نگاہ کرم

نگاہ کرم

جس پہ نگاہ کرم ہو گئی دوجہاں میں محترم ہو گئی غوث اعظم ہیں وہ جن کے گردن اولیاء زیر قدم ہو گئی کوئی نبی نہیں بعد مصطفی کے محبوب پر نبوت ختم ہوگئی سجائی جس نے اپنے گھر میں محفل میلاد…

یہ کیسے فلسفی کا خلاصہ ہے زندگی

یہ کیسے فلسفی کا خلاصہ ہے زندگی

در در بھٹکنے والوں کا صحرا ہے زندگی جیسے کسی فقیر کا کاسہ ہے زندگی دنیا کی اس ہجوم میں تنہا ہے زندگی گلشن میں ایک گْل کی تمنا ہے زندگی دیکھیں تو لگ رہی ہے کہ قطرہ ہے زندگی سوچیں تو…

وہ جِس کی فطرتِ بد سے گریزاں موسمِ گل ہو

وہ جِس کی فطرتِ بد سے گریزاں موسمِ گل ہو

کسی کی شہرت و مقبولیت سے جلنے والے سُن! تیری قسمت میں رونے کے سِوا کچھ ہو نہیں ہو سکتا تیری بے کار صبحیں اور شامیں بَین کرتی ہیں تیرا خوں بھی تیرے داغِ ندامت دھو نہیں سکتا یہاں جو دفترِ لوحِ…

اہل خرد کی بھیس میں صیاد ہم ہوئے

اہل خرد کی بھیس میں صیاد ہم ہوئے

اہلِ خرد کی بھیس میں صیاد ہم ہوئے آباد موسموں میں بھی برباد ہم ہوئے کتنے حسیں فریب میں ڈوبے ہیں آج کل بربادیوں کی راہ میں آباد ہم ہوئے افکار اپنے بے کس و لاچار ہوگئے اہلِ سخن میں رہ کے…

رمضان آ گیا

رمضان آ گیا

رمضان آگیا رمضان آ گیا رمضان آگیا رمضان آ گیا مہمان آگیا مہمان آ گیا رمضان آگیا رمضان آ گیا دیکھا جو چاند چل دیئے تراویح کے لیئے سحری کے انتظام اور تسبیح کے لیئے سارے مہینوں کا سلطان آگیا رمضان آگیا…

حب حبیب

حب حبیب

یاد رسول میں جو مچلتے رہیں گے مقدران کے بنتے سنورتے رہیں گے منائی جائے گی محفل میلاد جہاں بھی فرشتے رحمت کے وہاں اترتے رہیں گے بھیجتے ہیں درود وسلام جومصطفیٰ پر چہرے ایسے مسلمانوں کے چمکتے رہیں گے حاصل ہیں…

بجٹ 2017-18

بجٹ 2017-18

بجٹ منظور ہو گیا ہُن کی کریے کی کریے میَں ہور وی مجبور ہو گیا ہُن کی کریے کی کریے مُرغی دی تیز ہوئی چال میری پھیکی رہ گئی دال وچھایا سرکار کیسا جال سر تو اُڈ گئے میرے وال اب میَں…

غزل

غزل

​ہر رنگ محبت سے تمھاری نکھر جائے گا تم ادھر ادھر مت ہونا سب بکھر جائے گا رات سی تاریکی میں روشنی کی دلیل تم ہو تم سے جو الگ سوچا تو سب اجڑ جائے گا ہر بات پر مسکرا دیتے ہو…

حوصلے اور ضبط کا امتحان ہے

حوصلے اور ضبط کا امتحان ہے

حوصلے اور ضبط کا امتحان ہے عبادت سے محبت کا امکان ہے بہت شور کرتا ہے سینے میں کوئی پنجر ہے میرا یا کوئی زندان ہے سر میں خاک ڈالے برہنہ پا لئے جیسے چند لمحوں کا مہمان ہے ڈھونڈو تو کہیں…

ماں تجھے سلام

ماں تجھے سلام

تیرے چہرے کی جھُریوں نے مجھے رعنائیاں بخشیں تیری باتوں نے میری سوچ کو گہرائیاں بخشیں ہمیشہ معتبر ٹھہرا ہوں ماں تیرے بھروسے پہ زمانے نے اگرچہ بے سبب رسوائیاں بخشیں تیرے قدموں کے صدقے رفعتوں کا پیش منظر ہوں دعائوں سے…

ماں

ماں

جِیون کی مسافت میں تُو منزل کا نِشاں ہے روشن تیری چاہت سے میرے دل کا جہاں ہے اے ماں تیرے قدموں تلے فردوس ہے میری تُو دونوں جہانوں میں میری راحتِ جاں ہے محرومیء دوراں کی جِگر سوز فضاء میں اِک…

دستک

دستک

کبھی جو دو میرے دل پہ دستک۔۔ تو اس انداز سے دینا تم ۔۔۔ کہ تم کو یقین ہو جاناں اب واپس پلٹ کر جانے والے سارے راستے بند ہو چلے ۔۔۔ اب جینا مرنا ۔۔ ہنسنا رونا ۔۔ سب کا سب…

غزل

غزل

قصے کہانیوں میں الجھ گیا ہوں کن پریشانیوں میں الجھ گیا ہوں کون ہے جو میرے راستے کی دیوار ہے کس کی کارستانیوں میں الجھ گیا ہوں متزلزل ہوا جاتا ہے مزاج اپنا جیسے پانیوں میں الجھ گیا ہوں مسلسل درپیش ہے…

مزدور

مزدور

ہڈیاں میریاں بالن بنیاں تن میرا تندور میں ہاں ایس دھرتی دے اُتے یارو اِک مزدور میں بھَٹّے تے اِٹاّں پاواں اپنا آپ و نجاواں عزت، دولت، شہرت والے خواباں نوں بھُل جاواں شام سمے جد گھر نوں جاواں ہو جائے جُثّا…

رحمت مسلسل

رحمت مسلسل

محفل میں میلاد کی جو آئے ہوئے ہیں حبیب رب کریم کے ہی بلائے ہوئے ہیں برستی رہے گی اللہ کی رحمت مسلسل وہاں گھر میں اپنے جومحفل سجائے ہوئے ہیں امیدہے ہمیں کوئی اورفصل اٹھانے کی کھیتی میں کچھ اورہی اگائے…

قطعہ

قطعہ

بھنور کے پائوں پڑ جاتے کنارا مانگ ہی لیتے اگر بے حوصلہ ہوتے سہارا مانگ ہی لیتے ہمیں ساحل اندھیروں کے مقابل آپ جلنا تھا وگرنہ ظلمتِ شب میں ستارا مانگ ہی لیتے ساحل منیر…

بے وقت ہی مسافت پر اکسا رہا ہے

بے وقت ہی مسافت پر اکسا رہا ہے

بے وقت ہی مسافت پر اکسا رہا ہے وقت تو باقی ہے تو کہاں جا رہا ہے جنوں کی حد کا تعین ہو ہی نہیں سکتا ہر ایک “گواہی” کی خاطر لڑے جا رہا ہے نا تھکنے والا رقصِ بسمل ہے ہر…

بھوک ڈھلتی ہے جب تخیل میں

بھوک ڈھلتی ہے جب تخیل میں

بھوک ڈھلتی ہے جب تخیل میں چاہتوں کا نصاب کیا ہو گا اِک فسانہ کتاب کیا ہو گا وقت جو بھی کٹا ہے بِن تیرے اس سے بڑھ کر عذاب کیا ہو گا حرف و افکار کے جو دشمن ہیں ان سے…

سرمئی شام

سرمئی شام

صبح نور کو کڑی دھوپ میں جلتے دیکھا سرمئی شام کو اندھیرے میں ڈھلتے دیکھا بنت حوا کو نیلامی کی منڈی میں کھڑے شرف انسان کو حیوانیت میں بدلتے دیکھا ایسے بھی دور آئے، جو دنیا سے سنبھالے نہ گئے معصوم تمنائوں…

عزمِ نو

عزمِ نو

گنہگاروں کی بستی میں تقدس کی تجارت کے چلو مسمار کر ڈالیں یہ بت اندھی عقیدت کے اٹھو تکریم و تعظیمِ بشر کی آرزو لے کر مٹا ڈالیں نشاں رسم و رہِ بغض و عداوت کے ساحل منیر…

ابر سایہ دار

ابر سایہ دار

زمانے کی نظر میں رندِ بادہ خوار ٹھہرے ہیں مگر بزمِ سخن میں حرمتِ افکار ٹھہرے ہیں یہ دنیا لاکھ جھلسائے ہمیں غم کی تمازت میں تیرے سر پہ تو مِثلِ ابرِ سایہ دار ٹھہرے ہیں ساحل منیر…

یہ نفرتوں کے پجاری کی راجدھانی رہی

یہ نفرتوں کے پجاری کی راجدھانی رہی

جو حال دل کا سنایا تو ہم دیوانے لگے ہمارے بول سبھی آپ کو فسانے لگے کھلی فضا میں چہکنے کا ڈھنگ بھول گئے قفس میں کون پرندے یہ گنگنانے لگے چمن کی سیر کہاں، اور کہاں نصیب مِرا ہیں سارے اُلو…

وقف دہلیز و بام ٹھہرے ہیں

وقف دہلیز و بام ٹھہرے ہیں

وقفِ دہلیز و بام ٹھہرے ہیں خواہشوں کے غلام ٹھہرے ہیں کتنے عالی مقام ٹھہرے ہیں حرف و ایقان بیچنے والے کس قدر نیک نام ٹھہرے ہیں تیری محفل میں تشنگانِ وفا اب بھی محرومِ جام ٹھہرے ہیں جلتے رہتے ہیں پر…

کبھی نا سوچا تھا ایسا ہو گا

کبھی نا سوچا تھا ایسا ہو گا

مرنا آسان ہو گیا جب زندہ رہنا عذاب ہو گا وہ تیری چاہت کا تھا فسانہ، سوال تھا جو جواب ہو گا راہ الفت میں بہتا دریا نظر میں ان کی سراب ہو گا کبھی جو لی زندگی نے کروٹ حساب بھی…