بتا کیا پوچھتا ہے وہ، کتابوں میں ملوں گا میں

Peshawar Tragedy Shuhuda

Peshawar Tragedy Shuhuda

تحریر: مسز جمشید خاکوانی
ایک سال گذر گیا اور ہم ابھی تک وہیں کھڑے ہیں وہ معصوم روحیں سوال کرتی ہیں کہ ہماری قربانی نے تو اس قوم کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا ہر دل میں آگ لگ گئی تھی پھر کیا ہوا کہ اس آگ پے راکھ جمتی گئی ؟یہ سوال ہے پوری قوم سے اس پوری دنیا سے، کہ اتنا بڑا ظلم کس نے دیکھا ہو گا لیکن ساری دنیا بھول بھی جائے ان مائوں کے دل سے انکی یادیں کبھی نہیں جائیں گی ہر سال وہ سوچیں گی ج ہمارا بیٹا ہوتا تو اتنا بڑا ہوتا وہ یہ بھی سوچیں گی کچھ ہی سالوں میں اس کی شادی ہوتی کہ یہ بھی ہر ماں کا خواب ہوتا ہے کسی ماں نے اپنی نظر میں لڑکی بھی ضرور رکھی ہوئی ہوگی جس کو دیکھ کر اب اس کے دل سے آہ نکلتی ہوگی جس عمر میں یہ پھول مسلے گئے ہیں یہ بڑی ہنگامہ خیز عمر ہوتی ہے۔

جیسے کانچ کے بہت سے برتن ایک ساتھ رکھ دیئے جائیں تو وہ پل پل بجتے رہتے ہیں ہر دم دھڑکا لگا رہتا ہے کہیں ٹوٹ نہ جائیں مائوں کی اپنے بچوں میں جان اٹکی رہتی ہے ،کبھی انکی صحت کی فکر ،کبھی انکی صحبت کی فکر کہ کسی غلط ہاتھ میں نہ پڑ جائیں ہر ہر لمحے کسی حادثے سے بچنے کی دعائیں مانگتے منہ تھکتا ہے لیکن قضا کس طرح ان مائوں کے کلیجے نوچ کر لے گئی کہ نہ وہ جیتی ہیں نہ مرتی ہیں ۔ماں وہ واحد ہستی ہے جس کو اولاد کا صبر کبھی نہیں آتا چاہے اس کے آگے بچوں کی لائن لگی ہو اس کو وہ ایک نہیں بھولتا جو چھن جائے اللہ سب کے بچوں کو سلامت رکھے ۔میری ایک دوست نے اپنے اٹھارہ سالہ بیٹے کو لاہور پڑھنے بھیجا وہ میرے بیٹے کا کلاس فیلو تھا لڑکا اتھرا سا تھا۔

Tragedy of Peshawar Mothers

Tragedy of Peshawar Mothers

اس کی ماں میرے بیٹے سے کہتی تم اس کا خیال رکھا کرو یہ کسی بری صحبت میں نہ پڑ جائے میرا بیٹااس کو سمجھاتا رہتا کہ ماں کا کہنا مانو ماں باپ بھلے کو کہتے ہیں ۔وہ لڑکا گھر سے لاہور بائیک لے جانا چاہتا تھا لیکن باپ نے اجازت نہ دی کہ تم بہت تیز چلاتے ہو لاہور کی سڑکوں پر رش ہوتا ہے ایسا نہ ہو کوئی حادثہ ہو جائے وہاں ہم تمہیں دیکھ تو نہیں رہے ہونگے وہ لڑکا بہت غصے ہوا موٹر بائیک کو ٹھوکریں ماریں چیخا دھاڑا ،لیکن باپ نے ایک نہ سنی یہ اس کے لاسٹ ٹائم جانے کا واقعہ ہے وہ واپس لاہور چلا گیا اس نے ایسے لڑکے کو دوست بنا لیا جو تیز بائیک چلاتا تھا وہ اس کے ساتھ روزانہ شام کو نکل جاتا موج مستی کرتا کھاتے پیتے شرارتیں کرتے میرے بیٹے نے اس کے والدین کو بتایا یہ موٹر بائیک کے جنون سے باز نہیں آیا نہ میری سنتا ہے ۔اور پھر وہ حادثہ ہو گیا۔

جو اس کے والدیں کو خوف میں رکھتا تھا ایک شام موٹر بائیک پھسلی اور غالباً ٹینکر اس کے اوپر چڑھ گیا جب اس کی لاش گھر آئی ماں باپ بے چارے جیتے جی مر گئے پھر کبھی میں نے اس کی ماں کو مسکراتے نہیں دیکھا۔اور پشاور آرمی پبلک اسکول کے بچے تو ننگی جارحیت کی بھینٹ چڑھ گئے اتنی سفاکی اتنی بے دردی ۔۔۔تو انکی مائیں کب مسکراتی ہونگی؟ایک ماں کو تو اپنا وہ بچہ نہیں بھولتا تو نو ماہ اس کی کوکھ میں رہے اور باہر آ کر چند سانس لیکر دنیا سے رخصت ہو جائے تو یہ ہنستے مسکراتے ،شرارتیں کرتے ،لاڈ اٹھواتے لاڈلے انہیں کیسے بھول سکتے ہیں وہ ج بھی بے دھیانی میں ان کے لنچ بنا بیٹھتی ہیں۔

Peshawar Victims Talk Imran Khan

Peshawar Victims Talk Imran Khan

انہیں اسکول سے لینے پہنچ جاتی ہیں ایک لڑکے کی ماں کو تو میڈیا پر بھی دکھایا گیا تھا جو اس سانحے کے کئی دن بعد بھی اسکول کے باہر کھڑی ہوتی تھی اس ماں نے عمران خان کے کندھے سے لگ کر دہائی دی تھی کہ ہمارے بچوں کا خون معا ف نہ کرنایہ وہ سانحہ تھا جس نے جنرل راحیل شریف کو ایک فیصلہ کن موڑ پہ لا کھڑا کیا تب سے اب تک پاک آرمی تو اپنے عزم پر قائم ہے مگر نام نہاد جمہوریت ان کے راستے کی رکاوٹ ہیوہ انتظار میں ہیں کہ کب راحیل شریف اپنی مدت پوری کر کے ان کے راستے سے ہٹتے ہیں اور جنرل راحیل پوری قوم کے ساتھ کھڑے اس دن کے منتظر ہیں کب مائوں کے کلیجے نوچنے والا آخری دہشت گرد بھی نیست و نابود ہو جائے تو وہ ان مائوں کے آگے سرخرو ہوں۔

خدا کرے یہ دن جلد آئے اور ہمیں ایک اور سولہ دسمبر نہ دیکھنا پڑے جب لوگ یہ کمنٹ کرتے ہیں کہ دیکھ لینا کچھ بھی نہیں ہوگا ان دہشت گردوں کو ، تو میرے دل سے آہ نکلتی ہے میں کہتی ہوں اے اللہ ہم تو تیرے کمزور بندے ہیں مگر تُو تو سب سے طاقت والا ہے ہم اپنا انصاف تجھے سونپتے ہیں ہم بھی دیکھیں گے یہ ظالموں کا ٹولہ کتنا عرصہ مکافات عمل سے بچتا ہے۔

Mrs. Jamshed Khakwani

Mrs. Jamshed Khakwani

تحریر: مسز جمشید خاکوانی