دارالمصنفین ،اس کے معمار ،رفقا اور خدمات کے موضوع پر دوروزہ سمینار کا آغاز

Daralmusanfin Seminars

Daralmusanfin Seminars

اعظم گڑھ: علامہ شبلی نے سیرت نگاری اور سوانح کے جو اصول وضع کیے تھے وہ بعد کے سیرت نگاروں کے لیے رہنما ثابت ہوئے اور علامہ کے بنائے ہوئے انھیں اصولوں کو سیرت نگاروں نے رہنما بنایا ۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر یسین مظہر صدیقی نے شبلی اکیڈمی کے زیر اہتمام ”دارالمصنفین ،اس کے معمار،رفقا اور خدمات ”کے موضوع پر منعقدہ دوروزہ سمینار کے افتتاحی اجلاس میںکلیدی خطبہ کے دوران کیا۔

اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر اشتیاق احمد ظلی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔حافظ قمر عباسی نے تلاوت کلام پاک کا فریضہ انجام دیا ۔جلسے کی نظامت سینئر رفیق مولانا محمد عمیر الصدیق ندوی نے کی۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے فرمائی جبکہ پروفیسر خالد محمود نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔

Daralmusanfin Seminars

Daralmusanfin Seminars

پروفیسر یسین مظہر صدیقی نے کہاکہ شبلی کی تحریریں دارلمصنفین کی اساس ہیں ۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ تاریخ کو تاریخ کی حد تک دیکھنے کے بجائے حال میں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور شبلی یہی چاہتے تھے بدقسمتی سے بعد کے لوگوں نے اس کا خیال نہیں رکھا ۔انھوں نے کہا کہ سوانح عمریوں ،سیرتوں اور تذکروں کا طویل سلسلہ دارالمصنفین کااہم علمی کارنامہ ہے جو اس نے دنیا ئے علم و ادب کو عطا کیا ہے۔

انھوں نے مقدمات اصول تاریخ نویسی ،مقدمات سیرت نگاری،سیرت نگاری ،سوانح عمری ،تاریخ ،تعلیم ،تدریس،تاریخ علوم و فنون،تمدنی وسماجی تاریخ ہند ،مسلم ہندستان کی تاریخ،تاریخ اسلام نگاری جیسے ذیلی عناوین کے تحت انھوں نے اپنی بات پیش کی اور اس بات پر زور دیا کہ علوم و فنون اور مسلم ثقافت کے گوناگوں پہلووں کے مطالعات میں تاریخ کا سرنامہ چھایا ہوا ہے۔

مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ اس ادارے کی خدمات ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہیں ،ایک عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ مطالعات تازہ اور روشن ہیں۔

Daralmusanfin Seminars

Daralmusanfin Seminars

صدارتی خطاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کہاکہ جب ہم اکیڈمی کی سوبرس کی خدمات کو دیکھتے ہیں تو علمی انہماک کی ایک روشن مثال ہمارے سامنے آتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ادیب و دانش ور حالات کے گردو پیش سے بے خبر نہیں رہ سکتا اور اسی لیے حالات کا ایک سخت تجزیہ بھی ان تصنیفات میں نظرآتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ برادران وطن کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے شبلی اکیڈمی نے جو لٹریچر تیار کیا ہے ضرورت ہے کہ اس کو برادران وطن کی زبانوں میں عام کیا جائے اور اتحاد و یگانت کی ایک خاص فضا قائم ہو۔

ابتدا میں مہمانوں اورحاضرین کا استقبال کرتے ہوئے اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر اشتیاق احمدظلی نے کہا کہ اس ادارہ نے تحقیق و تصنیف کی جو روایت قائم کی اور اس کے بانیان نے علم و ادب کی جس کہکشاں کو آگے بڑھایاکافی کام کرنے کے باوجود ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں نئے وژن کے ساتھ اس صدی میں آگے بڑھنا ہوگا ۔اس موقع پر پروفیسر اشتیاق احمد ظلی نے لوگوں سے اس مشن میں شامل ہونے کی اپیل کی تاکہ جدید زمانے کے تقاضوں سے فائدہ اٹھایا جاسکے ۔اس موقع پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میری خواہش ہے کہ اگر وسائل مزید میسر ہوجائیں تو یہاں پر ”ہندستانیت ”کا ایک شعبہ قائم کیا جائے، جس میں ہندستان کی تاریخ ،زبان ،تہذیب اور مذاہب پر منصوبہ بند طریقہ سے کام کیا جائے ٠اس موقع پر کلیم صفات اصلاحی نے سیرت نگاری مقابلے کی رپوٹ پیش کرتے ہوئے مقابلے کے نتائج کا اعلان کیا۔

Daralmusanfin Seminars

Daralmusanfin Seminars

افتتاحی اجلاس کے بعد دوسرے سیشن کی صدارت پروفیسر شہپر رسول نے فرمائی اور نظامت کے فرائض مولانا اشہد رفیق ندوی نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں پروفیسر عبدالقادرجعفری نے موانا سید سلیمان ندوی کی فارسی خدمات کا احاطہ کیا، پروفیسر علی احمد فاطمی نے دارالمصنفین اور اس کے بانی کے حوالے سے بتایا کہ سماجی شعور کا ایک ممتاز ادارہ ہے۔ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے دارالمصنفین کی قرآنی خدمات کے عنوان سے مقالہ پڑھا۔ انھوں نے شبلی اکیڈمی کی قرآنی خدمات کا احاطہ کیا نیز ان خدمات کو نمایاں کرنے پر زور دیا۔

ڈاکٹر احسان اللہ فہد نے سید سلیمان ندوی کی قرآنی خدمات پر مقالہ پڑھا۔ پروفیسر ابو سفیان اصلاحی نے مقالات سلیمانی کے جلد سوم کے تنقیدی جائزے میں سید صاحب کی قرآنی فکر کو خاص موضوع بنایا۔ڈاکٹر عمیر منظر نے دارالمصنفین اور ندوة العلما کے جائزے میں کہا کہ ادارہ جاتی تعاون اور اشتراک کے لحاظ سے یہ دونوں ادارے اپنی مثال آپ ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ شبلی اکیڈمی اور اس کے وابستگان نے شبلی کے بعد ندوة العلما کی تعمیر ،تنظیم اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔

Daralmusanfin Seminars

Daralmusanfin Seminars

ڈاکٹر محمد جمشید ندوی نے مولانا ضیاء الدین اصلاحی کی علمی خدمات کا احاطہ کیا۔سلمان فیصل نے ہندوستانی قومیت اور دارالمصنفین کے موضوع پر مقالہ پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ کثیر لسانی ارو ثقافتی ملک ارو زبان کو علمی سطح پر شبلی اکیڈمی کے مصنفین نے جس طرح متعارف کرایا ہے ضرورت ہے کہ برادران وطن کے سامنے ان تمام لٹریچر کو انھیں کی زبان میں پیش کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ تہذبی اور ثقافتی سطح سے کہیں زیادہ دارالمصنفین کے لٹریچر نے کہیں زیادہ متحدہ ہندوستانیت کے نقوش ابھارنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر محمد شارق نے سید سلیمان ندوی کی ادبی خدمات خاص طور سے سوانحی ادب کا ذکر کیا۔ محمد اسماعیل نے دارالمصنفین کی غیر فرقہ وارانہ حیثیت پر مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر شہپر رسول نے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ان مقالوں کی روشنی میں اتنی بات واضح ہے کہ اس اکیڈمی نے مذہبی تعلیم اور علوم کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی علوم پر بطور خاص توجہ دی۔ اکیڈمی کی ہمہ گیریت ہی اس کا معیار اور اعتبار ردونوں ہیں۔