برسلز: مسئلہ کشمیر پر یورپ میں بڑے پیمانے پر ایک آگاہی مہم کی ضرورت ہے، مقررین

Kashmir Council EU- EU Week 2nd Conference

Kashmir Council EU- EU Week 2nd Conference

برسلز (پ۔ر) یورپی پارلیمنٹ برسلز میں کشمیرای یو۔ویک کے دوسرے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کشمیری ڈائس پورہ خاص طورپر یورپین کشمیریوں پر زور دیا ہے کہ وہ متحد ہو کر مسئلہ کشمیر پر بڑے پیمانے پر ایک آگاہی مہم شروع کریں تا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی مشکلات دور ہوں اور مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار ہو سکے۔

کانفرنس کا عنوان ’’کشمیرڈائس پورہ کی جدوجہد:توانائی اور ذرائع‘‘ تھا اور یہ یورپی پارلیمنٹ میں جاری کشمیر ای یو۔ویک کے دوسرے روز رکن ای یو پارلیمنٹ راجہ افضل خان کی نظامت میں منعقد ہوئی۔

کشمیرای یو۔ویک کا اہتمام کشمیرکونسل ای یونے کیاہے کہ جبکہ میزبانی کے فرائض اراکین یورپی پارلیمنٹ راجہ افضل خان، ڈاکٹرسجادکریم او ر یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈزآف کشمیرگروپ کررہے ہیں۔ وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر کشمیرای یو۔ویک کی تقریبات میں مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کررہے ہیں۔

کشمیرای یو۔ویک کے دوسرے روز کانفرنس کے مقررین نے مطالبہ کیاکہ عالمی برادری خاص طورپر یورپی یونین کو چاہیے کہ کشمیریوں پر مظالم کے خاتمے اور انہیں ان کا حق خودارادیت دلوانے میں ان کی مددکرے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر خان نے کہاکہ بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیرکی گھمبیر صورتحال سے ہٹانے کی کوشش کررہاہے۔ کنٹرول لائن پر فائرنگ بھی اسی ڈرامے کا حصہ ہے۔ بھارت کے ظالمانہ رویئے کی وجہ سے علاقے میں امن کاخواب چکناچورہوگیاہے۔ہم کشمیریوں کو چاہیے کہ ہم مسئلہ کشمیرکو عالمی برادری کی نظروں کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ ہم پاکستان کے شکرگزارہیں کہ اس نے کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔

راجہ فارو ق حیدر نے یورپی فورم کو اہم قراردیااور کہاکہ یورپی یونین کی توجہ کو کشمیر کی صورتحال پرمبذول کروانی چاہیے۔یورپی یونین کو بھی چاہیے کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔انھو ں نے کہاکہ کشمیری ڈائس پورہ دنیامیں آگاہی پیداکرنے کے لئے اہم کردار اداکرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں عام میڈیاکے علاوہ دیگر ذرائع ابلاغ جیسے سوشل میڈیاسے بھی استفادہ کیاجاسکتاہے۔
کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے امیدظاہرکی کہ یہ کانفرنس مسئلہ کشمیرکے حوالے سے کوششوں کو تیزکرنے کے سلسلے میں موثر ثابت ہوگی۔ ان کے بقول، دونوں طرف کے رہنے والے کشمیری ایک ملت ہیں اور مقبوضہ کشمیرکے لوگوں کے درد کو آزادکشمیراور دیگرجگہوں کے رہنے والے کشمیری بھی برابر محسوس کرتے ہیں۔انھوں نے تنازعہ کشمیرپر کوششیں تیزتر کرنے پرزوردیا ۔ انھوں نے کانفرنس کے شرکاء کو کشمیرکونسل ای یو کی کاوشوں سے آگاہ کیااور کہاکہ کانفرنسوں اور سمیناروں کے علاوہ کونسل کی طرف سے یورپ میں کشمیرپرایک ملین دستخطی مہم ایک عرصے سے جاری ہے۔

انھوں نے وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فارو ق حیدر ، سینئر وزیرطارق فاروق اورکانفرنس کے دیگر مندوبین کا شکریہ اداکیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ افضل خان نے کہاکہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری ممالک ہیں اور کشمیرخطے میں ایک جوہری فلیش پوائنٹ ہے۔ جوہری جنگ کا خطرہ موجودہے جو عالمی امن کے لئے خطرناک ہوگا۔انھوں نے مسئلہ کشمیرکو اجاگرکرنے کے لئے کشمیرکونسل ای یو کی کاوشوں کو سراہا۔

یورپی یونین کے سابق سفیرانتھونی کرزنرنے کہاکہ کشمیریوں کے مصائب کم کرنے کے لئے نئے اورموثر آئیڈیازپر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ورلڈ کشمیر ڈائس پورہ الائنس کے چیئرمین فاروق صدیقی (فاروق پاپا) نے کشمیری ڈائس پورہ کے مابین اتحاد پر زوردیا۔

انھوں نے کہاکہ اگرچہ بہت سے کشمیری باہر کے ممالک میں رہنتے ہیں لیکن ان کی متعدد تنظیمیں ہیں اور آپس میں اختلافات موجودہیں۔امورکشمیرکی ماہر سعدیہ میر نے کہاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیناہوگا۔ انھوں نے کشمیرپر سفارتی کوششیں بڑھانے پرزوردیا۔فری کشمیر آرگنائزیشن جرمنی کے چیئرمین صدیق کیانی نے مقبوضہ کشمیرکے عوام کے ساتھ یکجہتی کااظہارکرتے ہوئے ان پر مظالم بند کروانے کا مطالبہ کیا۔

خاص طورپر عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان مظالم کو روکوانے بشمول پیلٹ گن کا استعمال بند کروانے کے لئے اقدامات کرے۔چیئرمین کشمیرانفومیرشاہی جہاں نے مقبوضہ کشمیرمیں حالیہ مظالم کی تفصیلات بتاتے ہوئے عالمی برادری سے کشمیریوں کی مدد کی اپیل کی۔کشمیرسنٹر ہالینڈ کے راجہ زیب خان نے کہاکہ کشمیریوں پر مظالم سات عشروں سے جاری ہیں اوراب ان مظالم کو روکاجاناچاہیے۔ کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم آزادکشمیرنے رکن ای یو پارلیمنٹ راجہ افضل خان کو ان کی کشمیرپر خدمات کے اعتراف کے طورپر اعزازی شیلڈ پیش کی۔

برطانیہ سے ڈاکٹرعرفان خالد، فرزانہ افضل، صبیحہ خان، وحیدہ خان، کنیزاختر، یاسمین ڈار اورعظمت خان (جے کے ایل ایف)نے خطاب کیا۔

کانفرنس کے دوران ماہرین، دانشوروں، سیاسی زعماء، انسانی حقوق کے علمبردار اور صحافیوں کی بڑی تعدادموجودتھی۔بعدازاں کشمیری کمیونٹی بلجیم کی طرف سے برسلز میں وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر ، سینئر وزیرطارق فاروق اور دیگرمہمانوں کے اعزازمیں عشائیہ دیاگیا۔عشائیے سے کشمیرکونسل ای یوکے سینئر رہنماء سردارصدیق، دانشورعمران ثاقب اور دیگر نے خطاب کیا۔

کشمیرای یو ۔ویک یا ’’یورپ میں ہفتہ کشمیر‘‘ جس میں بین الاقوامی کانفرنس، متعددسیمینارز، مباحثے، ورکشاپس ، کشمیرپردستاویزی فلم اور عکاسی اور دست کاری کی اشیاء کی نمائش شامل ہے، یورپی پارلیمنٹ میں جمعہ گیارہ نومبر تک جاری رہے گا۔ ہفتہ کشمیرکے دوران مقبوضہ کشمیرکی تازہ ترین صورتحال پر ایک رپورٹ بھی پیش کی جارہی ہے جس میں گذشتہ چار ماہ سے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے بارے میں حقائق شامل ہیں۔کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے کشمیرای یو ۔ویک کی سالانہ تقریبات کا سلسلہ گذشتہ سات آٹھ سالوں سے جاری ہے۔اس کے علاوہ بھی کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے دیگر مواقع پر بھی مسئلہ کشمیرپر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام وقتاًفوقتاً یورپ کے قانون ساز، تحقیقی اورعلمی اداروں میں اجلاسوں، کانفرنسوں ، مباحثوں اور سیمیناروں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔