محبت سے خوف آتا ہے

محبت سے خوف آتا ہے

زمانے بھر کی عداوت سے خوف آتا ہے کبھی کبھی تو محبت سے خوف آتا ہے فریب گاہِ رفاقت میں ہر گھڑی ہم کو مسرتوں کی حقیقت سے خوف آتا ہے زریں منور…

محبت کو دنیا میں مشہور کر دوں

محبت کو دنیا میں مشہور کر دوں

محبت کو دنیا میں مشہور کر دوں تجھے بھی محبت میں رنجور کر دوں اگر شیشہء خواب کو چُور کر دوں تیری آنکھ کی پُتلیوں میں سما کر رہِ زندگانی کو پُرنور کر دوں تجھے اپنی دھڑکن میں محصور کر کے خیالوں…

تمہاری یاد آئی

تمہاری یاد آئی

اندھیرے دُور ہوئے تو تمہاری یاد آئی قریبِ نُور ہوئے تو تمہاری یاد آئی گناہگار تھے جب تک گریز پاہی رہے جو بے قصور ہوئے تو تمہاری یاد آئی زریں منور…

نہ محبت کا نہ کدورت کا

نہ محبت کا نہ کدورت کا

نہ محبت کا نہ کدورت کا تجھ سے ناطہ ہے بس ضرورت کا ہم صلیبوں پہ جھولنے والے! پاس رکھتے ہیں سچ کی حرمت کا بھوک اگنے لگی ہے کھیتوں میں کتنا کڑوا ہے پھل یہ محنت کا مفلسی رو رہی ہے…

شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی

شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی

شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی پھول سے چہروں پہ حسرت نہیں دیکھی جاتی ہم سے موسم کی عداوت نہیں دیکھی جاتی اب کسی چاپ نہ آہٹ کا گماں ہوتا ہے دل سے تنہائی کی وحشت نہیں دیکھی جاتی جابجا…

ہر توقع ہی اب اٹھا دی ہے

ہر توقع ہی اب اٹھا دی ہے

ہر توقع ہی اب اُٹھا دی ہے اُس نے جو بھی ہمیں سزا دی ہے اُس کے بدلے میں بس دعا دی ہے ہم نے دل کے نصابِ ہِجرت میں تیری یادوں کو ہی جگہ دی ہے ایک کشتی تھی آرزوئوں کی!…

سمٹے ہوئے ہیں آنکھ میں حسرت کے سلسلے

سمٹے ہوئے ہیں آنکھ میں حسرت کے سلسلے

سمٹے ہوئے ہیں آنکھ میں حسرت کے سلسلے صدمات ِماہ سال کی شِدّت کے سلسلے انسانیت کا روگ ہیں غربت کے سلسلے بکھری ہوئی ہیں چارسُو خوابوں کی کرچیاں سمٹے ہوئے ہیں آنکھ میں حسرت کے سلسلے دیکھے کوئی تو جادہء حُزن…

تیرے ہاتھوں فریب کھانے لگے

تیرے ہاتھوں فریب کھانے لگے

تیرے ہاتھوں فریب کھانے لگے جب بھی دنیا کے غم ستانے لگے ہم تیری یاد کو جگانے لگے جِس کو پایا پلک جھپکتے ہوئے اُس کھونے میں کب زمانے لگے چین آجائے وحشتِ دل کو تُو اگر روز آنے جانے لگے میرے…

ہار جانے کا حوصلہ رکھا

ہار جانے کا حوصلہ رکھا

ہار جانے کا حوصلہ رکھا سب اندھیروں کو زیرِ پا رکھا جب ہتھیلی پہ اِک دیا رکھا کوئی بھی اختلاف جیون میں تجھ سے رکھا تو برملا رکھا ہم نے تجھ سے وصال و فرقت کا ہر تعلق ہی کچھ جدا رکھا…

جاں سے عزیز تر رہے وحشت کے سلسلے

جاں سے عزیز تر رہے وحشت کے سلسلے

جاں سے عزیز تر رہے وحشت کے سلسلے راہِ وفا میں غم کی مسافت کے سلسلے جاری ہیں اب بھی اپنی اذیت کے سلسلے دنیا نے لاکھ ہم کو کیا بدگماں مگر ٹوٹے کبھی نہ تجھ سے محبت کے سلسلے تا عمر…

سنبھل جانے کی بھی مہلت نہیں ملتی

سنبھل جانے کی بھی مہلت نہیں ملتی

سنبھل جانے کی بھی مہلت نہیں ملتی خدا جو روٹھ جائے کوئی سہولت نہیں ملتی آئینے میں کھڑے ٹٹولتے رہتے ہیں اپنی ہی اب ہمیں صورت نہیں ملتی سب اپنی خواہشوں کی قید میں جیتے ہیں کرنے کی بچوں کو بھی شرارت…

شاید کسی کی یاد کا میلہ لگا بھی ہو

شاید کسی کی یاد کا میلہ لگا بھی ہو

شاید کسی کی یاد کا میلہ لگا بھی ہو اس شامِ انتظار سے گرچہ گِلہ بھی ہو لیکن کبھی تو ذات سے کچھ ماورا بھی ہو یہ کیا کہ آس پاس ہوں بس ایک جیسے لوگ اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا…

اب تیرا کون انتظار کرے

اب تیرا کون انتظار کرے

اب تیرا کون انتظار کرے جو محبت میں کاروبار کرے اُس پہ اب کون اعتبار کرے اُس سے امیدِ درگزر کیسی جو خطائوں کو ہی شمار کرے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہم نے جو ہمیں تجھ سے شرمسار کرے اِس غمِ…

صحرا کے مسافر کو تو دریا نہیں ملتا

صحرا کے مسافر کو تو دریا نہیں ملتا

صحرا کے مسافر کو تو دریا نہیں ملتا قدموں کو کسی سمت بھی رستہ نہیں ملتا اِس شہر میں اب کوئی شناسا نہیں ملتا کندھوں پہ اٹھا لیتے ہیں خود اپنے ہی لاشے جِن لوگوں کو جینے کا سہارا نہیں ملتا اس…

غربت نے میری صبر کا چہرہ پہن لیا

غربت نے میری صبر کا چہرہ پہن لیا

یہ آسمانِ عقل بھلا کیا پہن لیا تاروں کی جستجو میں اندھیرا پہن لیا ظلمت کو ڈھیر کرکے اجالا پہن لیا دھاگا شمع کا جیسے شرارہ پہن لیا بھوکے شکم نے پھر سے لبادہ پہن لیا ننگے سروں نے جیسے عمامہ پہن…

کوئی تو ہجر کی وحشت میں سنبھالے مجھ کو

کوئی تو ہجر کی وحشت میں سنبھالے مجھ کو

کوئی تو ہجر کی وحشت میں سنبھالے مجھ کو درد کے گہرے سمندر سے نکالے مجھ کو کوئی تو آئے اذیّت سے بچا لے مجھ کو کوئی تو بانٹے میرے دردِ مسافت آکر کوئی تو ہجر کی وحشت میں سنبھالے مجھ کو…

کیا ملتا ہے

کیا ملتا ہے

تنہائی کو میت بنا کے کیا ملتا ہے ہجر میں اپنا آپ گنوا کے کیا ملتا ہے کاش کوئی پوچھے یہ ہم دیوانوں سے مقتل کی دہلیز پہ آکے کیا ملتا ہے زریں منور…

کیوں ہے چاہتوں پہ زوال سا

کیوں ہے چاہتوں پہ زوال سا

کیوں ہے چاہتوں پہ زوال سا میرے دل میں ہے یہ خیال سا کہ وصال ہو بے مثال سا مجھے شائبہ کہ یہ عشق ہے تبھی دل ہوا ہے نڈھال سا سبھی درد اپنے بھلا دیے اسے جب بھی دیکھا نہال سا…

جو کنارا نظر میں رکھا ہے

جو کنارا نظر میں رکھا ہے

جو کنارا نظر میں رکھا ہے اُس نے ہم کو بھنور میں رکھا ہے آج بھی وہ اولیں خواہش! جِس نے بارِ دگر میں رکھا ہے اُس کو منزل نصیب ہو جائے جِس نے ہم کو سفر میں رکھا ہے اے میرے…

روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے

روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے

روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے ایسے موسم میں بھلا کون جدا ہوتا ہے جیسے موسم میں تُوہر روز خفا ہوتا ہے روز چھن جاتا ہے جینے کا سہارا ہم سے روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے آئو…

تیرے پیاروں کی خیر ہو بابا

تیرے پیاروں کی خیر ہو بابا

تیرے پیاروں کی خیر ہو بابا غم گساروں کی خیر ہو بابا اِن سہاروں کی خیر ہو بابا جِن کو ترسے ہیں ڈوبنے والے اُن کناروں کی خیر ہو بابا یہ دعا ہے سیاہ بختوں کی چاند تاروں کی خیر ہو بابا…

ملے فرصت تو گہری نیند سو لوں

ملے فرصت تو گہری نیند سو لوں

ملے فرصت تو گہری نیند سو لوں کوئی اک آدھ رونا ہو تو رولوں مجھے یہ اِذن کب کہ لب میں کھولوں کوئی تدبیر ہو پاتی تو کرتے ! میں کیسے بخت کی کالک کو دھو لوں وہ میرا قتل کر کے…

منقبت    بحضور حضرت زینب سلام اللہ علیہا

منقبت بحضور حضرت زینب سلام اللہ علیہا

اسیران کربلا کی سپہ سالار تھی زینب کوفہ وشام میں بے تیغ لڑی تھی زینب اسلام کا علم اپنے ھاتھوں میں تھام کر سب بیبیوں کو ساتھ لے کر چلی تھی زینب بے گوروکفن لاشے اپنوں کے چھوڑ کر کس دل سے…

اپنی یادوں کو شال ہونے دے

اپنی یادوں کو شال ہونے دے

اپنی یادوں کو شال ہونے دے ہجرتوں کو وصال ہونے دے رابطے پھر بحال ہونے دے جس کا تو ہی جواب دے پائے مجھ کو ایسا سوال ہونے دے چھوڑ دے یہ حسابِ سود و زیاں عشق کو لازوال ہونے دے جھوٹ…