کوئی پوچھے تو بتا دوں گا

کوئی پوچھے تو بتا دوں گا

کوئی پوچھے تو بتا دوں گا حال کیسا ہے سب سنا دوں گا مدتوں میں لکھا ہوا جیون ایک ہی سانس میں مٹا دوں گا اتنا کم فہم تو نہیں پھر بھی آپ کو دیوتا بنا دوں گا لوگ پوچھیں گے ماجرا…

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو کبھی تو چندا آنکھیں کھولو سب روئیں تو دم گھٹتا ہے سب سے تنہا ہو کے رو لو شب کے تارے ، گنتی اور تم دن نکلا ہے کچھ تو سو لو جانے کونسا پتھر…

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے ہر انچ اک میل ہوتا جا رہا ہے غروبِ شمس کا منظر ہے۔۔۔۔۔۔۔جیسے سمندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھیل ہوتا جا رہا ہے جسے سمجھے تھے مہمل پہلے پہلے وہ خار اب۔۔۔۔۔۔۔۔کیل ہوتا جا رہا ہے کتابوں میں ”الف” سے ”…

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا ذرا سی دیر پاگل ہو گیا تھا کہانی میں نصیحت بھی تھی لیکن وہ بچہ سنتے سنتے سو گیا تھا سمندر جانتا ہے اس سے پوچھو ہوا میں کون آنسو بو گیا تھا سمندر آسماں…

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا عمارتوں میں گھرا اک مکان ہوں تنہا ادھورے چاند کی صورت دریدہ عکس بھی ہوں تہہ کھنڈر بھی ، بکھرتا نشان ہوں تنہا کبھی ہوں بھیڑ کہ ۔۔۔۔۔تل دھرنے کو جگہ نہ ملے کبھی…

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی دیکھنا، مضمون میں پھر تشنگی رہ جائیگی باقی ساری شان سے رسمیں ادا ہونے کے بعد کیا خبر تھی بس یہی اک رخصتی رہ جائیگی پہلے پہلے فون ہونگے، خط بھی لکھے جائینگے پھر…

یکسوئی

یکسوئی

عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہو ایک آوارہ منزل کو ستاتی کیوں ہو وہ حسیں عہد جو شرمندہ ایفا نہ ہوا اس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہو زندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنی خود کو خاکستر خاموش…

اسطرح کرتے ہیں نیکی لوگ مجبوری کیساتھ

اسطرح کرتے ہیں نیکی لوگ مجبوری کیساتھ

اسطرح کرتے ہیں نیکی لوگ مجبوری کیساتھ جس طرح مزدور کا رشتہ ہو مزدوری کیساتھ وصل کی شب ہو کہ خوشبو، دل کو رہتا ہے ملال جان کا خطرہ بھی تو ہوتا ہے کستوری کیساتھ سامنے رکھنا اُسے ہر وقت مثلِ آئینہ…

روزوشب کا یہ سلسلہ ہے کیا

روزوشب کا یہ سلسلہ ہے کیا

روزوشب کا یہ سلسلہ ہے کیا تجھ سے ملنا بھی حادثہ ہے کیا عکس کیوں ایک سا نہیں رہتا وقت کیا اور آئینہ ہے کیا دیکھتا ہوں جب اپنی تحریریں سوچتا ہوں کہ یہ لکھا ہے کیا بے طرح یاد آ رہا…

وقت ہر اِک غبار سے باہر

وقت ہر اِک غبار سے باہر

وقت ہر اِک غبار سے باہر دفن ہے یہ مزار سے باہر آنیوالے ہجوم نے مجھ کو کر دیا ہے قطار سے باہر شیر سویا ہے اور جاگتی ہے اس کی ہیبت کچھار سے باہر جان لیوا ہے اس کو چھونا بھی…

حال کچھ اسطرح دلوں کا ہے

حال کچھ اسطرح دلوں کا ہے

حال کچھ اسطرح دلوں کا ہے جیسے ویران ساحلوں کا ہے راستہ جان بوجھ کر کھونا گو ہمیں علم منزلوں کا ہے کس سے دامن بچا کے گزرو گے شہر کا شہر سائلوں کا ہے کچھ تو شامِ سفر بھی گہری ہے…

مروت تھی کچھ گِلے تھے کہیں

مروت تھی کچھ گِلے تھے کہیں

مروت تھی کچھ گِلے تھے کہیں آرزوئوں کے سلسلے تھے کہیں دوریاں درمیاں تھیں پہلے بھی پر دلوں میں یہ فاصلے تھے کہیں اِک بھلا نام یاد پڑتا ہے تجھ سے پہلے بھی ہم ملے تھے کہیں ایک جنگل عمارتوں کا تھا…

یہ زہر ہے یا کوئی نشہ مٹھاس کا

یہ زہر ہے یا کوئی نشہ مٹھاس کا

یہ زہر ہے یا کوئی نشہ مٹھاس کا پیتا ہوں کب سے پر وہی عالم ہے پیاس کا آنکھوں کو خوں سے بھر گیا اِک ریزہ ریزہ خواب پائوں میں چبھ گیا کوئی ٹکڑا گلاس کا مفرور قیدیوں کو ڈسیں سرسراہٹیں سانپوں…

اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے

اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے

اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے دور ماں باپ سے اولاد کو رکھا جائے شکوہ بے جا تو نہیں دنیا کے اس کمرے میں کس طرح مختلف افراد کو رکھا جائے شکل و صورت کے کھنڈر کی ہوئی تعمیر نئی…

آر سے پار نہیں نکلا

آر سے پار نہیں نکلا

آر سے پار نہیں نکلا عکسِ دیوار سے نہیں نکلا شہر بنتے گئے مگر انساں آج تک غار سے نہیں نکلا اُس کنویں میں پڑا ہوا صندوق ایک دو چار سے نہیں نکلا میں بہت سامنے ہوا اُس کے وہ حسیں کار…

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا جنگ تھی باہر گلی میں ، میں غزل کہتا رہا شاعری کی اور نظر انداز کی بچوں کی بھوک چاند کو روٹی کا نعم البدل کہتا رہا آ پڑا دل پر مرے آخر…

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے تمام عمر نبھائی ہے دوستی میں نے چراغ ہوں میں اگر بُجھ گیا تو کیا غم کہ جتنی دیر جلا روشنی تو کی میں نے میں شیر دیکھ کے پنجرے میں خوش نہیں…

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا گھر لوٹ کے جائو گے تو وہ گھر نہ ملیگا اس جنگ میں گر جیت بھی جائو گے تو کیا ہے اس تاج کو رکھنے کیلئے سر نہ ملیگا اس شہر کے لوگوں کو…

چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں

چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں

چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں ہر ایک جلوے میں جلوہ نما کو دیکھتے ہیں ہمیں کتاب میں ہے ترا رخ روشن ترے جمال میں نور خدا دیکھتے ہیں وہ آئیں پرسش غم کو یقیں نہیں آتا ہم اپنے سامنے…

شعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہے

شعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہے

شعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہے ایک دوعالم بھی تھا اورا یک یہ عالم بھی ہے اہل دل کو شکوہ بے مہری عالم سہی دیکھنا یہ ہے کہ احساس شکست غم بھی ہے پاہی لیں گے منزلیں دشواریوں کے باوجود کوئی…

ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں

ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں

ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں نظم گیت وہی بدلتے ہیں وہ ترسے ہیں روشنی کے لیے جن کے خوں سے چراغ جلتے ہیں بے سبب مسکرانا کیا معنی بے سبب اشک بھی نکلتے ہیں گھیر لیتی ہے گردش دوراں گیسوئوں سے…

پہلو میں دل ہو اور ذہن میں زباں ہو

پہلو میں دل ہو اور ذہن میں زباں ہو

پہلو میں دل ہو اور ذہن میں زباں ہو میں کیسے مان لوں کہ حقیقت بیاں نہ ہو میرے سکوت لب پر بھی الزام آ گئے میری طرح چمن میں کوئی بے زباں نہ ہو سوز دل وگداز جگر معتبر نہیں جب…

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا دائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا عمر مصروف کوئی لمحہ فرصت ہو عطا میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر دل وہ کافر ہے کہ…

المدد اے چاک دامانو، قبا خطرے میں ہے

المدد اے چاک دامانو، قبا خطرے میں ہے

المدد اے چاک دامانو، قبا خطرے میں ہے ڈوبنے والو بچائو ناخدا خطرے میں ہے خون دل دینا ہی ہو گا اے اسیران چمن بوئے غنچہ روئے گل دست صبا خطرے میں ہے مصلحت کوشی ہے یا شوخی طرز بیاں راہبر خود…