میرے احساس کی صورت گری ہے

میرے احساس کی صورت گری ہے

میرے احساس کی صورت گری ہے محبت روح کی بالیدگی ہے تیرے ملبوس کی خوشبو مسلسل بدن کی شاخ سے لِپٹی ہوئی ہے تیری قربت کے جلتے موسموں میں میرے ہونٹوں پہ صبحوں کی نمی ہے تبسم آفریں آنکھوں میں ساحل طلسم…

نعمت سخن

نعمت سخن

رب کریم جس پہ انعام کرے محفل میلاد کا وہ اہتمام کرے رہے گی گھر اس کے سلامتی باہر سے جب آئے سلام کرے بھیجتے ہیں درود رب اور فرشتے وظیفہ یہی روزانہ صبح و شام کرے ملی ہے نعمت سخن وقلم…

سوال کے موسم

سوال کے موسم

شعور و فکر و نظر کے زوال کے موسم اتر رہے ہیں زمیں پر ملال کے موسم فقیہِ شہر تیرے عہدِ کم نگاہی میں! سلگ رہے ہیں لبوں پر سوال کے موسم ساحل منیر…

کچھ دیر ابھی

کچھ دیر ابھی

اپنی سولی کو اٹھاتے رہو کچھ دیر ابھی رسم الفت کی نِبھاتے رہو کچھ دیر ابھی غم کا حساس مٹانے کے لئے آج کی شب جام پہ جام پلاتے رہو کچھ دیر ابھی اِس محبت کی صداقت پہ کرے کون یقیں کوئی…

سالِ نو کی دعا

سالِ نو کی دعا

امن کی فاختہ رقص کرتی رہے مسکراہٹ لبوں پر مچلتی رہے اے خدا تیری رحمت کی بارش سدا ہر جگہ سالِ نو میں برستی رہے ساحل منیر…

ہم یاد کرتے رہے وہ یاد آتے رہے

ہم یاد کرتے رہے وہ یاد آتے رہے

ہم یاد کرتے رہے وہ یاد آتے رہے اس کشمکش مین دن رات گزرتے رہے نہیں آیا کوئی لوٹ کر وہاں سے J.D برسوں ہم جہاں اپنوں کو چھوڑ کر آتے رہے محمد جواد خان…

وہ یاد کیا آیا کہ جاگ اُٹھیں سب ہی خواہشیں

وہ یاد کیا آیا کہ جاگ اُٹھیں سب ہی خواہشیں

وہ یاد کیا آیا کہ جاگ اُٹھیں سب ہی خواہشیں J.D تازہ درد، گرم سانسیں، سرد ہوائیں اور دسمبر کی لمبی راتیں محمد جواد خان…

کیا گزری ہیں کیا بتائیں کیسے بتائیں

کیا گزری ہیں کیا بتائیں کیسے بتائیں

کیا گزری ہیں؟ کیا بتائیں؟ کیسے بتائیں؟ چلو اسکو بتائیں J.D آئو آج ہم دسمبر کو دسمبر میں دسمبر سے دسمبر کی طرح ملائیں محمد جواد خان…

سوچتا ہوں کہ نئے سال پہ کیا پیش کروں

سوچتا ہوں کہ نئے سال پہ کیا پیش کروں

سوچتا ہوں کہ نئے سال پہ کیا پیش کروں گزرے ایام کی تلخی یا سزا پیش کروں سوچتا ہوں کہ نئے سال پہ کیا پیش کروں سالہا سال زمانے میں گنہگار رہے ہر گھڑی درد و اذیت کے سزاوار رہے نسلِ انساں…

میری جان پاکستان

میری جان پاکستان

میرے وطن تیرے دیوار در سجانا ہے تیری عظمت تیری حرمت کو بھی بچانا ہے یے ترے لال و گوہر اور تیرے سر و سمن یے کوہسار یے برگ بار اے میرے ارض وطن انھے عدو کی بری نظروں سے بچانا ہے…

دھرنے کی سیاست ہے یا ہڑتال کا موسم

دھرنے کی سیاست ہے یا ہڑتال کا موسم

دھرنے کی سیاست ہے یا ہڑتال کا موسم آیا ہے بہت دھوم سے پھر پیار کا موسم رشوت ہے کرپشن ہے یا بھتے کی سیاست آیا ہے پھر سے بھائیوں ہڑتال کا موسم ڈنڈے بهی نکل آے ہیں جھنڈے بھی یہیں ہیں…

یبیاض دل

یبیاض دل

آج تو بات کسی بیوفا کی کرتے ہیں تمہاری بات نہی ھے یے. اک کہانی ھے جو تم کو آج ذرا بیٹھ کر سنانی ھے بہت پرانی کہانی ھے یاد ھے تم کو جب ایک بار .سرے راہ تم نے بولا تھا…

میرے ہم نفس ذرا یاد کر

میرے ہم نفس ذرا یاد کر

میرے ہم نفس ذرا یاد کر کبھی ہم بھی تجھ کو عزیز تھے تیری زندگی کی نوید تھے یہی رہ گزر یہی راستہ یے ہی شجر و گل یہی واسطہ اسی رہ گزر پے چلے تھے ہم تیرے ہمسفر تیرے ہم قدم…

تیرے چہرے پے دھوپ کھلتی ہے

تیرے چہرے پے دھوپ کھلتی ہے

تیرے چہرے پے دھوپ کھلتی ہے آنکھوں سے روشنی نکلتی ہے ہونٹوں سے زندگی برستی ہے لفظوں میں خوشبوں بکھرتی ہیں تم سے ہی زیست ہوئی مکمل ہے تم جو آو تو پھول کھلتے ہیں روشنی کو چراغ ملتے ہیں . تم…

ملک ملت کی بات مت کیجے

ملک ملت کی بات مت کیجے

ملک ملت کی بات مت کیجے یے باتیں بہت پرانی ہیں کیسی تعلیم کیا ادب کیا سخن اب تو جو ہے وہ حکمرانی ہے کسی محفل کہاں کی بزم ادب شاعری کا وہ عروج روام مصنفوں کی عزت ناموس اب تو جو…

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں کل تو ہم کو بچھڑ ہی جانا ھے آج کی رات بس ے محفل ھے کل تو انجان نگر بسانا ھے آج کی رات ہی تو اپنی ھے کل تو اک نیا شہر بسانا ھے اجنبی…

سلام اے وادی ے کشمیر

سلام اے وادی ے کشمیر

کشمیر بینظر تیری وادیوں سلام لہلاتے مرغزارو ن ان کوہساروں کو سلام زعفران کے لال گون خوشبو لٹاتے شجرے خاص اور ان اشجار کی رنگیں بہاروں کو سلام وقت پڑنے پر آنچل کو ہی پرچم بنا لیتی ہے جو آج ان بہنوں…

غزل

غزل

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا ہے کس…

کشمیر کی بیٹی کے نام

کشمیر کی بیٹی کے نام

خوں اگلتی زمین کی بیٹی تیری بربادیوں کے یہ منظر نسلِ انساں کا المیہ ہیں مگر ظلم اور جبر کی یہ زنجیریں اِک نہ اِک دن تو ٹوٹ جائیں گی تیری قربانیوں کے یہ موسم یونہی تو رائیگاں نہ جائیں گے اِک…

بڑی دولت

بڑی دولت

محفل میلاد کی سجائی ہے سجاتے رہیں گے یاد محبوب خدامنائی ہے مناتے رہیں گے فرمایا ہے رب کریم نے قرآن پاک میں عظمت مصطفی کی بڑھائی ہے بڑھاتے رہیں گے خوش نصیب ہیں دررسول پرآنے والے امت آقانے بلائی ہے بلاتے…

اولڈ ہاؤس والوں کی پکار

اولڈ ہاؤس والوں کی پکار

یارب مجھے لوٹا دے میری جوانی وہ ٹانگوں کی طاقت وہ ہاتھوں کی روانی وہ رات بھر لکھنا نئی اک کہانی وہ نانا وہ دادا کی گونج پرانی بڑھاپا اک بوجھ ہے یہ بات آج جانی یارب دہرائے نہ وقت پھر کہانی…

کرسمس

کرسمس

تیرگی کا حصار ٹوٹا ہے اِک ستارا زمیں پہ اترا ہے شب گزیدوں کی گود میں ساحل ہم نے صبحوں کا نور دیکھا ہے ساحل منیر…

شب ظلمات کا انکار ٹھہرو

شب ظلمات کا انکار ٹھہرو

شبِ ظلمات کا اِنکار ٹھہرو مقابل یا پسِ دیوار ٹھہرو کبھی تو صاحبِ کردار ٹھہرو ہمارے حال سے غافل نہیں تو ہمارے درد کا اِظہار ٹھہرو جبینِ وقت پہ صبحوں کی مانند شبِ ظلمات کا اِنکار ٹھہرو محاذِ فکر پہ زورِ قلم…

بہت بوجھل ہیں تجھ کو یاد کرتے

بہت بوجھل ہیں تجھ کو یاد کرتے

سکوتِ شام سے فریاد کرتے بہت بوجھل ہیں تجھ کو یاد کرتے بڑی مدت سے تنہا ہوگئے ہیں تیری محفل کو ہم آباد کرتے اگر ہم بھی زمانہ ساز ہوتے تجھے بھی ساتھ ہی برباد کرتے تحریر : ساحل منیر…