آسمان یہ زمیں

آسمان یہ زمیں

اے میرے ہمنشیں دل کئی آواز کو درد کے ساز کو سن لیا تم نے کیا میرے نالوں کو بھی دل کے چھالوں کو بھی گن لیا تم نے کیا بے سدا رہ گئی وہ محبت میری بےوجہ آج تک ساری باتیں…

پچھتاوا

پچھتاوا

پیسا پانی کی طرح بہا رہا ہوں میں آپ کے لئے پاپا مہنگا ہسپتال مہنگے ڈاکٹر مہنگی دوآیاں مہنگا کمرہ اور کیا چاہیے آپ کو میں تو آپ کو وہی لوٹا رہا ہوں جو آپ نے مجھے دیا مہنگی تعلیم مہنگا گھر…

تیری خاطر اجل کو ٹالے ہیں

تیری خاطر اجل کو ٹالے ہیں

تیری خاطر اجل کو ٹالے ہیں یہ جو آنکھوں کے گرد ہالے ہیں سب تیری یاد کے اجالے ہیں بزمِ ساقی میں ساغر و مینا خود فریبی کے کچھ حوالے ہیں ہم مروت پسند لوگوں نے آستینوں میں سانپ پالے ہیں زندگی…

تجھ سے ملنا بھی سزا لگتا ہے

تجھ سے ملنا بھی سزا لگتا ہے

تجھ سے ملنا بھی سزا لگتا ہے مجھ کو اچھا نہ برا لگتا ہے بس تیرا روپ نیا لگتا ہے تیرے جذبات کی نیلامی کا تیرے چہرے سے پتا لگتا ہے میرے حالات پہ ہنسنے والے وقت تجھ سے بھی خفا لگتا…

وفاں کے پیکر صداقتوں کے امین صدیق ہیں بالیقین

وفاں کے پیکر صداقتوں کے امین صدیق ہیں بالیقین

وفاں کے پیکر صداقتوں کے امین صدیق ہیں بالیقین ہمیشہ تک ہیں نبی کے ہم نشین صدیق ہیں بالیقین ملاہے رتبہ اعلی جنہیں، خلق،اولیا، شہدا سے افضل بشر ہیں بعد انبیا ومرسلین صدیق ہیں بالیقین مانگا نہیں ثبوت نبوت کوئی ایمان لانے…

دیواروں کو درد سنایا جا سکتا ہے

دیواروں کو درد سنایا جا سکتا ہے

روشنیوں کا شہر بسایا جا سکتا ہے تاریکی کا نقش مٹایا جا سکتا ہے نفرت اور تعصب کو ٹھکراتے ہوئے اس دنیا کا امن بچایا جا سکتا ہے انسانوں کی مانند رہ کر دنیا میں صحرا کو گلزار بنایا جا سکتا ہے…

بنامِ وطن

بنامِ وطن

جب دل دل پاکستان درد دل تقسیم کرتا ہے تو انسانیت کی وہ تکریم کرتا ہے جب جان جان پاکستان مقصد کے سبز ہلالی پرچم میںڈھل جاتی ہے تو قومی پرچم بن جاتی ہے پھر اس پرچم کو شہر شہر گائوں گائوں…

وہی موسم سہانے مانگتا ہے

وہی موسم سہانے مانگتا ہے

وہی موسم سہانے مانگتا ہے یہ دل گزرے زمانے مانگتا ہے نجانے کیوں وہ اس راہِ وفا میں بچھڑنے کے بہانے مانگتا ہے زمانہ نفرتوں کو عام کر کے محبت کے فسانے مانگتا ہے میری محرومیوں پہ ہنسنے والا میرے کمزور شانے…

دل جلوں کو پڑا فلک سے کام نہیں

دل جلوں کو پڑا فلک سے کام نہیں

دل جلوں کو پڑا فلک سے کام نہیں جلا کر راکھ نہ کر دو تو محمد ص کا غلام نہیں ہوتی ہو میرے آقا کی گستاخی اور میں ہو صاحب عہدہ پھر بھی میری خاموشی کیا یہ بغیرتی کا الزام نہیں جنید…

محبت ہار جانا چاہتی ہے

محبت ہار جانا چاہتی ہے

بچھڑنے کا بہانہ چاہتی ہے محبت ہار جانا چاہتی ہے پرندہ شاخ پر سہما ہوا ہے فضا پھر بھی اڑانا چاہتی ہے ہوس کے تاجروں کی پارسائی کوئی تہمت لگانا چاہتی ہے اسے کہدو ہمارے حوصلے کو یہ دنیا آزمانا چاہتی ہے…

عورت جو

عورت جو

سدا لڑتی ہے مشکل سے فنا کر لیتی ہے خود کو اسی ندی کی مانند جو گلا دیتی ہے پتھر کو بنا لیتی ہے رستے تو بتاوں میں یہ سچ ہے کہ فرشتے سے بہت مشکل رہا انسان کا ہونا … مگر…

انتساب

انتساب

یہ میرے جذبوں کی حرف گوئی یہ میرے شعروں کے استعارے وصل کی نا رسا سی گھڑیاں ہجر کے معتبر سہارے اداس دل کی اداس باتیں غموں کی چادر میں لپٹی ہوئی پہاڑ جیسی سیاہ راتیں دمِ سحر افق پہ تاباں مسافتوں…

ترجیح اولین

ترجیح اولین

وفائوں کے پیکر صداقتوں کے امین صدیق ہیں بالیقین ہمیشہ تک ہیں نبی کے ہم نشین صدیق ہیں بالیقین ملاہے رتبہ اعلی جنہیں، خلق، اولیا، شہداء سے افضل بشر ہیں بعد انبیاء ومرسلین صدیق ہیں بالیقین مانگانہیں ثبوت نبوت کوئی ایمان لانے…

سڑک پر

سڑک پر

گزرتے ہیں ماہ سال سڑک پر نہیںکوئی پرسان حال سڑک پر ہم ان کوراہنماسمجھتے رہے چل گئے اپنی چال سڑک پر پکائی گئیں کبھی دیگیں یہاںپر اب گلتی نہیں دال سڑک پر جدھرسے گزرنادیکھ کرچلنا بچھے ہوئے ہیں جال سڑک پر پوچھااس…

تم بھی رقص فرمائو

تم بھی رقص فرمائو

تم بھی رقص فرمائو خواہشوں کے مقتل میں آنسوئوں کی جھل تھل میں میں بھی رقص کرتا ہوں تم بھی رقص فرمائو وحشتوں سے ٹکرائو ریزہ ریزہ خوابوں کی کرچیاں اٹھائو نہ درد سو گئے ہیں جو ان کو اب جگائو نہ…

لمحہ موجود

لمحہ موجود

ہم مسافر ہیں ایسی انجان گزرگاہوں کے جِن پہ چلتے ہوئے وحشت کا گماں ہوتا ہے دم اکھڑتا ہے تو مرنے کا سماں ہوتا ہے آبلہ پا ہیں مگر لمحہء آرام نہیں اپنی قسمت میں کوئی بھی تو دروبام نہیں ہم کو…

قطعہ

قطعہ

تعلق توڑ دینا چاہتا ہے وہ مجھ کو چھوڑ دینا چاہتا ہے نجانے کِس لئے وہ داستاں کو غموں کا موڑ دینا چاہتا ہے ساحل منیر…

ہم کو رکھ اپنی امان میں، اے میرا خدا

ہم کو رکھ اپنی امان میں، اے میرا خدا

کہیں بم دھماکے کہیں زلزلے اے خدا کب رکیں گے یہ سلسلے کہیں عمل مکافات ہیں کہیں قدرتی آفات ہیں بشر پر آئی ہیں وہ سختیاں پناہ مانگتے آدم زاد ہیں انسانی جانوں کا ہے اتنا زیاں کہ کانپ اٹھے ہیں زمین…

لگتے ہیں زہر جلوہ انوار شہر کے

لگتے ہیں زہر جلوہ انوار شہر کے

پھر سے لہو لہان ہیں بازار شہر کے کس نے مٹا کے رکھ دیے آثار شہر کے دامن قبائے دختر جمہور چاک ہے ڈھونڈو کہیں تو صاحبِ دستار شہر کے خوشا ہمارے عہد کے تمغات امتیاز فاقہ کشی سے مر گئے فنکار…

مت پوچھ مسلمان کا حال

مت پوچھ مسلمان کا حال

مسجد کے لیے سر کٹانے کو تیار ہے لیکن مسجد میں سر جھکانے کو تیار نہیں نبی کریم کا نام سنتے ہی جھوم جاتے ہیں نبی کریم کا حکم سنتے ہی گھوم جاتے ہیں کہتے ہیں کہ میرے رگ رگ میں ہے…

محبت اک عبادت ہے

محبت اک عبادت ہے

محبت اک عبادت ہے عبادت میں تصنع سے خدا بھی روٹھ جاتا ہے نمائش اور دکھاوے سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے محبت اور عبادت میں نمائش ہو نہیں سکتی محبت اک عبادت ہے عبادت کے لیے بہتر ہے تنہائی کا عالم ہو…

خود خدا محبت ہے

خود خدا محبت ہے

خود خدا محبت ہے گھر کے سونے آنگن میں رونقیں محبت سے دِل کی ویراں بستی میں راحتیں محبت سے بزمِ کیف و مستی کی شدتیں محبت سے تیرے میرے جذبوں کی حِدتیں محبت سے مامتا کے ہونٹوں پر اِک دعا محبت…

حرف اقرار تک نہیں پہنچے

حرف اقرار تک نہیں پہنچے

حرفِ اِقرار تک نہیں پہنچے تیرے معیار تک نہیں پہنچے ہم تہی دست شامِ ہِجراں میں تیرے دربار تک نہیں پہنچے میری قیمت لگانے والے سُن! جِنسِ بازار تک نہیں پہنچے لفظ مُردہ، خیال ناقص ہیں جو بھی اِنکار تک نہیں پہنچے…

بھلا دیا ہوتا

بھلا دیا ہوتا

غنیمِ شب نے اگر کچھ بچا دیا ہوتا فریب گاہِ سحر پہ لٹا دیا ہوتا تیری طرح سے اگر شوقِ رنگ و بو رکھتے تیری قسم تجھے دِل سے بھلا دیا ہوتا ساحل منیر…