براہمداغ، حربیار کے خلاف بغاوت کے مقدمے درج

Brahamdagh Bughti

Brahamdagh Bughti

بلوچستان (جیوڈیسک) پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلعے خضدار میں علیحدگی پسند رہنماؤں براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور کریمہ بلوچ کے خلاف ملک دشمنی اور غداری کے الزامات کے تحت پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

خضدار کے ضلعی پولیس افسر محمد اشرف جتک نے بات کرتے ہوئے مقدمات درج ہونے کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور کریمہ کے خلاف عام شہریوں کی درخواست پر بغاوت کے مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

ان مقدمات کا تعلق انڈیا کے وزیرِاعظم نریندر مودی کی جانب سے بلوچستان کے بارے میں بیان پر ان رہنماؤں کے ردعمل سے ہے۔

نریندر مودی نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بلوچستان اور اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں کا جواب دے۔

ان کے اس بیان پر جلا وطن بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے فیس بک پر جاری کیے گئے پیغام میں بلوچوں کے لیے آواز اُٹھانے پر انڈین عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا تھا جس کا تذکرہ نریندر مودی نے انڈیا کے یومِ آزادی کے موقعے پر اپنے خطاب میں بھی کیا تھا۔

نریندر مودی کے اس خطاب کے بعد بلوچستان میں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

ایک مقدمے کی ایف آئی آر کی نقل کے مطابق خضدار کے تھانہ صدر میں جماعت اسلامی کے ضلعی رہنما محمد اسلم گزگی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’انڈین وزیر اعظم کے بیان کی تائید میں براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور کریمہ بلوچ نے مختلف ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں بیان دیے ہیں جس میں انڈین حکومت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔‘

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انڈیا کو جارحیت کی دعوت دے کر ملک سے غداری کی گئی ہے اور اس وجہ سے ان افراد کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔

اس کے علاوہ تھانہ کرک میں مسلم لیگ ن کے مقامی رہنما غلام یاسین جتک، خضدار کے سٹی تھانے میں منیر احمد، وڈھ تھانے میں محمد رحیم اور نال تھانے میں محمد حسین بلوچ کی درخواست پر زیر دفعہ 120/بی، 121 ، 123 / ای ، 153 / 34 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ان سب مقدمات میں بھی براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور کریمہ بلوچ کو فریق بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ براہمداغ بگٹی پر مسلح علیحدگی پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی، اور حربیار مری پر بلوچ لبریشن آرمی کی سربراہی کا الزام ہے جبکہ کریمہ بلوچ، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن یعنی بی ایس او آزاد کی چیئرپرسن ہیں۔

براہمداغ نے سوئٹزرلینڈ، حربیار مری نے برطانیہ، جبکہ کریمہ بلوچ نے کینیڈا میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔