ایک طبلچی بلاول بھٹو کی کیا مدد کرئے گا؟

Bilawal Bhutto

Bilawal Bhutto

برلن (قیصر ملک) گذشتہ روز ایک کالم نظروں سے گزرا جسمیں ایک طبلچی لکھتا ہے کہ میرے پاس ایک سابق ایم این اے آیا اور اسنے کہا کہ یار کچھ بلاول بھٹو کی مدد کرو؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ،،، اب بلاول کی وہ مدد کریں گے جن کو ہر صبح ایک کاغذ ہاتھ میں دیا جاتا ہے کہ آج آپ نے پیپلز پارٹی کے اس عہدیدار کی بھد اڑانی ہے اور وہ اپنے کالم میں بغیر کسی ثبوت کہ ہر ایک کو ایسا بدماش بنا کر پیش کرتے ہیں کہ پناہ خدا کی، اور پھراسی طبلچی کو رات کو ایک کاغذ دیا جاتا ہے کہ آج رات آپ نے اپنے ٹی وی پروگرام میں پیپلز پارٹی کی قیادت نیچے سے اوپر تک سب کو دنیا کے ظالم ، کرپٹ ، بدماش اورجو بھی آپ کے منہ میں آئے کہنا ہے ہم زمہ دار ہیں آپ کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا؟

اور مزے کی بات ہے اس طبلچی کاکا لم کوئی بھی ہو کسی بھی موضوع پر ہوچاہے کسی کے بھی خلاف ہو اسمیں پیپلز پارٹی کی کلاس ضرور لی جاتی کیوں نہ ہو جب تنخواہ ہی اسکام کی ملتی ہے ،او اسطرح کے طبلچی پیپلز پارٹی کو گالی دینا اس پر کوئی بھی الزام لگانا ، اسکوبدنام کرنا، اسکی قیادت وہ بھی خاص کر آصف علی زرداری کے خلاف جو بھی منہ میں کہہ دینا عین ثواب دارین سمجھ کر کرتے ہیںکیونکہ ان کو تنخواہ اسی کام کی ملتی ہے۔

اگر دنیا کا نظام ان جیسے طبلچیوںکے زریعے چلنا ہوتا تو پتہ نہیں کیا ہوتا،اصل میں اس طرح کے بہت سے تیس مار خان ہمارے میڈیا میں اسوقت براجمان ہیں، یہ اصلی سرکار سے ملنے والے کاغذات جن میں زیادہ تر صرف کردار کشی ہوتی ہے ، کو مرچ مصالحہ لگا کرپیش کرنا ان کی ڈیوٹی میں شامل ہوتا ہے ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں،یہ طبلچی روزانہ کوئی نہ کوئی سکینڈل رات کو ٹی وی پرپیش کرتا ہے مگر آج تک کسی کو ثابت نہیں کر سکا، یہ جس دن حکومت کو تھوڑا جھٹکا دینا ہوتا ہے تو رات کو ایک جوڑا نمودار ہوتا ہے اور پورا ایک گھنٹہ ہر ایک کی پگڑی اچھالتا رہتا ہے۔

مگر کیا مجال ہے کوئی ان کے منہ میں لگام ڈال سکے کیونکہ انکے مالک طاقت ور ہیں، جہاں تک ان کی بلاول صاحب کے لئے مدد کی بات ہے پتہ نہیں کس نے ان صاحب کو کہا ہوگا جو پتہ نہیں خود بھی ان ہی کا نمائندہ ہو گا ہم نے ٦٧ سے آج تک دیکھا ہے ہر وہ کارکن جو پیپلز پارٹی میں بھٹو شہید اور بی بی شہید کو چاہنے والا تھا اسکو کسی نہ کسی طرح حراساں کیا گیا ان کے خلاف مقدمے بنے ان کی کوڑے لگے ان میں سے ہی کئی کو پھانسیاں دی گئیں مگر جنہوں نے بھٹو شہید اور بی بی شہید کے مشن سے غداری کی اور ان طاقتوں سے مل گئے جو بھٹوازم کے خلاف برسرپیکار ہیں ان کو ضیا ء مردود سے لے کر آج کے نواز شریف کے دور تک نوازہ گیا۔

کئی تو چند دن کے ہی لئے وزیر اعظم بھی بنے ، وزارت عظمے کی کرسی بھی ان پر لعنت کرتی ہو گی مگر بہت سے نام ہیں نہ ان کا کبھی احتساب ہو اور نہ ہی کسی نے ان کو پوچھا کیوں آپ تھوڑا سا زہن میں میں زور دیں تو ایک بہت لمبی لسٹ سامنے آ جائے گی؟ اس لئے پہلے دن سے پیپلز پارٹی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے ، وہ ضیاء الحق کا دور ہو میا ںنواز شریف کے پہلے دو ادوار ہوں یا مشرف کا دور ہو پاکستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کا ہی احتساب ہی ہوتا دیکھا جو پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر ان کے ساتھ مل گیا وہ پاک صاف ہو گیا؟

مگر ان طبلچیوں کو یاد رکھنا چاہیے پہلے دن سے پاکستا ن پیپلز پارٹی کی طاقت پاکستان کے عوام ہیں اور پیپلز پارٹی کا نعرہ بھی یہی ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ اگر کسی طبلچی کی یہ سوچ ہے کہ بلاول بھٹوکو ان جیسے کسی طبلچی کی ضرورت ہے تو یہ ان کی بھول ہے بلاول بھٹو بی بی شہید کا لخت جگر ہے اور بھٹو شہید کا نواسہ ہے اسکو علم ہے کہ پاکستان میں جنرل ضیاء نے بھٹو شہید کے عوامی مشن کو ناکام کرنے کے لئے پہلے قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کوشہید کیا اورپھرایسے بہت سے طبلچی پیداہ کئے جن کا کام صرف پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا ہے۔

اسکے بعد اسکی باقیات نے بی بی صاحبہ کو شہید کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی ختم ہو گئی مگر ان کو یاد رکھنا ہو گا کہ جس مشن میں شہیدوں کا خون شامل ہو جائے اسکو دنیا کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی، اوراب بلاول بھٹو کو بھی کسی طبلچی کی ضرورت نہیں،وہ پاکستان کے عوام کی طاقت پر یقین رکھتا اور یہ چیزاسکے خون میں شامل ہے اسلئے پیپلز پارٹی پہلے دن سے ضیاء الحقی اور اسکی باقیات کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرتی آئی ہے اور آئندہ بھی بلاول بھٹو کی قیادت میں کرئے گی اور پاکستان کے غریب عوام کے حقوق کے لئے اپنی روایات پر چلتی ہوئی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میںپاکستان کو ایک عوامی، خوشحال اور طاقتور ملک بنا کر سرخرو ہوگی۔