برمنگھم : سابق لارڈ مئیر اینڈ جسٹس آف پیس کونسلر چوہدری عبد الرشید سے انٹرویو

Interview Ex Lord Mayor of Birmingham

Interview Ex Lord Mayor of Birmingham

برمنگھم (ایس ایم عرفان طاہر سے) عظیم برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم جہاں باالعموم ایشین اور باالخصوص پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کثیر تعداد میں موجود ہے سے سابق لارڈ مئیر اینڈ جسٹس آف پیس کونسلر چوہدری عبد الرشید میرپور آزادکشمیر کے ایک پسماندہ گائوں کنڈ شیر گڑھ (منڈی) ڈڈیال میں 1941 میں پیدا ہوئے۔

دیگر ہجرت کرنے والوں کی طرح 1955 کو ورکنگٹن ، کمبر لینڈ ،لیک ڈسٹرکٹ برطانیہ میں آکر آبا د ہو ئے۔ پیشے کے اعتبا ر سے کا روباری زندگی کا آغاز ما رکیٹ ٹریڈر کی حیثیت سے کیا انتہائی محنت و مشقت کا سا منا کرنا پڑا زبان ، کلچر اور مختلف تبدیلیوں کا اس نئی دنیا میں سامنا کرنا پڑا جسے پر کرنے کے لیے شب و روز برسر پیکا ر رہے۔

1962 میں اسلامی جمہو ریہ پاکستان سے محترمہ شفاقت بیگم کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو ئے ۔ 1963کو دوبارہ پاکستان سے وا پسی پر آسٹن کے علاقہ میں اپنی پہلی رہا ئش گا ہ اپنی شریک حیا ت کے ساتھ آبا د کی۔

دس برس تک سپر وائزر اور پھر دو برس ٹیکنیکل کلرک ڈر ائینگ دفتر میں خدما ت سرانجام دیں ۔ 1975میں گرین لین سمال ہیتھ میں دوکانداری شروع کی لیکن کا روبا ری حالا ت کی خرابی کے باعث دوبارہ کا رخانوں میں ملا زمت کا رخ کرنا پڑا۔

Interview Ex Lord Mayor of Birmingham

Interview Ex Lord Mayor of Birmingham

ساڑھے پانچ برس ملا زمت کے بعد فل ٹائم پڑھائی کا آغا ز کیا زندگی میں تجسس اور مزید ترقی کی جانب گامزن ہو نے کے لیے اپنے آپ کو تعلیم کے زیور سے مزین رکھا ۔ 1980 میں برمنگھم سٹی کونسل کی طرف سے ایسٹ برمنگھم کمیونٹی ہیلتھ کونسل کے ممبر مقرر ہو ئے۔

دو برس کے محدود عرصہ میں ایسٹ برمنگھم ہیلتھ اتھا رٹی کے ممبر بنے۔ اسی دوران بطور چئیرمین سمال ہیتھ کمیونٹی لا ء سنٹر بھی خدما ت سرانجام دیں ۔ 1982کو دوبارہ فل ٹائم تعلیم کا آغاز کیا۔

1987 میں وولویرہیمپٹن یو نیورسٹی سے سوشل سائنسز کی ڈگری حاصل کی اسی دوران برمنگھم کے لیے مجسٹریٹ مقرر ہو ئے ۔ 1983 میں مقامی امیدوراوں کی لسٹ میں شامل ہو کر ہر سال اس کی تجدید کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے ۔ 1987میں بی اے فائینل سے ایک ماہ قبل آپ کی سیاسی تگ و دو اور محنت رنگ لے آئی اور پہلی مرتبہ سٹی کونسل آف برمنگھم کے ممبر کی حیثیت سے کونسلر منتخب ہو ئے۔

Interview Ex Lord Mayor of Birmingham

Interview Ex Lord Mayor of Birmingham

1988میں لوکل گو رنمنٹ سروسز کا آغاز کیا ڈڈلی کونسل میں سوشل ورکر اور پھر ڈڈلی ہیلتھ اتھا رٹی کے نن ایگزیکٹو ڈا ئر یکٹر خدما ت سرانجام دیں ۔ 1995 اور 2003 میں لیو کیمیہ اور انجا ئینہ بیماری میں مبتلاء ہو نے کے باعث لوکل گورنمنٹ سروسز سے ریٹا ئر ڈ ہونا پڑا۔

بورڈ ممبر آف برمنگھم فیملی ہا ئوسنگ ایسوسی ایشن ، بورڈ ممبر آف سینٹ پیٹرز ہا ئوسنگ ایسوسی ایشن ، گو رنر میتھو بولٹن کالج ، گو رنر ریجنٹ پارک سکول بھی رہے 2003سے ڈڈلی مسلم ایسوسی ایشن ڈی ایم اے میں پارٹ ٹائم ملازمت اختیار کی شدید بیماری اور خرابی صحت کے باوجود اپنا مشن جا ری رکھا 2008 تک سنئیر ڈویلپمنٹ آفیسر کے طور پر خدما ت سرانجام دیں اور پھر 2008سے 2009 تک شہر کے سب سے بڑے عہدے لارڈ مئیر آف برمنگھم پر نامزد ہو ئے عوام الناس کی خدمت تاحال جا ری و ساری ہے۔

سابق لارڈ مئیر آف برمنگھم اینڈ جسٹس آف پیس کونسلرچو ہدری عبد الرشید نے نوجوان صحا فی و معروف کالم نگا ر ایس ایم عرفان طا ہر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہو ئے کہاکہ ماضی میں جھا نک کر دیکھا جا ئے تو پہلے ادوار میںبرطانیہ آنے والے افراد کو خاصی محنت و مشقت اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن موجودہ حالا ت میں ایسی بات نہیں ہے نوجوان نسل کے لیے ہر چیز آسان اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اپنی تعلیم و صحت پر خاص توجہ رکھتے ہو ئے اس شہر اس ملک اور یہا ں بسنے والے دیگر اقوام کے لیے اپنی مثبت خدما ت پیش کریں اسی سے نہ صرف وہ اپنے معاشی مسائل کو باآسانی حل کر پا ئیں گے بلکہ ان مثبت سرگرمیوں سے انکے مذہب ، ملک و قوم اور والدین کا نام روشن ہو گا۔

انہو ں نے کہاکہ خدا کی بہت بڑی نعمت ہے جس نے ہمیں ایک اچھا ملک دیا ہے جس میں آگے بڑھنے اور اپنی صلا حیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع موجود ہیں یہا ں پر مختلف مذاہب اور مختلف اقوام سے نمایا مقام حاصل کرنے کے لیے سب سے بنیا دی پہلو تعلیم کا ہے تعلیم کا ہتھیا ر ہے جو پو ری دنیا کو فتح یاب اور مسخر کرنے کے لیے کافی ہے۔

Interview Ex Lord Mayor of Birmingham

Interview Ex Lord Mayor of Birmingham

انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں تعلیم اور شعور و آگہی کا راج ہوتا ہے تو وہا ں پر دہشت و وحشت اور انتہا پسندی پھیل نہیں سکتی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ حقیقی معنو ں میں علم ہی دوسروںکا احترام ادب اور ایک دوسرے کے حقوق کو پہچا ننے کی روشنی فراہم کرتا ہے۔

انہو ں نے کہاکہ کوئی بھی معا شرہ تعلیم و تربیت کے بغیر اپنی ترقی کی منا زل طے نہیں کر سکتا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ ہمیں اس معا شرے میں رہتے ہو ئے سرفہرست تو یہاں پر قائم کردہ قوانین اور قواعد و ضوابط کا احترام کرنا چا ہیے اور اپنے اردگر د ماحول سے باخبر رہنا چا ہیے جو دوسری اقوام اور مذاہب کے لوگ ہما رے ساتھ بستے ہیں انکی آزادی رائے کو ملحوظ خا طر رکھتے ہو ئے ان سے اخلا ق اور پیا ر سے پیش آئیں ایسا بے مثال اور با کردار عمل اپنا ئیں کے رہتی دنیا تک ہمیں یا د رکھا جا ئے انہو ں نے کہاکہ زندگی کی ایک خواہش اور تمنا ہے مرتے دم تک اس ملک اور اس شہر کے امن و امان اورسلامتی و اتحاد کے لیے جدو جہد جا ری رکھوں گا۔