دِل کی لگی میں نیند نہ آئی تو رو پڑے
حیات اک نظم ہوتی تو
بند اوراق میں مرتے ہی رہے حرف میرے
دل تیرے تصور سے بہلتا نظر آئے
کوئی یاد آیا
کثرت خواہشات
میں نے اس کے شہر میں جا کر دیکھا ہے
ابھی تقدیر سے دامن چھڑا کر چل نہیں سکتے
غمِ حیات کے ماروں پہ مسکرا ساقی
تیرے غم کی بحالی ہو نہ جائے
میرا پیارا وطن
اچانک کہیں گم ہو جانے سے ڈر لگتا ہے
انتساب
برگ و گل پہ نکھار تھوڑی ہے
اپنی بربادی کا کچھ جشن منایا جائے
تمہارے آنے تک
جل رہے ہیں بھیگی پلکوں پر ستارے آج بھی
لہو میں جِسم نہلانا پڑے گا
تمھیں کیا پتہ کس کرب سے گزرنا پڑتا ہے
ترس گئے آں
تجھ کو زندہ باد کریں
نگاہ کرم
یہ کیسے فلسفی کا خلاصہ ہے زندگی
وہ جِس کی فطرتِ بد سے گریزاں موسمِ گل ہو
Page 1 of 30123Next ›Last »