برلن میں بھٹو شہید کے ٣٧ویں یوم شہادت پر پیپلز پارٹی کا بھٹو ہاوس میں عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد

Rahman Malik

Rahman Malik

جرمنی (انجم بلوچستانی) برلن بیورو کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کے ٣٧ ویں یوم شہادت کے موقعہ پر ٣ اپریل ٢٠١٦ئ،بروز اتوارسہیل انور خان کے ہول سیل اسٹورمیں،جسے گذشتہ جلسہ ء شہادت بے نظیر بھٹو شہید کے بر عکس اس مرتبہ بھٹو ہائوس کے نام سے پیش کیا گیا تھا،پاکستان پیپلز پارٹی برلن کی جانب سے ایک عظیم الشان جلسہء عام کا اہتمام کیا گیا،جس میںجرمنی کے مختلف شہروں سے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں و کارکنوں کے علاوہ برلن میں قائم سیاسی،سماجی اور مذہبی تنظیمات و پارٹیوں کے عہدیداران و نمائندگان ،پاکستانی پریس اور سیاسی پناہ کے حصول میں سر گرداں پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

جلسہ کی نظامت کے فرائض طارق محمود وڑائچ نے سر انجام دئے۔مہمان خصوصی لندن سے تشریف لانے والے سابقہ وزیر داخلہ پاکستان سینیٹر رحمان ملک تھے،جنہوں نے پہلا اعلان یہ کیا کہ ” میں نہ اس جلسہ کی صدارت کروں گا اور نہ مہمان خصوصی بنوں گا،یہ جلسہ بھٹو ہائوس کے بانی سہیل انور خان کی صدارت میں ہو گا اور اسکے مہمان خصوصی میاں مبین ہوں گے۔” یاد رہے کہ میاں مبین کے والد رحمان ملک کے دوست ہیں اور رحمان ملک کی برلن آمد میں میاں مبین کی کوششوں کا بڑاعمل دخل ہے۔

جلسہ کا آغاز منہاج القرآن انٹرنیشنل کے فیض احمد کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔پیپلز پارٹی برلن کے رہنما ظہور احمد نے بھٹو صاحب کی حیات،خاندان،سیاست میں آمد، پیپلز پارٹی کے قیام، کامیابیوں، بھٹو صاحب کے کارناموں ،دور حکومت اور شہادت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا،انکے بیٹے شاہنواز بھٹو کی غیر طبعی موت کی نشاندہی کی اوردوسرے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کے پولیس مقابلہ میںمارے جانے کا ذکر کیا۔

فری کشمیر آرگنائزیشن ،جس میںپیپلز پارٹی کے رشید احمد اور میاں مبین بھی عہدیدار ہیں،کے صدر صدیق کیانی نے اپنی تنظیم کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے بھٹو صاحب کی کشمیر پالیسی کی تعریف کی اور بھارت کی بالادستی تسلیم نہ کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔پیپلزپارٹی کے طارق محمود اعوان نے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے بھٹو صاحب کے عوامی انداز فکر،فیصلوں، وژن اورعالمی طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا ذکر کیا۔

پیپلز پارٹی جرمنی کے سجاد نقوی نے جرمنی میںپیپلز پارٹی کی سرگرمیوں کواجاگر کرتے ہوئے بھٹو صاحب کی عوام سے محبت، آمریت کے خلاف ڈٹ جانے اور پھانسی کا پھندا قبول کرنے کا ذکر کیا۔پیپلز پارٹی جرمنی کی نزہت ہارون نے پیپلز پارٹی برلن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بھٹو صاحب کے نقش قدم پر چلنے کا پیغام دیا۔طارق وڑائچ نے پاکستانی قوم پر بھٹو صاحب کے احسانات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھٹو ہائوس کے قیام تک یہ فی الوقت سہیل صاحب کے لاگر میںکام کرے گا۔جلسہ کے روح رواں اور منتظم اعلیٰ سہیل انور خان نے بھٹو صاحب کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انکے کارناموں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے بھٹو ہائوس کے قیام کی تاریخ، اسکی برلن میں سرگرمیوں و آئندہ پروگرامز کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی مدد کا یقین دلایا۔جلسہ میںپاکستان عوامی تحریک جرمنی،پاکستان مسلم لیگ (ن) برلن،اسلامی تحریک برلن،ایشین جرمن رفاہی سوسائٹی ،بزم ادب و پاکستان عوامی تحریک یورپ کے اعلیٰ عہدیداران کی موجودگی کے باوجود، بینظیر بھٹو شہید کے لئے ہونے والے جلسہ کے برعکس کسی کو اظہار خیال کا موقعہ نہیں دیا گیا، جسے کوئی انتظامی مجبوری کہا جا سکتاہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اوور سیز کے سربراہ،سابق وزیر داخلہ پاکستان،سینیٹر رحمن ملک نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں پیپلز پارٹی پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستان سنائی۔انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قیادت کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کے لئے انکی،انکی بیٹی بینظیر بھٹواور انکی بیگم نصرت بھٹو کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو(زرداری) کو مستقبل کی امید قرار دیا۔انہوں نے پنجاب میںپیپلز پارٹی کی بحالی کی امید کرتے ہوئے بلاول کے دورہء رحیم یار خان کو سراہا۔ انہوں نے بھٹو شہید کے خلاف ہونے والی ملکی اور غیرملکی سازشوں کا ذکر کیا اور جنرل ضیاء الحق کی افغان پالیسی کوپاکستان کے مستقبل کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت کرتے ہوئے اسے پاکستان میں دہشت گردی کی ابتدا اورروس سے تعلقات کی خرابی کی انتہا قراردیا۔جس نے بھارت کو سیاسی اور معاشی محاذ پر بیحدفائدہ پہنچایا۔

انہوں نے بھارتی جاسوس کے پکڑے جانے پر جنرل رضوان و جنرل راحیل شریف کی تعریف کرتے ہوئے اسے جاسوسی کی تاریخ میںپاکستان کی کامیابی کے سنہرے باب سے تعبیر کیا۔وہ باربار اسے ”منکی جاسوس” کا نام دیتے رہے۔انہوں نے وزیر اعظم ہندوستان نریندر مودی کی بنگلہ دیش میں تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے اسے پاکستان توڑنے کی سازش کاثبوت اور بھارت کا اعتراف جرم قرار دیا۔انہوں نے دعوٰی کیا کہ وہ بہت جلد ایک مقدمہ لے کر ہیگ کی عالمی عدالت میں جارہے ہیں،جس میں وہ تین نکات اٹھائیں گے:

١۔انڈیا کے اس وقت کے وزیر اعظم،را کے سابق سربراہ اورسابقہ بھارتی آرمی چیف کو پاکستان توڑنے،مکتی باہنی بنانے اور اس کے ذریعہ پاکستانی ا فواج اور مشرقی پاکستان کے محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام کرنے کا مجرم قرار دیا جائے۔اس مقدمہ میںموجودہ وزیر اعظم مودی اورمیجر جنرل کے سنگھ کو بطور گواہ پیش کیا جائے،تاکہ ان کے اعترافی بیانات کی روشنی میں اصل ملزمان کو سزا دی جا سکے۔٢۔سمجھوتہ ایکسپریس پر ہونے والے حملے، جس کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی،کے ملزمان کے خلاف عالمی پیمانے پر تحقیقات کے بعد انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے،تاکہ بیگناہ مسافروں،معصوم بچوں اور عورتوں کے قتل عام کا کچھ ازالہ ہو سکے۔

٣۔منکی جاسوس کے اعترافی بیان کی روشنی میں کراچی اور بلوچستان میں ہونے والی فرقہ وارانہ،لسانی اور ٹارگٹ کلنگ کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا جائے اور اسے ایک آزاد اور خودمختار ملک میں دخل اندازی ، تخریب کاری اور دہشت گردی کی قرارواقعی سزا دی جائے۔رحمن ملک نے کہا کہ” مجھے امید ہے کہ انشااللہ پاکستان یہ کیس جیت جائے گا۔انڈیاکا وزیر اعظم معافی مانگے گا اور ہم سرخرو ہوں گے۔”انہوں نے کہا کہ” میں امریکہ کے صدر جارج بش اور بارک اوبامہ کے سامنے کہہ چکاہوں کہ ہمیں”ڈومور” کہنے کے بجائے دہشت گردی کے عذاب سے نکلنے کے لئے ہر قسم کی مدد دی جائے، تاکہ ہم اس عفریت سے جان چھڑا سکیں۔

منکی جاسوس کی کرفتاری سے ثابت ہو گیا کہ دہشت گردی پاکستان سے نہیں انڈیا کی سرزمین سے اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف ہورہی ہے،جسکا سدباب ضروری ہے۔” سینیٹر رحمٰن ملک نے چیرمین اوورسیزپی پی پی کی حیثیت سے سمندر پارکارکنوں کیلئے شہیدذوالفقار علی بھٹو ایوارڈ اورشہید بینظیر بھٹو ایوارڈ کا وعدہ کیا اور پہلا شہید ذوالفقار علی بھٹو ایوارڈ سہیل انور خان کو دینے کااعلان کیا۔اسکے بعدفیض احمد نے بھٹو شہید،بی بی شہید و دیگرشہداء کے لئے دعائے مغفرت کی۔ آخر میںمیاں مبین نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔تمام مہمانوں کوان کی نشست پر ہی عشائیہ بکس پہنچائے گئے۔اس دوران جیو ٹی وی نے رحمٰن ملک کا انٹرویو کیا۔

ایڈیٹر انچیف ایشین پیپلز نیوز ایجنسی انٹرنیشنل، پرنس انجم بلوچستانی نے ملک صاحب سے چند اہم سوال کئے، مگر وقت کی کمی کے باعث تفصیلی انٹرویو نہ کرسکے۔