برسلز : ایک بھارتی پروفیسر کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت سچائی کی جیت ہے، علی رضا سید

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ۔ر) کشمیر کونسل یورپ (ای یو) کے چیئرمین علی رضا سید نے ایک بھارتی پروفیسر کی طرف سے کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ سچائی اور حق کی جیت ہے۔ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لیے ایک قانونی اور جائز جدوجہد کر رہے ہیں اورنئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر نیودتامینن نے کشمیریوں کی حمایت کرکے بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دو دنوں سے میڈیاپر ایک ویڈیونشرہورہی ہے جس میں جواہرلال نہرویونیورسٹی کی ایک پروفیسر کو دکھایاگیاہے جو طلباء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ کشمیربھارت کا حصہ نہیں اور کشمیرکی آزادی کا نعرہ جائزہے۔اگرچہ یہ تقریرایک ماہ پہلی کی گئی لیکن اسے بدھ سے میڈیاپر نشر کیاجارہاہے۔ یہ خاتون پروفیسر اپنے خطاب کہہ رہی ہیں، ’’ہرکوئی جانتاہے کہ بھارت نے غیرقانونی طورپر کشمیرپر قبضہ کیاہواہے اوریہ بات دنیامیں ہرکسی کو پتہ ہے اوراسے ہرکوئی تسلیم کرتاہے۔

اس اجتماع کے بعد یونیورسٹی کے تین طلباء کو بغاوت اورکشمیرکی آزادی کے حق میں نعرے لگانے کے الزام گرفتارکیاگیا۔جواہرلال نہرویونیورسٹی کی طلبہ یونین کے سربراہ کنہیاکمار کو بھی اسی طرح کے الزام میں جیل میں ڈالاگیا۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے کہاکہ بھارتی پروفیسر درست کہتی ہیں کہ بھارتی حکومت نے میڈیاپر سنسرشب لگائی ہوئی ہے تاکہ کشمیرکے تنازعہ کی حقیقت لوگوں کو پتہ نہ چل سکے۔ علی رضاسیدنے کہاکہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے سٹاف اور طلباء کی کشمیریوں کے حق میں حمایت کا مطلب یہ ہے کہ سنسرشب کے باجود، بھارت کے لوگوں خاص طورپر دانشوراورصاحب نظرخواتین و حضرات نے کشمیرپر حقیقت کو درک کرناشروع کردیاہے۔

ایک پروفیسر کی کشمیریوں کے حق میں تقریرا ور طلباء کی طرف سے کشمیرکی آزادی کے حق میں نعرے قابل صدتحسین اورانتہائی متاثرکن ہیں۔یہ پروفیسر اور طلبہ ان کشمیریوں کے حق میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو کئی عشروں سے اپنے بنیادی اور جمہوری حقوق سے محروم ہیں۔ اب یہ قوی امیدہے کہ بہت جلد بھارت کی تمام سول سوسائٹی کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہدمیں ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

علی رضاسید نے کہاکہ کشمیری عوام حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں لیکن بھارت ان کے اس حق کودبانے کے لیے ہرقسم کے ہتھکنڈے استعمال کررہاہے۔اگرچہ بھارت اپنے آپ کوسب سے بڑی جمہوریت کا دعویدارکہلواتاہے لیکن یہ ایک جھوٹادعویٰ اوربھارت کے اندرجعلی جمہوریت ہے ۔ نہ صرف مقبوضہ کشمیرگھمبیر صورتحال کا منظرپیش کررہاہے بلکہ بھارت کے اندر کشمیریوں کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازیں بھی دبانے کی کوشش ہورہی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ کشمیرمیں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو روکنے کے لیے انسانیت کے خلاف جرائم کر رہا ہے۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے کہا کہ کشمیریوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں۔ جب تک انہیں حق خودرادیت مل نہیں جاتا ہے، ہرقیمت پر یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ کشمیر میں ہرکوئی حق خودارادیت چاہتاہے اور اس جدوجہدکو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔