حوصلے اور ضبط کا امتحان ہے
ماں تجھے سلام
ماں
دستک
غزل
مزدور
رحمت مسلسل
قطعہ
بے وقت ہی مسافت پر اکسا رہا ہے
بھوک ڈھلتی ہے جب تخیل میں
سرمئی شام
عزمِ نو
ابر سایہ دار
یہ نفرتوں کے پجاری کی راجدھانی رہی
وقف دہلیز و بام ٹھہرے ہیں
کبھی نا سوچا تھا ایسا ہو گا
نعت شریف
آسمان یہ زمیں
پچھتاوا
تیری خاطر اجل کو ٹالے ہیں
تجھ سے ملنا بھی سزا لگتا ہے
وفاں کے پیکر صداقتوں کے امین صدیق ہیں بالیقین
دیواروں کو درد سنایا جا سکتا ہے
بنامِ وطن
Page 1 of 29123Next ›Last »