ضمیر کے سوداگروں کی جعلی جیت

PML N Win

PML N Win

تحریر : ایم آر ملک
آخری فتح کا دارومدار قیادت کے معیار پر ہوا کرتا ہے کیا کپتان اُن ضمیر فروشوں کا احتساب کر پائیں گے جنہوں نے بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلہ میں ن لیگی نشان پر مہریں لگاکر اپنے ضمیرکی بولی لگوائی ؟ اسے ہم ضمیر کی شرمناک شکست ہی کہہ سکتے ہیں ،دولت کی چکا چوند میں عوامی مینڈیٹ کی دھجیاں بکھیر ی گئیں ،اقتدار کے جمہوری بچوں کی جمہوریت کی فتح کے بارے میں کی جانے والی تمام تر بکواس گھٹیا پروپیگنڈا ہے بااثر جاگیر دار ،سرمایہ دار عوام کے حقیقی نمائندوں کو اپنے جمہوری حقوق کے استعمال سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بازرکھتے ہیںجس کا مظاہرہ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں عوام نے سرعام دیکھا ۔ جعلی جیت کو یقینی بنانے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انتخابات کا انعقاد تشدد کی دھمکیوں اور تشدد پر مبنی خوف کے ماحول میں کرایا جاتا ہے ۔ لیہ کے عابد انوار علوی کے مزاحمتی کردار کو عوام برسوں نہیں بھولیں گے جس نے عوامی مینڈیٹ کا احترام آبرو مندانہ طرز عمل سے کیا کروڑوں کی آفر جس کے ضمیر کو خریدنے میں ناکام رہی ۔اقتدار کے خلاف اُس کی جانگسل جدوجہد کو سلام پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔

عابد انوار علوی عوام اور ضمیر کی عدالت میں ہار کر بھی سرخرو ہے اور نو دولتیئے سیٹھ اسلم کا بھتیجا ضمیروں کی بولی لگا کربھی شکست خوردہ گراس روٹ لیول تک اختیارات کے نعرے بازوں کے ہاتھوں دھاندلی ایک نئی شکل میں اُبھر کر سامنے آئی ہے۔کیا ذہنی بیمار اور دھوکہ بازافراد عوامی نمائندگی کے اہل ہوسکتے ہیں؟۔ لیہ کے افضال خان اور عظیم ہانس جیسے افراد کا ضمیر دولت کی چمک پر چندھیا گیا مگر وارڈ نمبر10کے عوام کا ردعمل یہ تھا کہ افضال خان کی ضمیر فروشی کے خلاف وہ گھروں سے نکلے اور دفتر کا گھیرائو کر ڈالا۔محسن کشی کی مثال اس بڑی اور کیا ہو سکتی ہے کہ سمرا فیملی میںدوران الیکشن نفرت کی انمٹ دراڑ ڈالنے والے افضال خان نے مرحوم مہر فضل حسین سمراء ،یاسروسیم سمرا کی طرف سے ملنے والی جیت کو چند ٹکوں میں طوائفہ کی غیرت کی طرح نیلام کر دیا ۔مہر مسرور ایڈووکیٹ کے ذہن سے ابھی تک یہ نفرت کھرچی نہیں جا سکی۔ طبقاتی مفاد کے بیلٹ بکس میں اپنا ضمیر ڈال کر خوشاب کے ٹوانوں نے منافع کے سودے میں بنگال کے میر جعفر اور دکن کے میر صادق کو بھی مات دے دی ۔ وہ افراد بھلا عوام کے کیسے خیر خواہ ہو سکتے ہیں جن کے آبائو اجداد فرنگی سامراج کی بگھیاں کھینچ کرفیوڈل لارڈ بنے۔

عمر اسلم اعوان کے ساتھ دانستہ دھوکہ ہوا ۔ٹوانوں نے چیئرمین شپ کے تحریک انصاف کے اُمیدوار کو اپنے مفادات کی بلی پر چڑھا کر ن لیگ کی سمیرا ملک کے حق میں دستبردار کرایا اور احسان ٹوانہ بیلٹ پیپر ز پر لگی مہریں دکھا کر سمیرا ملک کو اپنی بے مول وفائوں کا یقین دلاتا رہا عوامی جذبات کا سرعام قتل کرنے والے ٹوانہ خاندان کا احتساب حلقہ این اے 70کے ووٹرز کا چیئرمین تحریک انصاف سے تقاضا ہے۔ چوآ کے ملک سجاد اعوان کا کردار قابل تقلید ہے جو اپنے ضمیر کی آواز پر کھڑا رہا ۔ الیکشن فراڈ کے خلاف اب عوامی موڈ اور رد عمل انتہائی منفرد انداز میں سامنے آئے گا ۔یہ رد عمل سڑکوں ،گلیوں ،محلوں میں متحرک و منظم ہو کر نکلے گا۔ خود ساختہ نتائج فراڈ اور بے قاعدگیوں کا ملغوبہ ہیں ۔پہلے مرحلے میں سبھی فیصلے افسر شاہی اور حکمرانوں کے دفاتر میں بیٹھ کر کئے گئے ۔حالیہ بلدیاتی الیکشن میں حکمران طبقات کے گماشتہ ذرائع ابلاغ اپنا تمام تر زور دھاندلی کے دعویٰ کو کمزور ثابت کرنے پر لگا رہے ہیں۔ رحیم یار خان کے نتائج پنجاب حکومت کے بیہودہ فراڈ کو عیاں کرنے کیلئے کافی ہیں آخری لمحے تک نتائج شک و شبہ سے بالاتررھے ۔مخدوم احمد محمود کے بیٹے کی چیئرمین شپ کو دانستہ چھینا گیا۔

Votting

Votting

چوک اعظم کے شہریوں نے اپنے حق خود ارادیت کا سارا وزن بشارت رندھا وا کے پلڑے میں ڈال کر ن لیگ کو شکست فاش دی۔ اور حکومتی لیگ محض دو نشستیں جیت سکی ۔دولت کے زور پر ضمیروں کے سوداگروں نے ووٹوں کی خریداری کی ۔مٹھائی کے ڈبوں میں 5ہزار کا نوٹ رکھ کر ایک ایک ووٹر کا مُل لگا یا۔عدالتوں کا سہارا لیکر اور اوچھے ہتھکنڈوں سے نو دولتیوں نے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارا اور تحریک انصاف کے چوہدری خالد محمود ارائیں کو جعلی مینڈیٹ سے ہرایا گیا جس کا قرض آئندہ عام انتخابات میں چوک اعظم کے عوام چکائیں گے بھکر کے نوانی جن کا وطیرہ ہمیشہ ضمیر فروشی رہا ہے اور اقتدار کے بغیر جن کی سانسیں رکتی ہیں ضلعی چیئرمین شپ کیلئے ن لیگی خادمِ اعلیٰ کی دہلیز سے اُس وقت تک سر نہ اُٹھایا جب تک چیئرمین ضلع کونسل کی بھیک اُن کی جھولی میں نہ پڑی عوام نے پہلے مرحلہ میں نوانی سرداروں کا چنائو محض ن لیگ کی مخالفت میں کیا مگر عوام کا سودا کرنے والے نوانی سردار عوامی جذبات کے قتل میں اور متوقع اقتدار کے نشے میں سب کچھ بھول گئے۔

میانوالی میں بھی اقتدار والوں نے جعل سازی کا وہی کھیل کھیلا جو رحیم یار خان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ کھیلا گیا ۔لاہور کے مکیں روکھڑی جنہیں عام انتخابات میں میانوالی کے عوام نے مسترد کردیا اسے میانوالی کے عوام پر مسلط کرکے نونیئے آئندہ عام انتخابات میں متوقع انجام کو بھول گئے۔چھانگا مانگا کی خریدو فروخت کی جس سیاست کی بنیاد ن لیگ نے رکھی اُس کا تسلسل آج بھی برقرار ہے۔ ضمیر سے عاری نونیئے جس جعلی جیت کے جشن میں ڈھول پیٹ رہے ہیں اس جیت سے عوام بخوبی آگاہ ہیں 2013 میں ملنے والے جعلی مینڈیٹ کے کونسے زعم میں مبتلا ہیں اگر اُن کے پاس دھاندلی کے سوا کوئی عوامی اعتماد ہے تو اُس کا پول 2002 کے انتخابات میں محض 18 نشستوں کے حصول سے کھل گیا۔

پنجاب میں پیلی ٹیکسیوں ،لیپ ٹاپ سکیموں ،سستی روٹی کی ترسیل ،سفری سہولت کیلئے میٹرو کے منصوبوں میں شفافیت کے دعویداروں کے پاس اس سوال کا کیا جواب ہے کہ ہر بار عوام کی خاطر شروع کئے جانے والے ان منصوبوںکا ریکارڈ کیوں جل جاتا ہے ؟اپنے من پسند الیکشن کمیشن کے ذریعے اس بار عوام کے اعتماد کو چرانا ناممکن ہو گا زرداری کے ساتھ لوٹ مار کا مفاہمتی کھیل بھی شاید جیت کو ممکن نہ بنا سکے کیونکہ عوام اب اپنے اعتماد کے ساتھ ہاتھ کرنے والوں کے گریبانوں سے کھیلیں گے۔وقت کے چہرے پر لکھی تحریر کو ہر کوئی پڑھ رہا ہے۔

M.R.Malik

M.R.Malik

تحریر : ایم آر ملک