کیپٹن اسفند یار شہید ا ن شاء اللہ

Captain Esfandiar Bukhari

Captain Esfandiar Bukhari

تحریر:حذیفہ یمان
میرے دشمن مجھے کمزور سمجھنے والے
مجھے دیکھ کبھی تاریخ کے آئینے میں

میں نے ہر عہد میں توڑا ہے رعونت کاطلسم
میں نے ہر دور میں ایک باب نیا لکھا ہے

میرا دشمن یہ حقیقت نہ فراموش کرے
بیعت ظلم وستم میری روایت ہی نہیں

مجھ کو میدان سے پسپائی کی عادت ہی نہیں

شہداء مر کر بھی زندہ ہوتے ہیں اور یہ قران میں اللہ خود فرماتا ہے:
”وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَات بَلْ أَحْیَاء وَلَٰکِنْ لَا تَشْعُرُونَ”

”اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ مگر تمہیں (ان کی زندگی کی حقیقت کا) شعور (سمجھ) نہیں ہے۔” سو میں اپنے بیٹے کی جدائی پر غم کیسے کر سکتا ہوں ۔ پر نم آنکھیں،لیکن پرعزم چہرے کے ساتھ کیپٹن اسفندیار بخاری شہید کے والد کے لہجے میں ہلکا ساتفاخر بھی تھا اور وہ اس پرحق بجانب تھے کہ شہادت اعزاز ہی ایسا ہے جس پر کوئی بھی والد فخر کر سکتا ہے۔اپنے بیٹے کی وفات پر کسی باپ کا ایسے کلمات کہنا نہ صرف اسکے بلند حوصلہ کی دلیل ہے بلکہ عزم و ہمت کی ایک داستان ہے جو ان الفاظ سے عیاں ہوتی ہے۔

کیپٹن اسفندیار 14 اگست 1988 کو اٹک میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم آرمی پبلک سکول سے حاصل کی بعد ازاں کیڈٹ کالج حسن ابدال سے انٹر کیا اور آرمی میں بطور کمیشنڈ افسر شمولیت اختیار کی۔ ان کے والد ڈاکٹر سید فیاض بخاری اٹک کے مشہور پتھالوجسٹ ہیں اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں ۔ کیپٹن اسفند یار کے متعلق جب گفتگو چلی تو اندازہ ہوا کہ اس قوم نے کیسے کیسے بہادر لعل اس دھرتی کی حفاظت کے لیے قربان کیے ہیں ۔یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی کیپٹن اسفندیار کا تعلیمی کیرئر شاندار کارکردگی پر مبنی تھا۔ انہوں نے میٹرک میں 86 فیصد اور انٹر پری میڈیکل میں 83 فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔

Dr. Fayyaz Bukhari

Dr. Fayyaz Bukhari

ڈاکٹر فیاض بخاری کی شدید خواہش تھی کہ بیٹا ڈاکٹر بنے مگربیٹے کی سوچ نے انہیں بھی حیران کر دیا ۔18 سالہ اسفند یار کا کہنا تھا کہ اباجان! دوشعبے زندگی کے ایسے ہیں کہ جہاں لائق ترین افراد کوجانا چاہیے ایک فوج اور دوسرا مسجد ۔شہید کا کہنا تھا کہ ایک کا مقصد قوم کی جسمانی و مادی حفاظت ہے اور دوسرے کا مقصد قوم کے ایمان اور اسلام کی حفاظت ہے۔چنانچہ اگر دونوں لائق اور قابل ہوں گے تو قوم دونوں اعتبار سے محفوظ رہے گی اور فتنوں سے بچی رہے گی۔ ڈاکٹر فیاض بخاری کہتے ہیں کہ اس جواب پر میں خاموش ہوگیا اور بیٹے کوفوج میں شمولیت کی اجازت دے دی۔ کیپٹن اسفندیار سینکڑوں اعزازات ،تعریفی اسناد ،گولڈ میڈلزاور انعامات( ضلعی حکومت سے لے کر گورنر پنجاب تک سے )وصول کرچکے تھے کالج میں بھی ہم نصابی سرگرمیوں میں بلاشبہ بہترین کارکردگی کے حامل تھے۔ہر فن میں طاق ،ہر کھیل کے ماہر اور ہر میدان کے اسرارورموز سے بخوبی آگاہ تھے۔

ایک طرف جسمانی کھیلوں میں آگے ،دوسری طرف علمی وادبی سرگرمیوں میں بھی لاجواب تھے۔کالج دور میں ہی ایک مجلہ کے معاون مدیر بھی رہے لیکن ان سب میںسے بڑھ کر اسلام کے بہت قریب تھے۔اسلام کی قربت ہی ان کی بہادری کی بڑی وجہ تھی۔ڈاکٹر فیاض بخاری کہتے ہیں کہ اس کی بہاردی صرف اسلام سے محبت اور قربت کی وجہ سے تھی۔ ان کے والد فیاض بخاری کہتے ہیں کہ شہید کی والدہ نے ان کی تربیت قرآن پر کی تھی۔والدہ خود بھی قرآن پڑھتی اور پڑھاتی ہیں اور انہوں نے اپنی اولاد کو بھی ممکن حد تک قرآن پاک کی تعلیم دے رکھی تھی۔ چنانچہ اس کا اثر کیپٹن اسفند یار کی زندگی میں بھی نمایاں نظر آتا تھا۔چنانچہ شہید کے والد کے الفاظ تھے کہ مائیں جب تک اپنے بچوں کی تربیت قرآن و سنت پر کرتی رہیں گی، اسفندیار جیسے بہادر نوجوان پیدا ہوتے رہیں گے۔

انٹر میڈیٹ کے بعد جبفوج میں شمولیت اختیار کی تو کاکول اکیڈمی میں جلد ہی ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر سامنے آنے لگے۔ عسکری و غیر عسکری تمام اسباق میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ اساتذہ کے منظورنظر تھے اور ساتھیوں کے بہترین دوست…!یہاں بھی ہر کھیل میں اپنا نام منوایا اور بالآخر جب ٹریننگ ختم ہوئی تو اس وقت کے آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کی طرف سے اعزازی تلوار سے نوازاگیا۔ اس ذہین ترین کیڈٹ کی صلاحیتوں کے سینئرز اور جونئیر سبھی معترف تھے چنانچہ جہاں وقت گزار لوگ آج بھی وہاں ان کی یادوں کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ۔ ڈاکٹر فیاض ان کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جب بڈھ بیر بیس پر حملہ ہوا تو کیپٹن اسفندیار نے اپنے بریگیڈیئر سے اصرار کر کے اجازت لی کہ ان دہشت گردوں سے میں خود نمٹ لوں گا۔ان سینئرز ا ور جونئیرز نے کہا کہ ہم رک جاتے ہیں اور کمانڈوز کا انتظار کرلیتے ہیں لیکن جذبہ شہادت کہاں چین سے بیٹھنے دیتا ہے۔کیپٹن اسفندیار دراصل جی تھری کیپٹن تھے۔آرمی میں جی تھری کیپٹن کا کام صرف پلا ننگ ہوتا ہے لیکن اس حملہ کے موقع پر کیپٹن اسفند یار خود آگے بڑھے اور ان حملہ آوروں سے مقابلہ کیا۔

Terrorist

Terrorist

وہ دہشت گردوں کو کوئی موقع نہیں دیناچاہتے تھے چنانچہ آگے بڑھے اور ان پر ہلہ بول دیا۔ پہلے ہی حملے میں تین کو مارگرایا۔ ان کے اس اقدام سے آرمی کے دیگر جوانوں کا حوصلہ بھی بلند ہوا اوروہ بھی آگے بڑھ کر دہشت گردوں کے حملوں کا جواب دینے لگے۔ اسی دوران ایک خالی کمرے کے متعلق کیپٹن اسفندیار نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کچھ شرپسند اس کمرے میں ہیں ان کے حوالدار نے کہا کہ سر!میں دیکھ لیتاہوں لیکن وہ خود آگے بڑھے ۔جونہی آگے بڑھے تو اوٹ میں چھپے ایک دہشت گرد نے ان پر گولی چلائی جواباََ انہوں نے بھی حملہ کیا اور اس پر برسٹ فائر کیا لیکن دشمن کا یہ حملہ کارگرتھا ۔یہ زخم کیپٹن اسفندیار کو شہادت پر فائز کرگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون کیپٹن اسفندیار کے والد ڈاکٹر فیاض کہتے ہیں کہ جب مجھے شہادت کی اطلاع ملی اور کچھ دیر گزری تو مجھے خیال ہوا کہ دیکھ تو لوں کہ بیٹے نے جام شہادت کس انداز میںپیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ”مجھے خدشہ تھا کہ کہیں بیٹے کی پیٹھ پر گولی نہ لگی ہو یاکوئی اور ایسی وجہ نہ ہو لیکن جب شہید کے جسم کا دیدار کیا تو میرا سر فخر سے بلند ہوگیا کہ میرے بیٹے نے گولی چھاتی پر کھائی تھی۔وہ بہادری سے لڑا اورآگے بڑ ھ کر اس نے جام شہادت نوش کیا تھا۔”

باپ اور بیٹے کا رشتہ اگر چہ تعارف کا محتاج نہیں ہے لیکن یہاںاس میںبھی ایک انفرادیت ہے ۔شہید کے والد کہتے ہیں کہ اسفندیار وہ طوطا تھا کہ جس میں میری جان قید تھی۔ہم نے پوچھا !پھر شہادت کی اطلاع پر کیا ردعمل تھا،کیونکہ بہرحال جدائی تو تھی…! وہ کہنے لگے” اللہ تعالیٰ نے مجھے دوچیزیں عنایت کیں ایک میرے بیٹے کو شہادت اور دوسری مجھے استقامت …! ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میں دھاڑیں مار کر روتا اورخوب پریشان ہوتالیکن یہ میرے اللہ کافضل ہے کہ اس نے مجھے حوصلہ دیا آنسو اگرچہ ضرورگریلیکن زبان سے کلمہ شکر ہی ادا ہوا۔”
پھر وہ مزید کہتے ہیں کہ جب قرآن نے کہہ دیا کہ شہید زندہ ہیں مرتے نہیں ہیں بلکہ ان کو رزق دیا جاتا ہے پھر میں غمگین ہو کر قرآن کی بات کیسے جھٹلاسکتا ہوں !
محض 27سال کی عمر میںاس دار فانی سے پوری شان سے رخصت ہونے والے کیپٹن اسفندیار کا جسدخاکی جب گھر لایا گیا تو اس وقت ان کی شہادت کو 32گھنٹے بیت چکے تھے لیکن شہید کے رخسار سے خون بہہ رہا تھاحا لانکہ میت کے جسم سے خون جلد ہی بہنا بند ہو جاتا ہے ۔

ڈاکٹرفیاض بخاری کہتے ہیں کہ یہ میرے اللہ نے مجھے منظر دکھلایا تھااور پھر اٹک شہرکے عوام نے اس منظر کو دیکھا ۔ ان کی نماز جنازہ اٹک شہر میں ادا کی گئی جس میں اعلیٰ فوجی وسول قیادت سمیت شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔فخر اٹک کا خطاب پانے والے اس ہونہار نوجوان پر پوری قوم نازاں ہے۔
نحسبہ کذالک واﷲ حسیب

تحریر:حذیفہ یمان