دیکھ کر کیوں مجھے مسکراتے ہو تم
روشن ستارے
پسِ دیوار بھی اکثر صدائیں خوب ملتی ہیں
بن کر
کم ظرف کو حواس پہ چھانے نہیں دیا
ہم نے کوئی بھی عکس چرانے نہیں دیا
بہتان بن کر بھلا کیسے جیا جا سکتا ہے
میلاد نبی کا مناتے رہنا
شوق یه که لزت دنیا بھی هم کو چاهیۓ
کیسے کریں قیام اب تیرے دیار میں
لاحاصل
کھیل دنیا میں تیرے نام پہ ہارے کیا کیا
چاند جب اُس کی ہتھیلی پہ ٹھہر جاتا ہے
جنگ نوحہ جوان لاشوں کا
تمہاری باتیں
میں کہیں گم ہوگیا ہوں
تلخیء زیست
زندگی ہجر کی کہانی ہے
گھوڑے پہ چڑھ کے کوئی سکندر نہیں ہوا
ہو سایہ تیرے سر پہ بہاروں کی رِدا کا
دل تیرے درد محبت میں گرفتار بھی ہے
واعظ خوش بخت کے نام
محبت سے خوف آتا ہے
محبت کو دنیا میں مشہور کر دوں
Page 1 of 32123Next ›Last »