برسلز میں مودی کا تعقب ایک نئی فکرکے ساتھ

Protests

Protests

تحریر: سید سبطین شاہ
جب کوئی انسان کسی دوسرے کا تعقب کرتاہے تو اس میں کئی مقاصد کارفرماہوسکتے ہیں۔ ایک مقصد محبت بھی ہوسکتاہے لیکن دوسرامقصد نفرت یا نفرت کا جواب بھی ہوسکتاہے۔ یعنی کبھی انسان کسی دوسرے کی محبت میں اس کا تعقب کرتاہے اور کبھی کبھار ایسا ہوتاہے کہ نفرت کے لیے یا نفرت کاجواب دینے کے لیے دوسر ے کا تعقب کرتاہے۔ راقم نے گذشتہ دنوں بلجیم کے دارالحکومت برسلز کا سفر کیا۔ اس دوران برسلزمیں حالیہ دہشت گردی کے بعد شہرکی فضاء بدستور غمگین تھی۔ ایسے میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا پہلے سے طے شدہ دورہ بلجیم انجام پذیرہوا۔

مودی برسلزمیں یورپی یونین کے ہیڈکواٹرز آئے تو وہاں ایک عجیب سا منظرتھاکہ بڑی تعداد میں کشمیری، سکھ اوردیگر یورپی یونین کی عمارتوں کے سامنے کھڑے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ مودی تو جہاں بھی جائے گا ، ہم تیرا پیچھے کریں گے۔مودی کا یہ تعقب ان کی محبت میں نہیں تھابلکہ یہ تعقب اس نفرت کا اظہارتھاجو ایک لمبے عرصے سے جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کے جواب میں پیداہوئی ہے۔ یہ مظاہرہ کشمیر کونسل یورپ نے سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مددسے ترتیب دیاتھا۔مظاہرے کی قیادت کشمیرکونسل یورپ کے چیئرمین علی رضاسیدکررہے تھے اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر برسٹر سلطان چوہدری خصوصی دعوت پر مظاہرے میں شریک ہوئے۔ ان دو کے علاوہ کچھ دیگر شخصیات نے بھی تقاریرکیں اور سب کے الفاظ یہی تھے ،

’’مودی تو جہاں بھی جائے گا،تیرا پیچھاکریں گے۔‘‘ یہاں یہ بات کہناایک اچھاامرہوگا کہ بلجیم کی حکومت نے برسلزکے خودکش دھماکوں کے بعد انتہائی گھمبیرحالات میں بھی مظاہرے کی اجازت دی جو اس ملک کے صحیح جمہوری ہونے کی واضح دلیل ہے۔ مظاہرین نے پلے کارڈزاور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر مودی کے خلاف نعرے درج تھے ۔ اگروزیراعظم مودی کی زندگی کا مطالعہ کیاجائے تو ان کے متعلق یہ جملہ بالکل درست ہے ، ’’بدنام ہوں گے، نام تو ہوگا۔‘‘ مودی ایک ایسا سیاستدان ہے جو سفاک ہونے کے باوجود انتہائی مکاری اور چالاکی سے اوپر آیاہے۔ یہ وہ ہی مودی تھا جس کے امریکہ آنے پر اس لیے پابندی تھی کیونکہ اس کی وزارت اعلیٰ کے دوران گجرات میں بہت سے بے گناہ لوگ قتل کردیئے گئے ۔یعنی ان مسلمانوں کے قتل عام کاالزام اس شخص پرلگااور وزیراعظم بننے کے باوجود وہ ابھی تک اس داغ کو دھونہیں سکا۔ اگر انسان کے جرائم کو زمانہ بھول بھی جائے تو تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کرتی۔ وقت کے ساتھ ان رازوں سے بھی پردہ اٹھ ہی جاتاہے جو حکومتی دباؤ کی وجہ سے دبا دیئے جاتے ہیں۔ کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو اپنے جرائم پر ہمیشہ شرمندہ رہتے ہیں لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کبھی شرم نہیں آتی بلکہ وہ اپنے جرائم پر فخر کرتے ہیں۔

Protests

Protests

مودی کی بھی ایسی ہی شخصیت ہے کہ وہ ہی امریکہ اس شخص پر پابندی لگاتارہا اور جب وہ وزیراعظم بنا تو اس پر سے امریکہ سفر کرنے کی پابندی اٹھ گئی ۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ اب تو مودی یورپ کی سیر کرنے نکل پڑے۔ یہ سفرکچھ اس طرح ہے کہ جیسے کہاجاتاہے، ’’ بلی سو چوہے کھاکرحج پہ گئی۔‘‘ بہرحال مودی کا دورہ یورپ بڑاعجیب رہا۔ یورپی حکام مذاکرات کے دوران مودی کے چہرے کو ضرور غور سے دیکھ رہے ہوں گے اور دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے کہ ہم کیسے شخص سے بات کررہے ہیں۔ جس پر قاتل اوردہشت گردہونے کے الزامات ہیں ۔دورکی بات چھوڑیں، اسی عمارت کے باہر جہاں یورپی حکام کے ساتھ مودی کے مذاکرات ہورہے تھے ، لوگ مودی کی تصاویروالے کتبے اٹھاکرکھڑے تھے اورہرتصویرپرسرخ رنگ میں کراس کے نشان کے نیچے لکھاتھا کہ مودی قاتل اور دہشت گرد ہے۔ یہ فطری امر ہے کہ انسان کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت حالات کو ضرور دیکھتاہے اور یہ بھی ضرورسوچتاہے کہ جس شخص سے وہ بات کررہاہے یا کوئی وعدہ کرناچاہتاہے، آیا وہ کہیں عادی مجرم تو نہیں یا اپنے مفاد میں معاہدے سے منحرف تو نہیں ہوجائے گا۔

Syed Ali Raza

Syed Ali Raza

یورپی حکام نے بھی مودی سے مذاکرات کرنے سے پہلے تمام پہلووں کو مدنظر رکھاہوگا۔خاص طورپر مودی کا سابقہ ریکارڈ بہت ہی اہم ہے اوریورپ اس بھیانک ریکارڈ کو دیکھ کرہی کوئی فیصلہ کرے اس کے علاوہ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ جب سے مودی حکومت برسراقتدارآئی ہے ، نہ صرف کشمیریوں پر ظلم وستم بڑھاہے بلکہ بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کی زندگی بھی انتہاپسندوں کے ہاتھوں اجیرن ہوکررہ گئی ہے ۔یورپی ہیڈکوارٹر کے باہر پرہجوم مظاہرے کے اختتام پر جب کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید یورپی حکام کو ایک یاداشت پیش کرکے واپس آئے تو راقم نے ان سے پوچھاکہ آپ کی احتجاجی یاداشت میں کیا تھا؟ انھوں نے فرمایاکہ اس مراسلے میں کشمیرکونسل یورپ نے یورپی حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ترجیح تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدوں پر عمل درآمد سے پہلے مقبوضہ کشمیرمیں کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو حاصل استثناء اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر غورکریں اوربھارت میں رہنے والی اقلیتوں اور نچلے طبقے کے ساتھ نارواسلوک کو ضرور مدنظر رکھیں۔

ان کی بات ابھی جاری تھی کہ راقم نے ان سے دوسرا سوال پوچھ لیا، ’’آیایورپی حکام آپ کی اپیل پر غور کریں گے یا اسے نظراندازکردیں گے؟ موصوف کہنے لگے ، ہماری کوشش ہے، آگے ان کی مرضی! ساتھ ہی فوراً بولے ، ’’یورپین بڑے سنجیدہ لوگ ہیں اور وہ کسی کی سنجیدہ اور مدلل بات کوٹال نہیں سکتے۔‘‘ بہرحال یہ ایک دلچسپ اور بھرپورمظاہرہ تھا اور مظاہرین میں کشمیریوں اور ان کے ہمدردوں کے علاوہ سکھ برادری کے لوگ بھی شامل تھے۔سکھوں کی اس مظاہرے میں شرکت سے ثابت ہوتاہے کہ کشمیرکی تحریک آزادی کے ساتھ ساتھ سکھوں کی تحریک اب بھی باقی ہے اور مودی کے نارواسلوک نے انہیں اپنے حقوق کے لیے عالمی سطح پردوبارہ آوازاٹھانے پر مجبورکردیاہے۔جس اندازسے اور جس نئی فکرکے ساتھ برسلزمیں مودی کا تعقب کیاگیاہے ، اس سے لگتاہے کہ کشمیری اپنے عزم پر قائم ہیں اوربھارت میں موجودہ حالات سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ کشمیریوں کے علاوہ سکھوں سمیت بھارت کی اقلیتیں اورنچلے طبقات بھی اپنے حقوق کے لیے ایک بارپھر سامنے آناشروع ہوگئے ہیں۔

Syed Sibtain Shah

Syed Sibtain Shah

تحریر: سید سبطین شاہ