر ت کے نا م پہ قتل کیا ویسے قا بل غور با ت تو یہ ہے کہ بیٹی کا بہن کا کھا تے ہو ئے غیرت کہاں چلی گئی؟اور یہ کو ئی ایک قند یل نہیں تھی۔

اس سے قبل بھی کئی قند یلیں غیرت کی ہوا سے بجھ گئیں مگر اس غیر انسا نی فعل پہ کو ئی حکو متی ردعمل سا منے نہیں آ یااسی بناء پہ غیر ت مند بھا ئی بہنوں کو قتل کر کے آ زاد گھو م رہے ہیں اور قند یلیں بجھ رہی ہیں اگر یہ صورت حال اسی طرح جاری رہی تو یہ بے حس معا شرہ تا ریکیوں میں ڈوب جا ئے گا۔قند یل مرحو مہ نے اپنی ز ند گی میں جو کچھ کیا وہ ان کا اپنا فعل تھا اب اس کا اور اللہ پا ک کا معا ملہ ہے اور میرا رب بہت عظیم ہے وہ انسان کی بخشش کر نے پہ آ ئے تو روٹی کے ایک ٹکڑ ے کے عوض کر دے اور پکڑ کر نا چا ہے تو بھی معمو لی سی گناہ پہ پکڑ لے۔

ہمیں بھی موت کا ذائقہ چکھنا ہے لہذا ہمیں اس کے حق میں دعائے مغفرت کر نی چا ہیے۔او رغیر ت کے نام پہ قتل کی پُر زور مذ مت کر نی چا ہیے۔حکو مت کو چا ہیے کہ وہ غیرت کے نام پہ قتل کو خلاف قرار دار پاس کر ے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جا ئے۔اللہ ہم سب کو ہدایت عطا کر ے اور مر حومہ کی بخشش کر ے۔آمین۔

Komil Saeed

Komil Saeed

تحریر : کومل سعید