نارویجن پاکستانی شیعہ کمیونٹی کا پاکستان میں شیخ محسن نجفی کو شیڈول چار میں شامل کرنے پر تشویش کا اظہار

Meeting of Pak Norway Shia Community With Ambassador Ms Riffat Masood

Meeting of Pak Norway Shia Community With Ambassador Ms Riffat Masood

اوسلو (پ۔ر) نارویجن پاکستانی شیعہ کمیونٹی کے وفد نے یہاں سفیر پاکستان محترمہ رفعت مسعود سے ملاقات کی اورپاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر فرقہ وارانہ تشدد اور شیعہ رہنماؤوں خصوصاً پرامن بزرگ شیعہ عالم دین علامہ شیخ محسن نجفی کوشیڈول چار میں شامل کرنے، ان کے بنک حسابات منجمد کرنے اوران کی شہریت منسوخ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

وفد کی قیادت انجمن حسینی ناروے کے ڈائریکٹر مذہبی امور علامہ ڈاکٹر سید زوار حسین شاہ کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران وفد کی طرف سے توحید اسلامک سنٹر اوسلو کے صدر سید سجاد کاظمی، انجمن حسینی کے نائب صدر سید کریم شاہ اور سفارتخانے کی طرف سے سینئر سفارتکار ابرارحسین خان بھی موجود تھے۔

وفد نے سفیر پاکستان کو بتایا کہ وزارت داخلہ حکومت پاکستان نے جہاں بعض فرقہ پرست عناصر کو شیڈول فور میں شامل کرکے ان کے اثاثے منجمند کئے ہیں اور ا ن کی شہریت منسوخ کردی ہے ، وہاں بعض پرامن شیعہ علماء کو بھی اس اسی اقدام کا نشانہ بنا لیا ہے۔

خاص طور پر مفسر قرآن اور متعدد فلاحی اورتعلیمی اداروں کے سرپرست علامہ شیخ محسن نجفی جیسے پرامن اور محب الوطن علماء کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ وفد نے اس سلسلے میں ایک تحریری یاداشت بھی سفیر پاکستان کو پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ شیخ محسن نجفی اور ان سے متعلق فلاحی اور تعلیمی اداروں پر پابندی اٹھائی جائے اور ان کے منجمد بنک کھاتہ جات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

وفد نے بتایا کہ اس حکومتی اقدام کی وجہ سے علامہ شیخ محسن نجفی سے متعلق اداروں جن میں یتیم اور نادار بچوں کے تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں، کو سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے اور اگر یہ پابندیاں مزید طول پکڑتی ہیں تو ہزاروں بچوں اور دیگر افراد کا مستقبل تاریک ہو جائے گاجس کی تمام ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

سفیر پاکستان نے وفد کو یقین دلایاکہ ان کے تحفظات کو حکام بالاتک پہنچایا جائے گا۔ وفد نے یہ بات زوردے کر کہی کہ شیعہ مسلمان ہمیشہ پاکستان کے محب الوطن شہری رہے اور اس ملک کو قائم کرنے میں بھی شیعہ مسلمانوں کا کردار کلیدی رہا ہے۔

ملک کے بننے کے بعد بھی ہمیشہ جب بھی ملک و قوم کو ضرور ت پڑی تو شیعہ مسلمان پیش پیش رہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پوری قوم کو ساتھ لے کر چلے اور ہراس اقدام سے گریز کرے جس سے قومی وحدت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔

وفد نے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات بشمول کراچی میں حالیہ مجلس عزاء کے دوران دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادتوں پر تشویش ظاہر کی۔