سریا اور شام میں جنگ و جدل اور خون ریزی نے عام زندگی کو بے حد متاثر کیا ہے، ہیومن ریلیف فائونڈیشن برطانیہ

Human Relief Foundation Birmingham

Human Relief Foundation Birmingham

برمنگھم (ایس ایم عرفان طاہر سے) ہیومن ریلیف فائونڈیشن برطانیہ کے زیر اہتمام رحمت کا راستہ کے موضوع پر ایک شام کا اہتمام مقامی ہوٹل میں کیا گیا، جس میں مذہبی سیاسی و سماجی اور کا روباری شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

اس موقع پر الشیخ جلال ابن سعید، طا رق جہا ن، الشیخ آدم کیلوق، عمر عیسیٰ ، وسیم اقبال ، اجمل مسرور، مس حبہ، عبد اللہ رحمن چیف ایگزیکٹو آفیسر بالسل ہیتھ فورم ، طارق علی خان، کونسلر وسیم ظفر ، کونسلر مریم خان، جاوید اقبال ، مس جورڈ ن ،لوک ہالینڈ ، محمد احمد ، شیخ حمید ، حدیبہ شاہ ، حلیم مجا ہد ، خالد کریم ، محمد عرفان ، غزالہ احمد ، حمید شیخ ، محمد وحید اور دیگر نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ سریا اور شام کے اندر جنگ و جدل تصادم اور خون ریزی نے عام انسانی زندگی کے لیے بے شمار مشکلا ت پیدا کردی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وہا ں بسنے والے افراد رات کو بے چینی میں سوتے ہیں اور دن کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ زندگی باقی بھی رہے گی یا نہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ وہا ں پہ خاوند کے سامنے اسکی شریک حیات کو بے آبرو کیا جا تا ہے اسی طرح بھائی کے سامنے حقیقی بہن کی عزت تار تار کی جا تی ہے بیٹے کے سامنے اسکی مقدس ماں کو برہنہ حالت میں قتل کیا جا تا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ زندگی تو دور کی بات وہا ں دہشتگردی و انتہا پسندی نے چند سانسوں کی مہلت بھی مشکل ترین بنا دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہاں بسنے والے افراد کو بھوک افلا س اور بے سروسامانی سے زیادہ نفسیاتی تکا لیف سے چھٹکا را حاصل کرنے کی بھی دوا چا ہیے ۔ انہو ں نے کہاکہ ہر گھر کے اندر ایک درد آمیز اور عبرت ناک داستان سنائی دیتی ہے جن کے لیے امید کی ایک چھوٹی سی کرن بھی تعمیروترقی اور سرمائیہ جان ہے۔ انہو ں نے کہا کہ جو لوگ بساط رکھتے ہیں اور اپنے معمولات میں اپنے پیا روں اور رشتہ داروں کی خوشیوں کے لیے اخراجات کرتے ہیں ان کو چا ہیے کہ ان بے یا رو مدد گار اور بے سہا را افراد کے لیے بھی اپنے روز مرہ اخراجات میں سے کچھ رقم مختص کریں اور انکے لیے سہا رے کا باعث بنیں تاکہ وہ بھی اپنی زندگی دوسرے خوشحال انسانوں کی مانند بسر کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ سریا اور شام کے تصادم ذدہ علاقوں میں جنگی جہا زوں کی بم باری اور بے تحاشا بارود کے استعمال سے وہاں کے بسنے والوں سے گھروں کی چھت چھن گئی ہے اور ہر بچہ بوڑھا اور جوان زندگی کی تلا ش میں سمندروں کا رخ کرنے پر مجبور ہے جہا ں زندگی اور موت کی کشمکش کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت کے ناطے ہم سب کا یہ فریضہ بنتا ہے اور ہمارا دین بھی اس بات کا درس دیتا ہے کہ اپنی خوشیوں اور سہولیات کے ساتھ ساتھ دوسرے انسانوں کی بقاء فلاح اور زندگیوں کے لیے بھی خدمات پیش کریں کیونکہ جس کسی نے ایک انسان کی زندگی بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو محفوظ بنایا۔