بزمِ ریاض کے زیرِ اہتمام بعنوان ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند خصوصی تقریب کا اہتمام

Bazm e Riaz Ceremony

Bazm e Riaz Ceremony

الریاض (وقار نسیم وامق) سعودی دارالحکومت ریاض میں بزمِ ریاض کے زیرِ اہتمام ایک تقریب بعنوان ’’ ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند‘‘ منعقد کی گئی جس کی صدارت سفیرِ پاکستان محترم منظور الحق نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی جدہ سے تشریف لانے والی معروف پاکستانی نژاد سعودی صحافی، ادیبہ، شاعرہ، ہدایتکارہ اور براڈ کاسٹر محترمہ سمیرہ عزیز تھیں۔

تقریب کی نظامت کے فرائض وقار نسیم وامقؔ نے سرانجام دئیے، تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، نسیم پاشا نے خوش الحانی سے تلاوت اور اس کا ترجمہ پیش کیا جبکہ حمدیہ و نعتیہ اشعار وقار نسیم وامقؔ نے پیش کئے۔

تقریب میں سفیرِ پاکستان محترم منظور الحق کی تالیف کردہ کتاب ’’بیادِ اقبال ‘‘کا تعارف بزم کے سیکرٹری جنرل تصدق گیلانی نے پیش کیا اور کہا کہ شاید ہی دنیا میں کوئی اور خوش بخت قوم ہو جسے اللہ نے اقبالؔ جیسا عظیم شاعر عطاء فرمایا ہو، اقبال نے قوم کو امید کا پیغام دیا اور روشن مستقبل کی نوید سنائی،تصدق گیلانی نے کتاب کا باقاعدہ تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزت مآب سفیرِ پاکستان محترم منظور الحق نے دنیائے عرب کے معروف مفکرین کے اقبال کے بارے میں مقالوں کو کتابی شکل میں مرتب فرما کر اقبالؔ کے فلسفے کو نہ صرف عرب دنیا تک پہنچایا بلکہ پاکستان کی ایک مثبت تصویر بھی پیش کی، انہوں نے مزید کہا کہ اقبالؔ کے پیغام کے فروغ کے لئے کام کرنے والے عظیم ہیں اور ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

سمیرہ عزیز نے اپنی زندگی کی کامیاب جدوجہد کی بابت سامعین کو آگاہ کیا اور یہ پیغام دیا کہ زندگی ایک جہدِ مسلسل کا نام ہے انہوں نے اپنے صحافتی تجربے کے حوالے سے کہا کہ ایک اچھا صحافی وہ ہے جو عوام کی نبض جانتا ہے اور سچائی بیان کرتا ہے میں لوگوں کے مسائل سے آگہی کی بدولت لائحہ عمل ترتیب دیتی ہوں ، سمیرہ عزیز نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی تعمیر و ترقی میں پاکستانیوں کا بھرپور کردار شامل ہے اور وہ سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ یہاں کی ہر غم اور خوشی میں بھی شریک ہیں انہوں نے جدہ کے سیلاب میں سعودی شہریوں کو بچانے اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پاکستانی شہری فرمان علی کاخصوصی تذکرہ بھی کیا۔

سفیرِ پاکستان منظور الحق نے اپنے صدارتی خطاب میں سمیرہ عزیز کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی اپنے عمل اور کردار سے پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں، انہیں خوشی ہے کہ سعودی شہری سمیرہ عزیزبھی پاکستانی نژادخاتون ہیں ، پاکستان میں جوبھی خواتیں میدانِ عمل میں سامنے آئی ہیں انہیں خوش آمدید کہا گیا ہے ہماری پارلیمنٹ میں بھی خواتین کی مناسب نمائندگی موجود ہے پاکستان میں خواتین نے سیاست، ادب، صحافت اور تمام اہم ترین اداروں میں اپنا نمایاں مقام بنایا ہے۔

سفیرِپاکستان نے عرب دنیا میں علامہ اقبالؔ کے فکری پیغام کو متعارف کروانے والے عرب مفکروں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، انہوں نے مصر کے معروف شاعر فاروق شوشہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فاروق شوشہ کہتے ہیں کہ جب میں نے اقبالؔ کی شاعری کو پڑھا تو سمجھ نہیں آئی لیکن جب قرآن کو پڑھا تو اقبالؔ کی شاعری کی سمجھ آئی، سفیرِپاکستان نے مزید کہا کہ اقبالؔ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے فلسفے کی مشکل باتوں کو انتہائی سادگی اور خوبصورتی سے شعری سانچے میں ڈھالا ہے۔

سفیرِ پاکستان نے بزمِ ریاض کوکامیاب ادبی تقریب منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقاریب کا انعقاد ہوتے رہنا چاہئے اور بزم کے سلوگن ’’ امیدِ صبحِ بہار ہیں ہم‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بقول اقبالؔ ’’ دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی‘‘ اور مزید کہا کہ بزمِ ریاض کی یہ تقریب دو حوالوں سے انتہائی اہم ہے ایک تو اس میں ہم نے علامہ اقبالؔ کے حوالے سے گفتگو کی اور دوسرا یہ کہ ایک خاتون کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی عملی جدوجہد کی داستان بیان کرسکے تاکہ خواتین کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

اس موقع پر بزمِ ریاض کے ناظم الامور وقار نسیم وامقؔ نے سفیرِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ بزمِ ریاض کے زیرِاہتمام یومِ اقبالؔ بھرپور طریقے سے منایا جائے گا اور قومی ہیروز کی یاد میں ان کے شایانِ شان تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔

قبل ازیں خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بزم کے سنیئررکن نقی حسن نے تمام معزز مہمانوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا اور مہمانِ خصوصی سمیرہ عزیز کا تعارف پیش کیا، بزم کے سنیئر رکن تنویر میاں نے کلامِ فیض ؔ وکلامِ اقبالؔ ترنم سے پیش کرکے سامعین کے دل جیت لئے جبکہ نقی حسن نے ملی نغمہ ’’یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے‘‘ پیش کرکے خوب سماں باندھا۔

تقریب میں سفارتخانہ پاکستان کے ہیڈ آف چانسری عباس سرور قریشی نے سفیرِ پاکستان محترم منظور الحق کی خصوصی فرمائش پرتحت اللفظ میں کلامِ فیض ’’ نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش‘‘ پیش کرکے خوب داد سمیٹی ، بزم کے صدر ریاض راٹھور نے اپنے خطاب میں مہمانوں سے اظہارِ تشکر ادا کیا اور کہا کہ ہم میں سے زندہ وہی رہے گا جوسب کے دلوں میں زندہ رہے گا اور دلوں میں وہی زندہ رہتے ہیں جو خیر اورآسانیاں بانٹتے ہیں۔

اس موقع پر سمیرہ عزیز کو ان کی خدمات کے اعتراف میں بزمِ ریاض کی جانب سے یادگاری شیلڈ بدستِ سفیرِ پاکستان پیش کی گئی جبکہ سمیرہ عزیز نے بزمِ ریاض کو تعریفی شیلڈ پیش کی جسے بزم کے سنیئر اراکین حسن مہدی اور نقی حسن نے وصول کیا۔

سفارتخانہ پاکستان میں بطور ہیڈ آف چانسری مدتِ معیاد مکمل ہونے پرعباس سرور قریشی کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف کے طور پر بزم کے سنیئر رکن سید محمد عمران نے بطور یادگار ایک تحفہ پیش کیا۔

بزمِ ریاض کی استقبالیہ کمیٹی کے ممبران شفیق خواجہ، سید محمد عمران اور عدیل حسن نے مہمانوں کا بھرپور استقبال کیا، تقریب میں پاکستانی اہلِ علم و ادب نے بھرپور شرکت کی اور بزمِ ریاض کی اس عمدہ کاوش کو بے حد سراہا، آخر میں شرکاء کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔