روشن پاکستانی چہرے

Pakistan

Pakistan

شاہ بانو میر
روشن پاکستانی چہرے

پرسکون مہذب با ادب سلیقے کا پہناوا اور معیاری گفتگو میرے پاکستان کی اصل ضرورت پڑھے لکھے روشن دماغ روشن خیال لوگ جو آج ہمارے ساتھ ہیں –

نہ حب دنیا نہ حب مال
مقصد ہے تعبیر حاصل کرنا قائد کے پاکستان کی اقبال کے دیس کی
پاکستان کو افق کی بلندیوں پر لے جانا جس کیلئے یہ فرانس سے اڑان بھر کر اپنے پیارے پاکستان روانہ ہونے والے ہیں –

یہ ایسا پاکستانی جوڑا ہے جو پی ایچ ڈی کرنے فرانس آیا اور الحمد للہ میاں صاحب اپنا تھیسسز مکمل کروا کے جمع کروا چکے ہیں – یعنی وہ سرخرو ہو گئے اور بیگم صاحبہ عنقریب دوبارہ واپس آکر نامکمل کام کو مکمل کریں گی –

محنت سے جد جہد سے سچی کھری کوشش کرکے دن رات تعلیمی درسگاہوں سے قیمتی زرو جواہر عرق ریزی سے حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کرتے دکھائی دیتے ہیں –

میں نے ان کے واپسی کے دیلرانہ فیصلے کو سراہتے ہوئے جب انٹرویو کا کہا تو ان کا اصرار تھا
کہ
ان سے پہلے بہت سی روشن مثالیں ہیں جو اعلیٍ تعلیم حاصل کر کے وطن لوٹیں اور آج وہ بہترین دماغ پاکستان کیلئے بہترین طالبعلم بزریعہ تعلیم بیرون ملک اعلیٍ تعلیم کیلئے تیار کر رہے ہیں – اصل ہیرو وہ ہیں –

ہم نے تو ابھی پاکستان جا کر عملی دنیا میں قدم رکھنا ہے ہم پہلے سے کیا کہیں؟
سنئے ان کی بلند سوچ روشن خیالی اور ذہانت سے مرصع گفتگو

سوال: آپ کا یہاں آنا پھر تعلیم حاصل کرنا اور اس کے بعد واپسی کیسا سفررہا ؟
جواب: لگتا ہے ابھی کل ہی کی بات ہے دل میں ایک خیال تھا اعلیٍ تعلیم کا حصول مگر وسائل محدود تھے
حکومت پاکستان نے مدد کی یوں فرانس آنا ہوا اوربعد میں مسزکو بلا لیا – ہم دونوں نے ایک ساتھ تعلیم شروع کی آج کامیابی کا سفر مکمل ہوا – کچھ روز بعد ہماری واپسی ہے انشاءاللہ
بہت سے طالبعلم جو یہاں آتے ہیں پاکستان کے غیرمحفوظ ماحول اور غیریقینی اداروں کی کارکردگی سے قدرے پریشان ہو کر سوچتے ہیں کہ ڈگری کے بعد یہیں سیٹنگ کر لی جائے –
لیکن
ہم دونوں کا خیال تھا کہ پاکستان کے لئے کام کرنا ہے اور پاکستان کی ترقی میں حصہ لینا ہے –
تا کہ
یہاں کی طرح وہاں بھی بہترین نظام قائم کیا جائے – اتنی جلدی تو ممکن نہیں لیکن اگر ہر انسان یہی سوچ کر وہاں سے کنارہ کشی اختیار کرے تو پہلی اینٹ کب کون رکھے ؟
اسی لئے بڑے حوصلے اور بلند سوچ کے ساتھ رخت سفر باندھا ہے –

سوال: یہاں رہنے کے دوران کوئی خاص بات جو آپ کہنا چاہیں ؟
جواب: حکومت پاکستان بلاشبہ بہت مدد کرتی ہے سٹوڈنٹس کی لیکن ابھی بھی اتنا مؤثر نظام موجود نہیں ہے بعض اوقات محدود وظائف کے ملنے میں تاخیر ہو جاتی ہے –
جو شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے – مقررہ تاریخ پے وظائف کا ملنا تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کیلئے بہت ضروری ہے –

سوال: سفارت خانہ پاکستان کا رویہ آپ جیسے سٹوڈنٹس کے ساتھ کیسا ہے؟
جواب: جی جب کبھی ہمیں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو ہر طالبعلم کی سوچ میں واحد نام یہی ابھرتا ہے اور ہم سفارت خانہ پاکستان کا خصوصی طور پے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ہمیشہ ہی انہوں نے بھرپور مکمل تعاون کیا ہے –

Books

Books

سوال: فرانس کی ایسی کونسی بات ہے جو وہاں آپکو مدد دے گی کام کرنے میں؟
جواب: یہاں رہنے کے دوران پی ایچ ڈی اگر پاکستان کی جاتی تو ہم دونوں ہی ایک مصنوعی انداز میں تعلیم حاصل کرتے جس میں جدو جہد اور محنت کم ہوتی – مگر پردیس میں سیکھنے کو بہت کچھ ملا – پاکستان کا نصاب انگریزوں کا دیا ہوا ادھار کا تحفہ ہے جبکہ فرانس ھکومت کا سلیبس ان کے ذاتی تجربات مشاہدات اور معاشرے مین رونما ہونےت والے واعات تجربات کا نچوڑ ہے – ہم نے اصل تعلیم مکمل حقائق کے ساتھ حاصل کی ہے – یہ اصل علم بہت مؤثر ثابت ہوگا –
پی ایچ ڈی کا ایک معیار ہے جو پاکستان میں محض کتابوں اور بڑے بڑے پروفیسرز تک محدود ہے- مگر دیار غیر میں تعلیمی اخراجات کو مزید بہتر انداز میں پورے کرنے کیلئے کئی بار کام کرنا پڑا – کتابیں تھامنے والے ہاتھ جب معمولی کام کرتے ہیں تو اس میں ان کیلئے شائد حکمت یہ محسوس ہوئی کہ بے وجہ کی اکڑ غرور نہیں پیدا ہوتا – انکساری پیدا ہوتی ہے –
کوئی ایسی بات جو مسائل کے ضمن میں آپ حکومت پاکستان سے کہنا چاہیں ؟
جی ہاں بہت بنیادی مسئلہ ہے اور وہ ہے قلیل رقم ماہانہ ایک پی ایچ ڈی طالبعلم کو صرف 900 یورو 2005 میں بھی ملتے تھے اور اب بھی یہی رقم ہے
جبکہ
اس دوران مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے – ٹرانسپورٹ 100 فیصد بڑہی ہے – عام روزمرہ کی اشیاء خوردو نوش بھی بہت بڑھ گئیں ایسے میں گھر کے کرائے کے ساتھ کھانا پینا ٹرانسپورٹ بہت مشکل کر دیتی ہے گزارہ – اسی وجہ سے تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ کام کرنا پڑتا ہے –
یہاں ایک ایسوسی ایشن تھی ہمارے مسائل کے حل کیلیئے جیسے ہی کوئی اسٹوڈنٹ آتا تھا وہ اسے پہلے یہاں لینگویج کورس کرواتی تھی پھر اسکی تعلیم شروع ہوتی تھی
اب ایسا نہیں ہے ایچ سی نے لازمی کر دیا ہے کہ پاکستان سے ایم اے انگلش کریں پھر یہاں آئیں –
فرنچ اسٹیٹ میں آکر سوشل سائینس کیلئے پہلے انگلش چہ معنی دارد ؟

سوال: کوئی ایسی بات جو آپکو پاکستانی کمیونٹی میں اچھی لگی ؟
جواب: ہمارے پاکستانی زبان کے بڑ بولے مگر دل کے بہت اچھے ہیں ابھی ایک دوسرے کے خلاف طنز کے تیر چلا رہےہوں گے اور ابھی کے ابھی اگر کسی پر کوئی ناگہانی آفت آجائے یا کوئی مصیبت اس وقت اس قوم کا حسب روایت جزبہ قابل دیدنی ہے – یہ خوبصورت احساس ہے کہ ابھی ظاہری شخصیات کے اندر احساس زندہ ہے –

Poverty

Poverty

سوال: ایسی کوئی بات جس نے آپکو یہاں مایوس کیا ؟
جواب: ہمممم ……. گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے انداز میں بہت دورتک غالبا نگاہ دوڑا کر کوئی حتمی تجزیہ طے کر کے وہ بولے
یہاں سب سے بڑی تقسیم جو ذہنوں میں ہے اور جو روایتی پاکستانی طرز زندگی ہے وہ تکلیف دہ ہے –
آپ پاکستان سے آکر بھی جب ایک خاص حیثیت پر پہنچ جاتے ہیں تو وہاں ہوئی ماضی کی ناکامیاں غربت اور محرومیاں ہمارے لاشعور میں کہیں خاموش ہوتی ہیں –
جنہیں مخصوص سیاسی انداز میں جگا کر باقاعدہ پاکستان کی طرح ہر شعبے میں ہم خیال لوگوں کو ملا کر کئی اقسام کے گروپ بنا دیئے گئے –
تعلیم انسان کو وسیع النظری سکھاتی ہے – دور اندیشی کے ساتھ حکمت عملی کے ساتھ مہذب انداز میں اپنا ما فی الضمیر بیان کرنا سکھاتی ہے –
افسوس
یہاں گروپس کی بندر بانٹ اور صدارتوں کی دوڑ نے ہر مقصد کو صفر کر دیا محض شخصیات کا نام اور
دولت کا استعمال عدم توازن کا باعث بن گیا – ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کی حس معدوم ہو چکی –
اصل میں بد نصیبی یہ ہوئی کہ گاؤں کا ایک بڑا طبقہ یورپ حصول روزگار کیلئے آیا – ہاتھوں کی محنت اور بے تحاشہ غربت کو ختم کرنے کیلئے جاں توڑ محنت کی گئی – اور اسکا صلہ انہیں کامیابی کی صورت ملا
اب جب کامیاب ہوگئے اور فارغ البال بھی تو ایسے میں کئی دلچسپیوں نے جنم لیا –
جن میں مردوں کا پسندیدہ شعبہ سیاست ہے – بیرون ملک پارٹی مقاصد کو فروغ دینے کیلئے پیسے والوں نے سیاست شروع کی تو دیکھتے ہی دیکھتے سادہ سی کمیونٹی سیاست سے تقسیم ہوئی اور اب تو یہ تقسیم خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے –
جہاں ہر گروپ جو اس کے ساتھ وہی اچھا باقی سب غلط
یہ نقطہ زوال ہے

ہم نے بھی ایک سیاسی جماعت میں شامل ہو کراستحکام پاکستان اور تبدیلی کیلئے کام کرنا چاہا لیکن ….
ہم جیسے طالبعلم اچھے ماحول اور کشادہ سوچ کے مالک ہوتے ہیں –
تنگ دلی دھکم پیل پکڑ دھکڑ ہمارا شیوہ نہیں – بجائے ہماری قدر کی جاتی الٹا ہمیں نجانے کیوں پریشان کیا گیا –
لہٍذا ہم خاموشی سے الگ ہو گئے –

سوال: کچھ یہاں کے ادبی حلقوں کی جانب سے ان کے کام کیلئے کہنا چاہیں؟
جواب: جی ہاں دیگر شعبوں کی طرح یہاں بھی یہی مسئلہ تواتر سے دوران قیام دیکھا –
ایک بات تو حتمی ہے کہ شائد ہی کوئی ایسا مصنف شاعر یورپ میں ہو کہ جس کی اہلیت کو ہم پاکستان کے بلند پایہ شعراء یا ادیبوں سے ملا سکیں – جیسے جیسے زندگی نے مہلت دی اور وقت ملا تو یہاں کئی افراد جو حقیقی معنوں میں ادبی تحقیقی صحافتی جراثیم رکھتے ہیں انہوں نے کام کیا ہے اور بہت کیا ہے یہاں – قابل قدر ہیں ایسے دماغ جو کچھ تو کر رہے ہیں –

سوال: پاکستانی فیمیلز سے آپکا رابطہ ہوا کیا اچھا لگا کیا برا؟
جواب: جی ہاں کام کے سلسلے میں بہت سی فیملیز کو ملنا ہوا – کچھ لوگ سچائی کے علمبردار لگے اور کچھ نے جھوٹ پر جھوٹ بولے – وہی عام روٹین جوہمارے کلچر کا حصہ ہے –

Wajeeha Imran

Wajeeha Imran

سوال: پاکستانی فیملیز کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: پاکستانی فیملیز کیلئے یہ کہنا چاہوں گی کہ موجودہ دور سخت دور ہے گھروں میں میانہ روی کو فروغ دیں آپ کے بچوں نے باہر جانا ہے اسی معاشرے میں رہنا ہے اور زندگی گزارنی ہے – شدت پسندی سے انہیں بچائیں – دولت اور آسائشات کی بھرمار نے بچوں کو قدرے یہاں کے سرد ماحول کی طرح سرد اور رواداری سے عاری کر دیا ہے –

اس جانب توجہ دیں کہ حالات اور ذہنوں کی دوری کی وجہ سے اب پاکستان میں رشتے نہیں کئے جا رہے –
اگر رشتے یہاں ہونے ہیں تو پاکستانی ماحول کو اور مزاج کو گھروں کے اندر مزاج کا حصہ بنائیں –
آپً نے فتح مکہ حسن سلوک سے کیا تھا آج مسلمانوں پر زندگی تنگ ہوتی محسوس ہو رہی ہے ایسے میں بچوں پر نگاہ رکھیں کہ وہ شدت پسندی کی جانب مائل نہ ہوں – پرسکون رہتے ہوئے آئیڈیل ماحول بنائیں انتشار سے نفرت سے طنز سے پاک پرسکون صابر اور شاکر ماحول گھر میں اسلام کی درست تعلیمات کو آغاز کریں – کہ یہی راہ نجات ہے –

سوال: پیرس میں موجود پاکستان سے آئے ہوئے اسٹوڈنٹس کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے
اعلی تعلیم کے بعد ہر طالبعلم کو چاہیے کہ وہ اس سوچ کو احساس کو اپنے ضمیر میں زندہ رکھے کہ
کہ اسکو حکومت پاکستان نے عوام کے ٹیکس کی مد سے سپورٹ دی ہے جو ایک طرح سے اس کی ذات پر اس کی کامیابی پر قرض ہے – وہ اصل میں مقروض ہے اور اس قرض کو لوٹانے کا سب سے بہترین انداز یی ہے
کہ
اپنے وطن کی دگرگوں حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیم مکمل کرتے ہی پردیس میں رہائش کی تگ و دو نہ کرے –
بلکہ
اپنے وطن واپس جائے اور وہاں جا کر اپنے ملک کی اور اس کی عوام کی شکر گزاری کے ساتھ ان کیلئے خدمات سر انجام دے –
اصل پاکستان قائد اعظم کا پاکستان بنائے
یہ ہیں روشن خیال
روشن چہرے نیا پاکستان

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر: شاہ بانو میر