العظیم لائبریری کے زیر اہتمام نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد

Al Azim library Organized Naatia Mushaira Holding

Al Azim library Organized Naatia Mushaira Holding

پٹنہ (پریس ریلیز) العظیم اورینٹل لائبریری پھلواری شریف ، پٹنہ کے زیر اہتمام ایک شاندار نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرہ کی صدارت سلطان اختر نے کی جبکہ نظامت کے فرائض کامران غنی صبا نے انجام دئیے۔ مشاعرہ میں اشفاق احمد ساقی، کاظم رضا، جمال ندولوی،کامران غنی صبا، ظفر صدیقی، اصغر حسین کامل، میر سجاد، ناشاد اورنگ آبادی، جنوں اشرفی، قوس صدیقی، خورشید اکبر، پروفیسر اعجاز علی ارشد اور سلطان اخترنے اپنے نعتیہ کلام پیش کیے۔ اس موقع پر العظیم اورینٹل لائبریری کے بانی سابق اے ڈی ایم محمد عظیم الدین، لائبریری کے چیئرمین مشتاق احمد نوری، ڈاکٹر اکبر علی، پروفیسر شائستہ انجم نوری، جاوید اقبال، مہر النساء سمیت کثیر تعداد میں دانشوران شہر اور باذوق سامعین موجود تھے۔لائبریری کے چیئر مین مشتاق احمد نوری نے لائبریری کا تعارف پیش کیا اور لائبریری کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔محمد عظیم الدین کے شکریہ کے ساتھ مشاعرہ کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ مشاعرہ میں پیش کیے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے۔

سلطان اختر
مثل گُل کھل اٹھیں گے عارض و گل
مل کے دیکھو تو خاک پائے رسول
پروفیسر اعجاز علی ارشد
فخرِ وجود شافعۂ روزِ جزا کے بعد
کس کو بنائیں دوست حبیب خدا کے بعد
خورشید اکبر
زباں پہ ذکر نبی منور، نظر میں رحمت مدام روشن
شہ جہاں کی تجلیوں سے زمیں پہ چرخ دوام روشن
قوس صدیقی
تاباں ہے جس کے نام سے عظمت کا اعتبار
اس ذات پر نثار ہے فطرت کا اعتبار
جنوں اشرفی
خدا سے جب کسی کا رابطہ معلوم ہوتا ہے
محمد مصطفی کا واسطہ معلوم ہوتا ہے
ناشاد اورنگ آبادی
یا نبی لب پہ آیا ہے نام آپ کا
نعت خواں آج ہے یہ غلام آپ کا
ظفر صدیقی
رہتے ہیں مہذب بھی ملتے ہیں مؤدب بھی
ہو جاتے ہیں دیوانے ہشیار مدینے میں
عطا عابدی
مرے نبی کا یہ مرتبہ ہے
حیات اُن سے حیات پائے
میر سجاد
سنا ہے وہ مسیحائے زمانہ بن کے نکلا ہے
جسے بخشی گئی ہے دل کی دولت یا رسول اللہ
اصغر حسین کامل
بصد نیاز بصد احترام لینا ہے
خدا کے بعد محمد کا نام لینا ہے
جمال ندولوی
ہو جاتا مقدر سے جو دیدار مدینہ
اک پل میں سنبھل جاتا یہ بیمار مدینہ
کاظم رضا
تری ثنا ہو بیان ہم سے
کہاں میری مجال آقا
کامران غنی صبا
مری زندگی کا ہر اک عمل شہ انبیا کا ہو آئینہ
نہ ہو اتباعِ نبی اگر تو عبث ہے دعویٔ عاشقی
اشفاق احمد ساقی
بکھری پڑی ہوئی ہے یہ امت رسول کی
چھوڑی ہے جب سے اس نے اطاعت رسول کی