میڈیا اور اس کے اثرات

آج جبکہ میڈیا انسانی زندگی بالعموم اور نوجوانوں کی زندگی میں بالخصوص نہایت اہم رول ادا کر رہا ہے۔ تو ایسی پالیسیز ترتیب دینی چاہئیں جس سے نوجوان نسل گلیمر مصنوعی پن جدیدیت کی بدولت احساس کمتری کا شکار نہ ہو اور نہ ہی اس طرز زندگی کی عملی تقلید کرے۔
میڈیا نئی نسل میں ویژن سوچ عمل پیدا کر رہا ہے۔ میڈیا کی بدولت کلچر فروغ پا رہا ہے۔ ٹرینڈ تبدیل ہو رہے ہیںاور انسانی زندگی کا مجموعی نظام تشکیل پا رہا ہے۔ میڈیا خواہ پرنٹ یا الیکٹرانک کسی بھی شکل میں ہو انسانی شعور کی فراہمی کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ اسے ہم معاشرے کا آئینہ دوسری آنکھ محتسب اعلیٰ یا کوئی بھی نام دیں۔ اس کی اہمیت و طاقت سے انکار ممکن نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ایڈوائس دور میں آخبارات و چینلز کی بہتات نے نئی نسل کو جس قدر معلومات کی فراہمی اور تحقیقاتی رپورٹس پیش کی ہیں آج کا بچہ آئندہ بیس سال کے حالات و واقعات کی پیشنگوئی بآسانی کر سکتا ہے۔
مذہب ثقافت حالات حاضرہ فیشن تفریح تعلیم صحت ہر طرح کی مکمل معلومات صرف ایک بٹن دبانے کی مرہون منت ہیں۔ اس لحاظ سے اگر یہ کہا جائے کہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا مکمل بیڑہ میڈیا نے اٹھا لیا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ پہلے بچے جو کچھ والدین دادادادی سے سیکھتے تھے۔ اب وہ سب تمام وقت ٹی وی چینلز کی نذر ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی والدین کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو دیں۔ لہذا یا تو بچے الیکٹرانک ویڈیو گیمز سے دل بہلاتے ہیں یا پھر کارٹون نیٹ ورک اور موویز اور اگر چینلز سے نشر ہونے والے کارٹون کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بچے وہاں سے کیا سیکھتے ہیں۔ تفریح کے نام پر دکھائی جانے والی کارٹون مووی میں مقصدیت کہیں نظر نہیں آتا۔
ڈزنی لینڈ ونڈر لینڈ جیسی طلسماتی کہانیوں میں ماورائی مخلوق کی تصویر کشی کے ساتھ ساتھ ہیرو ہیروئن کی داستانیں موجود ہوتی ہیں۔ مزاح کے نام پر گھٹیا کلچر پانچ سات سال کی عمر کے بچوں میں پروان چڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ بچوں کو کارٹون نیٹ ورک اتنا پسند ہوتا ہے کہ وہ کھانا پینا تک چھوڑ کے کارٹون ٹائم میں ٹی وی کے سامنے آموجود ہوتے ہیں۔ ویسے بھی والدین کے پاس کون سا وقت ہوتا ہے کہ ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھ سکیں بذریعہ کیبل ذہنی تفریح کے نام پر کا عنصر بچوں کی معصومانہ سوچ کا حصہ بننا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ عام زندگی کی تمام باتیں اس پیرائے میں سوچنے اور عمل کرتے ہیں یعنی بچے کی وہ عمر جس میں اس کی تربیت کا سنہری دور شروع ہوتا ہے۔ میڈیا کی نذر ہونے لگتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بچہ سات سال کی عمر میں جو سیکھتا ہے وہ 70 سال کی عمر تک اس کی تربیت کا حصہ بن جاتا ہے اور وہ اسی کے مطابق عمل کرتا ہے۔
تربیت کے اس سنہری دور میں جب تمام تر ذمہ داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے تو میڈیا کیا سکھا رہا ہے؟ سات سال کی عمر کے بعد جب بچہ ذرا بڑا ہوتا ہے تو اسے ٹی وی ڈرامہ اور مووی میں دلچسپی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اب آج کا دکھایا جانے والا ڈرامہ کیا تصویر کشی کر رہا ہے اور کیا سبق دے رہا ہے یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جدیدیت کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے نت نئے فیشن طرز زندگی اور رویے سب کچھ بدل گئے ہیں۔ کیبل کی بدولت انڈین ڈراموں کے شائقین جب پاکستانی ڈرامہ کو چھوڑتے جا رہے تھے تو مجبورا پاکستانی ڈرامہ میں تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو گئی۔
وگرنہ ناظرین نے پی ٹی وی کا ڈرامہ دیکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستانی ڈرامہ کو اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے جن مصنوعی طرز زندگی کی تصویر کشی کرنا پڑی لوگوں نے اسی کو مقصد حیات بنا لیا۔ آج نوجوان نسل کا یہ عالم ہے کہ رات کو جو کچھ ٹی وی چینلز پر دیکھا جاتا ہے اسے ہر قیمت پر عملی زندگی میں اپنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس طرح مختلف چینلز کی یلغار سے ایک مخلوط سا کلچر فروغ پا رہا ہے جس میں انڈین مغربی مشرقی تمام ثقافت روایات مکس ہو کر رہ گئی ہیں اور بحیثیت مسلم ہماری اصل شناخت مخدوم ہو کر رہ گئی ہے۔
انڈین جیولری میک آپ اور ملبوسات کی نمائش کے علاوہ یہ ڈرامے نوجوان نسل کی زندگی میں اس حد تک سرائیت کر چکے ہیں کہ ڈراموں میں دکھائی جانے والی فیملی پالیٹکس کو جس مثبت انداز میں دکھایا جاتا ہے ۔ ساس بہو اور دیگر رشتوں کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔ اب ہر لڑکی یہی سمجھتی ہے کہ اس نے کس سیاست سے نئی زندگی میں آنے والے رشتے داروں سے سلوک رکھنا ہے۔
انڈین ڈراموں کی اس پالیٹکس سے ہماری مذہبی رواداری اور بھائی چارے کا تصور دھندلانے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ سماجی بندھن ٹوٹ رہے ہیں۔ اخلاقی قدروں کا خاتمہ ہو رہا ہے اور رشتے ناطے محض فارمیلٹی کے تحت نبھائے جا رہے ہیں۔ حقیقی پیار محبت ختم ہونے سے انسانی زندگی مصنوعی پن کا شکار ہو کر رہ گئی ہے اور اس مصنوعی پن کو آج کی نوجوان نسل نے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے کیونکہ ان کے سامنے زندگی کی یہی تصویر کشی کی گئی۔
اس تصویر کشی میں سب سے اہم کردار میڈیا نے ادا کیا اور نئی نسل نے جو دیکھا وہیں سے سیکھا۔ ہوتے ہوتے یہ مصنوعی پن ظاہری زندگی پر اس حد تک اثر انداز ہوا کہ اب زندگی کا اصل روپ نوجوان نسل اسی مصنوعی پن کو سمجھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈراموں اور موویز میں دکھایا جانے والا پرتعیش طرز زندگی نئی نسل میں مادہ پرستی کو فروغ دینے لگا۔ لگژری گاڑیاں بنگلے اور انسانی منفی رویوں کو میڈیا نے جس انداز میں پیش کیا نئی نسل کی تربیت اسی نہج پر ہونے لگی۔
چینلز کی بہتات نے معلومات کے بہا میں اس قدر اضافہ کیا کہ نئی نسل کی سوچ یک رخ نہیں رہی۔ حد تو یہ ہے کہ آج نئی نسل میں اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہے جن کی مذہب جیسے حساس معاملے پر کوئی ایک رائے نہیں ہے وہ کبھی مذہب اسلام کو بہترین سمجھتے ہیں تو کسی حد تک ہندو ازم یا عسائیت سے متاثر ہیں ان کے بہت سے نظریات کو صحیح سمجھتے ہیں اور کسی ایک مذہبی نظریے پر متفق نہیں ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مذہب اسلام کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ میڈیا کے مختلف چینلز سے جو نظریات نشر ہوتے ہیں انہوں نے مکس کر کے ایک نئی سوچ کو جنم دیا جس کے تحت انسانی رویے آگے اور مذہب کی اہمیت پیچھے رہ گئی اور نئی نسل یہ تک بھول گئی کہ انسانی رویے مذہبی عقائد کی بدولت ہی تشکیل پاتے ہیں اور مذہب ہی وہ بنیاد ہے جس کی بنا پر زندگی کا ضابطہ حیات ترتیب دیا جاتا ہے۔
آج جبکہ میڈیا انسانی زندگی بالعموم اور نوجوانوں کی زندگی میں بالخصوص نہایت اہم رول ادا کر رہا ہے۔ تو ایسی پالیسیز ترتیب دینی چاہئیں جس سے نوجوان نسل گلیمر مصنوعی پن جدیدیت کی بدولت احساس کمتری کا شکار نہ ہو اور نہ ہی اس طرز زندگی کی عملی تقلید کرے بلکہ ان میں شعور آگہی محنت ہمدردی مساوات سادگی جیسے عناصر کے ذریعے ملک و قوم کی ترقی کا بامقصد شعور پیدا ہو۔
تحریر : شاہد محمود گھمن
... مزید خبریں
- عیدالفِطر مسلمانوں کی حقیقی مسرت کا دن
- نااہل حکمرانوں نے پاکستان کو ڈبو دیا
- سیالکوٹ میں دو بھائیوں کا وخشیانہ قتل
- سیلاب اور مغربی دنیا کی بے حسی
- سیلاب کی شعلہ افشانیاں اور طالبان

























































