دل رنجیدہ کو اکثر یہی سمجھاتے ہیں

دل رنجیدہ کو اکثر یہی سمجھاتے ہیں

دل رنجیدہ کو اکثر یہی سمجھاتے ہیں جو بھلا کرتے ہیں کب اس کا صلہ پاتے ہیں کہتے ہیں دشت کا سناٹا یہاں پر بھی ہے آج کی شب چلو ہم شہر میں رہ جاتے ہیں درد کی لہروں سے بنتے ہیں…

ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئی

ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئی

ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئی اس کی نظر کی چال سے شہ مات ہو گئی کیا میکدہ وہ کوچہ جاناں پہنچ گئے واعظ سے کل وہیں پہ ملاقات ہو گئی ہر لمحہ سوچ سوچ کے کار جہاں…

تجھ سے بچھڑ کے تنہا نہ چلتے پر کیا کریں

تجھ سے بچھڑ کے تنہا نہ چلتے پر کیا کریں

تجھ سے بچھڑ کے تنہا نہ چلتے پر کیا کریں دل نے قبول ہی نہ کیا ہمسفر کوئی ساحل پہ ساری عمر بھی بیٹھے رہو تو کیا کب آشنا ہوئی ہے کسی کی لہر کوئی فرصت نہیں ہے جیب و گریباں سے…

ایسی تاریکی ہے کہ نام بجھے جاتے ہیں

ایسی تاریکی ہے کہ نام بجھے جاتے ہیں

ایسی تاریکی ہے کہ نام بجھے جاتے ہیں شام ہی سے یہ در و بام بجھے جاتے ہیں روشنی داغ جگر میں نہیں اب باقی کوئی ہم نے جو پائے تھے انعام بجھے جاتے ہی نہ کرن کوئی امیدوں کی نہ دن…

دنیا میں ہنگامہ برپا لگتا ہے

دنیا میں ہنگامہ برپا لگتا ہے

دنیا میں ہنگامہ برپا لگتا ہے بچے شور کریں تو اچھا لگتا ہے اب تو سفر کی عادت ایسی ہو گئی ہے کبھی کبھی تو گھر بھی رستہ لگتا ہے جب سے آ کے ہم نے خیمے گاڑے ہیں یہ ویرانہ بھی…

بے اثر ٹھہری مسیحا کی دعا میرے بعد

بے اثر ٹھہری مسیحا کی دعا میرے بعد

بے اثر ٹھہری مسیحا کی دعا میرے بعد زخم کو باقی نہیں کوئی گلہ میرے بعد میں ہی آیا ہوں سر دشت تمنائے وصال ہے لہو رنگ ہر اک گل کی قبا میرے بعد جانے کیوں ضائع ہوئی دید تر کی شبنم…

نزر نامہ مہ و شانِ شوخ پیکر کیجیے

نزر نامہ مہ و شانِ شوخ پیکر کیجیے

نزر نامہ مہ و شانِ شوخ پیکر کیجیے زندگی نعمت ہے اس کو صرف بہتر کیجیے عشق ومستی کی سزا اگر عشق ومستی سے ملے آپ پر لازم ہے پھر یہ جرم اکثر کیجیے آپ کا دل آپ کی باتیں نگاہیں آپ…

وہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیں

وہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیں

وہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیں اس کا جمال اس کے سوا چاہیے ہمیں ہر لمحہ جی رہے ہیں دوا کے بغیر ہم چارہ گرو تمہاری دعا چاہیے ہمیں پھر دیکھیے جو حرف بھی نکلے زباں سے اک دن جو…

کفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہے

کفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہے

کفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہے اور اس کے بعد سرابوں کا ایک دریا ہے ہے کب سے پردئہ آواز کو سکوتِ ہوس سکوت پردئہ آواز کو ترستا ہے نہ جانے کب سے اک آشوب ہے سوالوں کا مگر سوال تو یہ…

سزا

سزا

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں تم مجھ کو جان…

تمہاری یاد سے جب ہم گزرنے لگتے ہیں

تمہاری یاد سے جب ہم گزرنے لگتے ہیں

تمہاری یاد سے جب ہم گزرنے لگتے ہیں جو کوئی کام نہ ہو بس وہ کرنے لگتے ہیں تمہارے آئینئہ ذات کے تصور میں ہم اپنے آئینے آگے سنورنے لگتے ہیں تمہارے کوچئہ جاں بخش کے قلندر بھی عجیب لوگ ہیں ہر…

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو جو ملے خواب میں وہی دولت ہو میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں مر ہی جائوں جو تم سے فرصت ہو تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنی ہی بے مروت ہو تم…

ہم آندھیوں کے بَن میں کسی کارواں کے تھے

ہم آندھیوں کے بَن میں کسی کارواں کے تھے

ہم آندھیوں کے بَن میں کسی کارواں کے تھے جانے کہاں سے آئے ہیں جانے کہاں کے تھے اے جانِ داستاں! تجھے آیا کبھی خیال وہ لوگ کیا ہوئے جو تری داستاں کے تھے ہم تیرے آستاں پہ یہ کہنے کو آئے…

سارے رشتے بھلائے جائیں گے

سارے رشتے بھلائے جائیں گے

سارے رشتے بھلائے جائیں گے اب تو غم بھی گنوائے جائیں گے جانیے کس قدر بچے گا وہ اس سے جب ہم گھٹائے جائیں گے اس کو ہو گی بڑی پشیمانی اب جو ہم آزمائے جائیں گے جون یوں ہے کہ آج…

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے بہتر یہی ہے آپ مجھے بھول جائیے ہر آن اک جدائی ہے خود اپنے آپ سے ہر آن کا ہے زخم جو ہر آن کھائیے تھی مشورت کہ ہم کو بسانا ہے گھر نیا دل…

ایک آفت ہے وہ پیالئہ ناف

ایک آفت ہے وہ پیالئہ ناف

ایک آفت ہے وہ پیالئہ ناف کیا قیامت ہے وہ پیالئہ ناف اب کہاں ہوش ہم کو حشر تلک کہ سلامت ہے وہ پیالئہ ناف جون بابا الف کا ہے ارشاد کارِ وحدت ہے وہ پیالئہ ناف شب خرابات میں رہا یہ…

ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے

ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے

ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے کہ ہٹ جائوں میں اپنے درمیاں سے یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے پرندے اڑ رہے ہیں شاخِ جاں سے دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں ہوا سنتا ہوں پیڑوں کی زباں سے…

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی تو کیا خود کو بھی آدھا کر لیا کیا ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ مری جاں تم…

بے قراری سی بے قراری ہے

بے قراری سی بے قراری ہے

بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے بِن تمہارے کبھی نہیں…

حسرتِ رنگ آئی تھی دل کو لگا کے لے گئی

حسرتِ رنگ آئی تھی دل کو لگا کے لے گئی

حسرتِ رنگ آئی تھی دل کو لگا کے لے گئی یاد تھی اپنے آپ کو یاد دلا کے لے گئی خیمہ گہِ فراق سے خیمہ گہِ وصال تک ایک اُداس سی ادا مجھ کو منا کے لے گئی ہجر میں جل رہا…

غم ہائے روزگار میں الجھا ہوا ہوں میں

غم ہائے روزگار میں الجھا ہوا ہوں میں

غم ہائے روزگار میں الجھا ہوا ہوں میں اس پر ستم یہ ہے اسے یاد آ رہا ہوں میں ہاں اس کے نام میں نے کوئی خط نہیں لکھا کیا اس کو یہ لکھوں کہ لہو تھوکتا ہوں میں کربِ غم شعور…

کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہو گا

کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہو گا

کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہو گا سوائے پاسِ آدابِ تکلف اور کیا ہو گا صلیب وقت پر میں نے پکارا تھا محبت کو میری آواز جس نے بھی سنی ہو گی ہنسا ہو گا ابھی اک شور ہائو…

مستئی حال کبھی تھی کہ نہ تھی بھول گئے

مستئی حال کبھی تھی کہ نہ تھی بھول گئے

مستئی حال کبھی تھی کہ نہ تھی بھول گئے یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی بھول گئے حرمِ ناز و ادا تجھ سے بچھڑنے والے بُت گری بھول گئے بت شکنی بھول گئے یوں مجھے بھیج کے تنہا سرِ بازارِ فریب کیا…

دل کے ارمان مرتے مرتے جاتے ہیں

دل کے ارمان مرتے مرتے جاتے ہیں

دل کے ارمان مرتے مرتے جاتے ہیں سب گھروندے بکھرتے جاتے ہیں محملِ صبحِ تو کب آئیگی کتنے ہی دن گزرتے جاتے ہیں مسکراتے ضرور ہیں لیکن زیرِ لب آہ بھرتے جاتے ہیں تھی کبھی کوہ کن میری شیریں اب تو آدابِ…