پہچان لیجئے

پہچان لیجئے

تاروں سے ہمکلام ہیں پہچان لیجئے محرومِ صبح و شام ہیں پہچان لیجئے اِس عہد بے ضمیریء حرف و کلام میں ہم وجہ احترام ہیں پہچان لیجئے شہرہ ہے جس کا مقتلِ عشق و جنون میں وہ شوکت خرام ہیں پہچان لیجئے…

دسمبر سے دسمبر تک

دسمبر سے دسمبر تک

تیری فرقت کا صدمہ باعثِ آزار ہے اب تک دسمبر سے دسمبر تک سفر دشوار ہے اب تک تیری قدموں کی آہٹ کو میری دھڑکن ترستی ہے میرے ہونٹوں پہ تیرے درد کا اظہار ہے اب تک تجھے کھو کر درِ ساقی…

قرب حبیب

قرب حبیب

ملتا ہے کیا میلاد میں محفل میں آ کے دیکھ ہوتی ہیں کیسی نوازشیں میلاد نبی کامناکے دیکھ میلاد کی خوشی میں اک ہم ہی نہیں سجاوٹ کرتے اللہ نے کیا ہے آسماں پر چراغاں نظریں اٹھا کے دیکھ کریم ہے بڑا…

چلے آئو

چلے آئو

مہینہ آخری ہے سال کا اب تو چلے آئو بھروسہ کیا سمے کی چال کا اب تو چلے آئو بنا تیرے زمانے کی رہ پرخار میں ساحل کوئی واقف نہیں احوال کا اب تو چلے آئو تحریر : ساحل منیر…

وقف مینا و جام

وقف مینا و جام

زندگی کے فریب زاروں میں موت سے ہمکلام رہتے ہیں ہوش والوں کے درمیاں ساحل وقفِ مِینا و جام رہتے ہیں ساحل منیر…

غمِ روزگار

غمِ روزگار

تیری زُلفوں کے نرم سائے میں زندگانی گزار ہی لیتے گر غمِ روزگار نہ ہوتا تُجھ کو دِل میں اتار ہی لیتے ساحل منیر…

صلیب و دار کی حرمت پہ ساحل فیصلہ ہو گا

صلیب و دار کی حرمت پہ ساحل فیصلہ ہو گا

ہمیں بے آبرو کرنے سے پہلے سوچنا ہو گا تجھے حالات کی کروٹ کو بھی اب دیکھنا ہو گا امیرِ شہر سے کہدو کہ مقتل میں چلا آئے صلیب و دار کی حرمت پہ ساحل فیصلہ ہو گا تحریر : ساحل منیر…

ہارے ہوئے ہیں

ہارے ہوئے ہیں

تیرے در سے بھی دھتکارے ہوئے ہیں غم و آلام کے مارے ہوئے ہیں ہمیں تجھ سے نہ دنیا سے گِلہ ہے ہم اپنے آپ سے ہارے ہوئے ہیں تحریر : ساحل منیر…

ڈھونڈتا ہے جہان سارا ہمیں

ڈھونڈتا ہے جہان سارا ہمیں

ڈھونڈتا ہے جہان سارا ہمیں پر یہ لگتا ہے سب خسارا ہمیں جب تیرا ساتھ ہی نہ مِل پایا پھر یہ دنیا بھی کیوں گوارا ہمیں اس سے پوچھیں گے پستیوں کا سبب جِس نے افلاک سے اتارا ہمیں دل پہ طاری…

ہنر آتا ہے

ہنر آتا ہے

آنکھ سے خواب چرانے کا ہنر آتا ہے ہم کو ہر بات منانے کا ہنر آتا ہے زندگی تجھ سے ملاقات کا حاصل ہے یہی وقت سے پائوں مِلانے کا ہنر آتا ہے تحریر: ساحل منیر…

اپنے استادِ محترم ساحل منیر کی نذر

اپنے استادِ محترم ساحل منیر کی نذر

ساحل تیرا وجود ہے امرت نگر کی شان تیرا قلم ہے حرف کی عظمت کا پاسبان تجھ پر خدائے پاک کی رحمت سدا رہے تیرے تخیلات کی اونچی رہے اڑان تحریر: بشارت شہزاد گل ایم اے۔ایل ایل بی…

100  لفظی کہانی ۔۔(بجلی اور گیس)۔۔

100 لفظی کہانی ۔۔(بجلی اور گیس)۔۔

تحریر: رضوان اللہ پشاوری ایک دن بجلی آرام فرما رہی تھی اتنے میں جرنیٹر کی شوروغل ہوگئی بجلی غصہ میں کہنے لگی،او!شور بند کر مجھے آرام کرنے دے، تو نے میرا آرام حرام کردیا جرنیٹر پر بجلی کے غصے کا کوئی اثر…

سراب

سراب

زندگی کے نگار خانے میں سو طرح کے سراب ہوتے ہیں سانس لینے سے دل دھڑکنے تک فاصلے بے حساب ہوتے ہیں تحریر : ساحل منیر…

جاہلوں کے جہل سے واقف ہیں

جاہلوں کے جہل سے واقف ہیں

جاہلوں کے جہل سے واقف ہیں رسمِ جنگ و جدل سے واقف ہیں پیدا ہوتے ہی مر گئے جو لوگ ان کے نعم البدل سے واقف ہیں تحریر : ساحل منیر…

ہم نے دنیا کی بھیڑ میں ساحل

ہم نے دنیا کی بھیڑ میں ساحل

ہم نے دنیا کی بھیڑ میں ساحل خود کو تنہا ضرور رکھا ہے اپنے پائوں کی ٹھوکروں پہ مگر دشمنوں کا غرور رکھا ہے تحریر : ساحل منیر…

قرب مسلسل

قرب مسلسل

تیری پلکیں میری آنکھوں پہ رہیں سایہ فگن دل تیرے قربِ مسلسل کا طلبگار رہے یوں تیرے لمس کے دریا میں اترنا چاہوں جیسے خوشبو کسی غنچے میں گرفتار رہے ساحل منیر…

باعث رحمت

باعث رحمت

گرتے ہوئوں کو تھام لینا عادت میرے نبی کی ہے پھر نہیں مانگنا پڑتا یہ سخاوت میرے نبی کی ہے یوں تو دنیا میں آدم سے عیسی تک انبیاء آئے حشر تک دوعالم میں رسالت میرے نبی کی ہے مجرمو چلے آئو…

من اللہ نور خیرالبشر ہیں آقا

من اللہ نور خیرالبشر ہیں آقا

من اللہ نور خیرالبشر ہیں آقا رکھے ہوئے امتیوں کی خبرہیں آقا شان نبوت ہے یہ سچے رسول ہو دیتے گواہی تیری شجروحجر ہیں آقا حضرت انس فرمایا کرکے خدمت نبی کی کرتے سب غلطیوں سے درگزر ہیں آقا بنائے سب جہان…

صحرا کی تپتی ریت پر آنے لگی بہار

صحرا کی تپتی ریت پر آنے لگی بہار

صحرا کی تپتی ریت پر آنے لگی بہار پھر کچھ روز ہم خفا رہے ہونے لگا ہے پیار پھر کس نے کہا کہ چار دن دنیا میں جینی ہے زندگی گر دل میں تھوڑا سا عشق ہو، تو جی اٹھیں مزار پھر…

کبھی محبت تمام لکھ کر کبھی ہواوں پہ نام لکھ

کبھی محبت تمام لکھ کر کبھی ہواوں پہ نام لکھ

کبھی محبت تمام لکھ کر کبھی ہواوں پہ نام لکھ کر ستم گر نے سارے ستم توڈ ڈالے مجھے عشق میں نا تمام لکھ کر اسے میں نے دی تھی انگوٹھی نشانی کہ جسکے مشاحبے تھی میری کہانی اسی نے مجھے اپنے…

سچ پوچھیئے ہمارا کردار کوئی نہیں

سچ پوچھیئے ہمارا کردار کوئی نہیں

سچ پوچھیئے ہمارا کردار کوئی نہیں یہ حقیقت ہے شرمسار کوئی نہیں کرتے ہیں یہاں پر سب دعوے کہہ سکیں جسے وفادار کوئی نہیں رائج ہوا جہاں زکوة کا نظام اس معاشرے میں نادار کوئی نہیں چھائی ہے خزاں ایسی چمن میں…

تیرے نام

تیرے نام

خوشبو، پھول، ہوا اور تارے تیرے نام رنگ برنگے موسم سارے تیرے نام صبحوں کا سنگھار ہو یا راتوں کا مِلن چاہت کے پُر کیف نظارے تیرے نام ساحل منیر…

وحشت زدہ

وحشت زدہ

اپنی ناکام آرزوئوں کے لمحہ لمحہ عذاب سہتے ہیں تیری اِس بزمِ رنگ و مستی میں ہم سے وحشت زدہ بھی رہتے ہیں ساحل منیر…

یاد اہلبیت

یاد اہلبیت

نہیں روکے گا اسے کوئی جنت میں جانے سے محبت ہے جس کو نبی پاک کے گھرانے سے دکھاکر خطوط کوفیوں کے دلاکریاد وعدے فرمایا آیاہوں یہاں تمہارے ہی بلانے سے خوفزدہ تھے یزیدی اتنے نہ جانے دیا قطرہ پانی پتہ تھا…