یبیاض دل

یبیاض دل

آج تو بات کسی بیوفا کی کرتے ہیں تمہاری بات نہی ھے یے. اک کہانی ھے جو تم کو آج ذرا بیٹھ کر سنانی ھے بہت پرانی کہانی ھے یاد ھے تم کو جب ایک بار .سرے راہ تم نے بولا تھا…

میرے ہم نفس ذرا یاد کر

میرے ہم نفس ذرا یاد کر

میرے ہم نفس ذرا یاد کر کبھی ہم بھی تجھ کو عزیز تھے تیری زندگی کی نوید تھے یہی رہ گزر یہی راستہ یے ہی شجر و گل یہی واسطہ اسی رہ گزر پے چلے تھے ہم تیرے ہمسفر تیرے ہم قدم…

تیرے چہرے پے دھوپ کھلتی ہے

تیرے چہرے پے دھوپ کھلتی ہے

تیرے چہرے پے دھوپ کھلتی ہے آنکھوں سے روشنی نکلتی ہے ہونٹوں سے زندگی برستی ہے لفظوں میں خوشبوں بکھرتی ہیں تم سے ہی زیست ہوئی مکمل ہے تم جو آو تو پھول کھلتے ہیں روشنی کو چراغ ملتے ہیں . تم…

ملک ملت کی بات مت کیجے

ملک ملت کی بات مت کیجے

ملک ملت کی بات مت کیجے یے باتیں بہت پرانی ہیں کیسی تعلیم کیا ادب کیا سخن اب تو جو ہے وہ حکمرانی ہے کسی محفل کہاں کی بزم ادب شاعری کا وہ عروج روام مصنفوں کی عزت ناموس اب تو جو…

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں کل تو ہم کو بچھڑ ہی جانا ھے آج کی رات بس ے محفل ھے کل تو انجان نگر بسانا ھے آج کی رات ہی تو اپنی ھے کل تو اک نیا شہر بسانا ھے اجنبی…

سلام اے وادی ے کشمیر

سلام اے وادی ے کشمیر

کشمیر بینظر تیری وادیوں سلام لہلاتے مرغزارو ن ان کوہساروں کو سلام زعفران کے لال گون خوشبو لٹاتے شجرے خاص اور ان اشجار کی رنگیں بہاروں کو سلام وقت پڑنے پر آنچل کو ہی پرچم بنا لیتی ہے جو آج ان بہنوں…

غزل

غزل

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا ہے کس…

کشمیر کی بیٹی کے نام

کشمیر کی بیٹی کے نام

خوں اگلتی زمین کی بیٹی تیری بربادیوں کے یہ منظر نسلِ انساں کا المیہ ہیں مگر ظلم اور جبر کی یہ زنجیریں اِک نہ اِک دن تو ٹوٹ جائیں گی تیری قربانیوں کے یہ موسم یونہی تو رائیگاں نہ جائیں گے اِک…

بڑی دولت

بڑی دولت

محفل میلاد کی سجائی ہے سجاتے رہیں گے یاد محبوب خدامنائی ہے مناتے رہیں گے فرمایا ہے رب کریم نے قرآن پاک میں عظمت مصطفی کی بڑھائی ہے بڑھاتے رہیں گے خوش نصیب ہیں دررسول پرآنے والے امت آقانے بلائی ہے بلاتے…

اولڈ ہاؤس والوں کی پکار

اولڈ ہاؤس والوں کی پکار

یارب مجھے لوٹا دے میری جوانی وہ ٹانگوں کی طاقت وہ ہاتھوں کی روانی وہ رات بھر لکھنا نئی اک کہانی وہ نانا وہ دادا کی گونج پرانی بڑھاپا اک بوجھ ہے یہ بات آج جانی یارب دہرائے نہ وقت پھر کہانی…

کرسمس

کرسمس

تیرگی کا حصار ٹوٹا ہے اِک ستارا زمیں پہ اترا ہے شب گزیدوں کی گود میں ساحل ہم نے صبحوں کا نور دیکھا ہے ساحل منیر…

شب ظلمات کا انکار ٹھہرو

شب ظلمات کا انکار ٹھہرو

شبِ ظلمات کا اِنکار ٹھہرو مقابل یا پسِ دیوار ٹھہرو کبھی تو صاحبِ کردار ٹھہرو ہمارے حال سے غافل نہیں تو ہمارے درد کا اِظہار ٹھہرو جبینِ وقت پہ صبحوں کی مانند شبِ ظلمات کا اِنکار ٹھہرو محاذِ فکر پہ زورِ قلم…

بہت بوجھل ہیں تجھ کو یاد کرتے

بہت بوجھل ہیں تجھ کو یاد کرتے

سکوتِ شام سے فریاد کرتے بہت بوجھل ہیں تجھ کو یاد کرتے بڑی مدت سے تنہا ہوگئے ہیں تیری محفل کو ہم آباد کرتے اگر ہم بھی زمانہ ساز ہوتے تجھے بھی ساتھ ہی برباد کرتے تحریر : ساحل منیر…

پہچان لیجئے

پہچان لیجئے

تاروں سے ہمکلام ہیں پہچان لیجئے محرومِ صبح و شام ہیں پہچان لیجئے اِس عہد بے ضمیریء حرف و کلام میں ہم وجہ احترام ہیں پہچان لیجئے شہرہ ہے جس کا مقتلِ عشق و جنون میں وہ شوکت خرام ہیں پہچان لیجئے…

دسمبر سے دسمبر تک

دسمبر سے دسمبر تک

تیری فرقت کا صدمہ باعثِ آزار ہے اب تک دسمبر سے دسمبر تک سفر دشوار ہے اب تک تیری قدموں کی آہٹ کو میری دھڑکن ترستی ہے میرے ہونٹوں پہ تیرے درد کا اظہار ہے اب تک تجھے کھو کر درِ ساقی…

قرب حبیب

قرب حبیب

ملتا ہے کیا میلاد میں محفل میں آ کے دیکھ ہوتی ہیں کیسی نوازشیں میلاد نبی کامناکے دیکھ میلاد کی خوشی میں اک ہم ہی نہیں سجاوٹ کرتے اللہ نے کیا ہے آسماں پر چراغاں نظریں اٹھا کے دیکھ کریم ہے بڑا…

چلے آئو

چلے آئو

مہینہ آخری ہے سال کا اب تو چلے آئو بھروسہ کیا سمے کی چال کا اب تو چلے آئو بنا تیرے زمانے کی رہ پرخار میں ساحل کوئی واقف نہیں احوال کا اب تو چلے آئو تحریر : ساحل منیر…

وقف مینا و جام

وقف مینا و جام

زندگی کے فریب زاروں میں موت سے ہمکلام رہتے ہیں ہوش والوں کے درمیاں ساحل وقفِ مِینا و جام رہتے ہیں ساحل منیر…

غمِ روزگار

غمِ روزگار

تیری زُلفوں کے نرم سائے میں زندگانی گزار ہی لیتے گر غمِ روزگار نہ ہوتا تُجھ کو دِل میں اتار ہی لیتے ساحل منیر…

صلیب و دار کی حرمت پہ ساحل فیصلہ ہو گا

صلیب و دار کی حرمت پہ ساحل فیصلہ ہو گا

ہمیں بے آبرو کرنے سے پہلے سوچنا ہو گا تجھے حالات کی کروٹ کو بھی اب دیکھنا ہو گا امیرِ شہر سے کہدو کہ مقتل میں چلا آئے صلیب و دار کی حرمت پہ ساحل فیصلہ ہو گا تحریر : ساحل منیر…

ہارے ہوئے ہیں

ہارے ہوئے ہیں

تیرے در سے بھی دھتکارے ہوئے ہیں غم و آلام کے مارے ہوئے ہیں ہمیں تجھ سے نہ دنیا سے گِلہ ہے ہم اپنے آپ سے ہارے ہوئے ہیں تحریر : ساحل منیر…

ڈھونڈتا ہے جہان سارا ہمیں

ڈھونڈتا ہے جہان سارا ہمیں

ڈھونڈتا ہے جہان سارا ہمیں پر یہ لگتا ہے سب خسارا ہمیں جب تیرا ساتھ ہی نہ مِل پایا پھر یہ دنیا بھی کیوں گوارا ہمیں اس سے پوچھیں گے پستیوں کا سبب جِس نے افلاک سے اتارا ہمیں دل پہ طاری…

ہنر آتا ہے

ہنر آتا ہے

آنکھ سے خواب چرانے کا ہنر آتا ہے ہم کو ہر بات منانے کا ہنر آتا ہے زندگی تجھ سے ملاقات کا حاصل ہے یہی وقت سے پائوں مِلانے کا ہنر آتا ہے تحریر: ساحل منیر…

اپنے استادِ محترم ساحل منیر کی نذر

اپنے استادِ محترم ساحل منیر کی نذر

ساحل تیرا وجود ہے امرت نگر کی شان تیرا قلم ہے حرف کی عظمت کا پاسبان تجھ پر خدائے پاک کی رحمت سدا رہے تیرے تخیلات کی اونچی رہے اڑان تحریر: بشارت شہزاد گل ایم اے۔ایل ایل بی…