Quantcast

میرا جہان پاکستان

Electronic media

Electronic media

یہ سال پہلے کی بات ہو گی بریکنگ نیوز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ الیکٹرانک میدٰیا عوام کو اپنے سحر سے مسحور کئے ہوئے تھا۔ لوگوں میں ایک بے چینی سی پائی جارہی تھی پرنٹ میڈیا کئی محاذوں پر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔ ایسے وقت میں ایک قومی روزنامے کی چاپ صاف سنائی دینے لگی تھی۔ ایک دن پتا چلا کہ ایک نیا اخبار مارکیٹ میں آگیا ہے یار لوگوں نے طرح طرح کے تبصرے اور تجزیے کئے۔ ان دنوں یہ بازگشت بھی زبان زد عام تھی کہ کوئی نیا اخبار ان حالات میں کیسے قدم جما سکتا ہے۔ ان دنوں ان سطور کا لکھنے والا ایک قومی روزنامے سے منسلک تھا اخبار کا دفتر کیا اور پریس کلب کیا جہاں بھی صحافیوں کی محفل جمی ایک ہی موضوع یہ نیا آنے والا اخبار اپنی پہچان کیسے بنائے گا۔

اخبار کی اشاعت کا آغاز ہو چکا تھا لیکن نا تو کوئی اشتہاری مہم چلائی گئی اور نہ ہی ٹریفک سگنلز پر مجھے سائن بورڈز کی بھرمار نظر آئی ایسے میں لوگ حیران تھے ان کی حیرانگی بھی حق بجانب نظر آتی تھی زمانہ موجود میں جب ایک کریم یا ایک ٹوتھ پیست کو بیچنے کے لئے مختلف حربے آزمائے جاتے ہیں ایک اخبار ان حالات میں یہ سب کیے بغیر کیسے اپنے آپ کوکیسے منوائے گا؟ناقدین تب ورطہ حیرت میں ڈوب گئے جب ”جہان پاکستان” کے نام اخبار منظر عام ہر آیا اور صحافیوں کی بڑی تعداد کی خواہش تھی کہ وہ بھی اس جہان کاحصہ بن جائیں۔ادھر اخبارکی اشاعت شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی خوبصورت لے آوئٹ ،شاندار پرنٹنگ اور دیدہ زیب مواد کی بدولت قارئین کی بڑی تعداد کو اپنی طرف مائل کر لیا تھا۔یا یوں کہہ لیجیے شہر کی خوبصورت آنکھوں نے پہچان لیا تھا۔ایسے ہی کسی موقع پر رحمان فارس نے کہا تھا

اچھی آنکھوں کے پجاری ہیں مرے شہر کے لوگ
تو میرے شہر میں آئے گا تو چھا جائے گا

یقین جانیے زندہ دل رکھنے والے لاہوریوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا روشنیوں کے شہر کراچی والوں نے خوب پذیرائی دی اور اسلام آباد والوں نے خوب سراہا۔آج جہان پاکستان قومی روزنامے کے طور پر اپنا وجود تسلیم کروا چکا ہے۔جہان پاکستان کی کامیابی سے کئی منہ بند ہو چکے ہیںکئی دوستوں کا کہنا تھا چھ مہینے بعد بتانا اخبار کہاں گیا؟ آج جہان پاکستان ایک سال کا ہو چکا ہے صرف ایک سال کی قلیل مدت میں جہان پاکستان ایک مستحکم ادارے،معروف اور مقبول روزنامے کے طور پر پورے ملک میں اپنی ایک منفرد پہچان قائم کر چکا ہے۔الحمداللہ آج جہان پاکستان کی گونج خیبر تا کراچی سنائی دے رہی ہے ۔سچی لگن اور نیک نیتی کے جذبے کے ساتھ تعلیمی سیکٹر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والی درویش صفت شخصیت ایم اے روئف صاحب نے زمین میں ایک بیج بویا تھا جس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مضبوط عزائم سے بھرپور نوجون اویس روئف نے اٹھائی تھی محنت اور لگن سچی ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے آج وہ بیج ایک تنا آور درخت بن چکا ہے جس کا نام ”جہان پاکستان” ہے۔اویس روئف باہمت نوجوان ہیں مجھے ان کی زبانی یہ سن کر بہت اچھا لگا کہ ”جہان نیوز” اور ”جہان انٹرٹئینمنٹ” کے نام سے دو نئے چینلز کا آغاز ہونے جا رہاہے جہان میڈیا گروپ کی مسلسل کامیابیوں کے پیچھے اس نوجوان کی انتھک محنت موجود ہے۔اویس روئف صاحب شاعر نے آپ کے لئے ہی کہا تھا

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

Pakistan Flag

Pakistan Flag

جہان پاکستان صرف ایک اخبار نہیں ایک سوچ ایک تحریک کا نام ہے ایک قافلہ کہہ لیجیے جو لاکھ رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے اس قافلے کی قیادت میں بے باک ونڈر خاتون محترمہ فرح وڑائچ بھی ہیں، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جہان پاکستان واحد قومی روزنامہ ہے جس کو یہ اعزاز حاصل ہے اخبار کی ایڈیٹر خاتون ہیں۔ جہان پاکستان میں صحافی و تجزیہ نگار محترمہ فرح وڑائچ کی ادارت اور اخبار کی کمپوزنگ سے لے کر تقسیم کرنے والے کارکن تک سبھی کی محنت لائق تحسین ہے۔ اخبارات کے ادارتی صفحات کا جائزہ لیا جائے تو بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں جدھر بھی نظر جاتی ہے کالموں کا لنڈا بازار ہی نظر آتا ہے۔ لیکن جہان پاکستان کے ادارتی صفحے کو ”گالم گلوچ” سے مکمل طور پر پاک ہونے پر پذیرائی ملی ہے۔

اس صفحے پر کالم تو شائع کئے جاتے ہیں لیکن کسی سیاسی پارٹی کے نظریات کا پرچار کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ان صفحات کے ذریعے عوام کو معاشرے کی حقیقی تصویر، مسائل اور ان کا حل ہی دیا جاتا ہے۔ جہان پاکستان کے اداری صفحات کو خوبصورت سوچ اور حب الوطنی کے جذبے سے لیس اشرف سہیل صاحب ترتیب دیتے ہیں انھوں نے ادارتی صفحات پر ایک کہکشاں سجا رکھی ہے۔ کالم لکھنے والوں میں استاد محترم عباس تابش اردو غزل کے بے تاج بادشاہ ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، احمد عقیل روبی اردو ادب کا ایک بہت بڑا نام ان کے کالم ادارتی صفحات کی زینت بنتے ہیں۔ ماسکو سے ڈاکٹر مجاہد مرزکا کالم خوب ہوتا ہے۔

،سلیم فاروقی کی آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے وہ عوام کو بھی دکھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں،صلاح الدین حیدر قومی مسائل بالخصوص سندھ کے مسائل پر بھرپور آواز اٹھاتے ہیں۔وکیل انصاری جو نیو یارک میں ادبی سرگرمیاں زندہ رکھے ہوئے ہیں ان کالم بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اعجاز حفیظ خان کے کالم کا خاصہ کالم میں اشعار کا خوبصورتی سے استعمال ہے۔ڈاکٹر غافر شہزاد،ڈاکٹر سعادت علی اسعد،ضمیر آفاقی،مدثر اقبال بٹ،نوید صدیقی،اکرم شیخ،علی حسن،ندیم رضا،اشرف سہیل اورشکاگو سے احتشام ارشد نظامی سب میرے پسندیدہ ہیں سب ایک سے بڑھ کر ایک معتبر اور معروف نام ہیں ان پر لکھنے بیٹھوں تو ایک ضیخم کتاب کا مصنف بن جائوں۔

یہ جہان پاکستان کا ہی اعزاز ہے لاہور کی صحافی برادری کے قائد ارشد انصاری جہان پاکستان کے رپورٹنگ ایڈیٹر ہیں ارشد انصاری کو لاہور کے صحافیوں کا اعتماد حاصل ہے اسی اعتماد کی وجہ سے آپ لاہور پریس کلب کے پانچ مرتبہ مسلسل صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ جہان پاکستان کی رپورٹنگ ٹیم میں ایک سے بڑھ کر ایک نام موجودہے اعجاز بٹ،راحیل سید،ظہیر شیخ ،حنا رشید،فرخ بٹ سب اپنی اپنی بیٹ میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔معروف صحافی ندیم اشرف جن کا نام کارزار صحافت میں ایک منفرد پہچان رکھتا ہے جہان پاکستان کے نیوز ایڈیٹر ہیں۔ برادرم ندیم رضا میگزین ایڈیٹر ہیںان کی ٹیم کی محنت سے ہی میگزین سیکشن معاصر اخبارات سے منفرد نظرآتا ہے۔ سمیع اللہ رندھاواکا نام یہاں لکھنا زیادتی ہو گی جن کے لکھے فیچرزمیرے پسندیدہ ہیں۔

”جہان پاکستان” کے میگزین سیکشن خصوصا سنڈے برنچ ،جہان جگمگ،جہان خواتین اور جہان ایمان،جہان زبان وبیان ،جہان تعلیم و صحت اور جہان پاکستان کے صفحات کے مختلف سلسلے جہاں تہاں ،جہان نور حکمت،آپ کا دن ستاروں کی نظر میں،فکر اقبال،کارٹون ،جہان ڈیٹا بیس ،جہان آرائ،جہان ہمارا ہے،جہان کھیل کھلاڑی ،جہان موج مستی،جہان تجارت،جہان ملکوں ملکوں ،شہر بولتا ہے،اضلاع و تحصیلں جہان پاکستان جہاں اپنے ان سلسلوں کے ذریعے قاری کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا خاطر خواہ سامان بہم پہنچاتا ہے وہیں جہان پاکستان پورے پاکستان کی آواز بن چکا ہے۔ سچ پوچھیں ”جہان پاکستان ” میری دل کی آواز ہے یہ میری خوش بختی کہہ لیجیے کہ آج میں اس خوبصورت جہان کا حصہ ہوں میراکالم آرائی کا سفر جو مختلف قومی روزناموں سے ہوتا ہوا جہان پاکستان تک پہنچا ہے۔ اب جاکر لگتا ہے کہ ٹھیک جگہ پہنچاہوں ۔جتنا جہان پاکستان کا دفتر میرے گھر سے قریب ہے اس سے کہیں زیادہ جہان پاکستان پاکستان میرے دل کے قریب ہے مجھے اپنایہ ”جہان” اچھا لگتا ہے۔

Farrukh Shahbaz Warraich

Farrukh Shahbaz Warraich

تحریر: فرخ شہباز وڑائچ
farrukhshahbaz03@gmail.com
0321 4506816

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>