اعظمیٰ دیشمکھ نے دسویں انگریزی میڈیم سے 100 فیصد نمبر حاصل کر اسکول میں ٹاپ کیا

Uzma Deshmukh

Uzma Deshmukh

مہاراشٹر (ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ) مقامی نیپا نگر ضلع برہانپور کی ہونہار طالبہ اعظمیٰ دیشمکھ دخترعبدالناصر عبدالسلام دیشمکھ نے امسال کے سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس سی) کے دسویں کے امتحان میں ١٠٠ فیصد پوائنٹس، ١٠ سی جی پی اے رینک حاصل کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کی۔ اعظمیٰ دیشمکھ نے مقامی سینٹر ل انگریزی میڈیم اسکول نیپانگر ضلع برہانپور میں ٹاپ مقام حاصل کیا۔

اعظمیٰ دیشمکھ نے تمام مضامین میں A1 گریڈ حاصل کیا ہے۔ مقامی نیپا لمیٹیڈ پیپر مل میں بحیثیت جنرل منیجر (پروجیکٹ ) اور پاچورہ ضلع جلگائوں مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے عبدالناصر دیشمکھ کی صاحبزادی ہے۔ پاچورہ ضلع جلگائوں کی معروف شخصیت مرحوم ایڈوکیٹ عبدالسلام دیشمکھ عرف بابوجی کی پوتی اور معروف ایڈوکیٹ جناب عبدالوہاب دیشمکھ پاچورہ کی بھتیجی ہے۔ نیپا نگر پیپر مل لمیٹیڈ کے چیرمین و ڈائریکٹر بریگیڈیئر ایس کے مٹریجہ اور کالج کے پرنسپل نے اعظمیٰ دیشمکھ کے ساتھ ان کے والدین کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی ہے۔

گلدستہ پیش کر اس کا استقبال کیا گیا۔ اس کے علاوہ فیکٹری کے اعلیٰ عہدہ دار، سماجی ، سیاسی افراد نے بھی گھر پہنچ کر قابل فخر کامیابی پر اعظمیٰ اور اس کے والدین کو مبارکباد پیش کی ہے۔ اعظمیٰ دیشمکھ نے اس نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی شکر گذار ہوں کے اس نے مجھے کامیابی سے ہمکنار کیا ساتھ ہی میرے والدین کی رہنمائی اور اساتذہ کرام کا تعاون بڑوں کی دعائیں ساتھ ہی میری محنت کا ہی ثمرہ ہے کہ میں نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

مجھے مستقبل میں ڈاکٹر بننا ہے۔ اپنی کامیابی کا سہرہ اپنے والد عبدالناصر دیشمکھ، والدہ سعیدہ بیگم اور اپنے بہنوں کو دیتی ہے۔ اعظمیٰ دیشمکھ کی اس شاندار کامیابی پر بھائی ریاض دیشپانڈے، ڈاکٹر پرویز دیشپانڈے، ڈاکٹر معیزدیشپانڈے، ،سلیم دیشپانڈے، انس دیشمکھ، ایڈوکیٹ عبدالواہاب دیشمکھ، مامو پروفیسر ڈاکٹر محمد طالب دیشمکھ، غلام مصطفی دیشمکھ، محمد عارف دیشمکھ، بتول دیشمکھ ، اسماء شاہین دیشمکھ، حمیرہ دیشمکھ، ڈاکٹر محمد عاقب دیشمکھ ،اساتذہ اور عزیز و اقارب نے انہیں مبارک باد پیش کی اور ان کے مزید تعلیمی سفر میں بہتر مظاہرے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اعظمیٰ دیشمکھ کی نمایاں کامیابی سے دیشمکھ فیملی کا سر فخر سے اونچا ہوگیا ہے۔