مجلس مشاورت کے ممبئی پروگرام کا اعلان

Majlas Mashawarat Meeting

Majlas Mashawarat Meeting

ممبئی : سلمانوں کی نمائندگی کر رہی ملک کی ٦٤ سالہ پرانی تنظیم مجلس مشاورتکو ایک نئی طاقت کے ساتھ نئی سمت دینے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں ۔ نوید ھامد کے کرسی صدارت سنبھالنے کے بعد بھوپال، کلکتہ، اجھارکنڈ و دیگر کئی اہم شہروں میں مجلس مشاورت کی عوامی میٹنگ ہوئی ۔ اور اس کے ساتھ ملک کئی حصوں میں اس کے یونٹس بھی بنائے گئے۔ ملک مغربی حصہ حصوصا مہاراشٹر مجلس مشاورت کی تشکیل کیلئے پوری طاقت سے کام ہو رہا ہے، تعلیمی و سماجی میدان میں طویل تجربہ رکھنے والے لوگ اس سے جڑ رہے ہیں۔

١٣اور ١٦ کتوبر تک ممبئی میں مجلس مشاورت کے مختلف پروگرام رکھے جا رہے ہیں، جسکی تفصیلات AMP کے صدر عامر ادریسی نے میڈیا کے سامنے رکھی اور ان سے تعاون کی اپیل کی۔ ١٣اور ١٦ اکتوبر کے مجلس مشاورت کے ایجنڈے میں ١٥ اکتوبر کو عوامی میٹنگ، ١٣ اکتوبر کو خواتین گروپ کی میٹنگ اور١٣ اکتوبر کی صبح علماء اکرام کی خصوصی میٹنگ رکھی گئی ہے۔ جبکہ مہاراشٹر کے تمام اضلاع کی نمائندگی ١٥ اکتوبر کو رکھی ہے۔

سماجی رہنما سلیم نے کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مجلس مشاورت میں مہاراشٹر کے تمام سرکردہ اشخاص اور تنظیموں کو شامل کیا گیا ہے انہوں نے زور دے کر کہا کہا اس تنظیم میں عملی طعر پر خواتین کو نمائندگی دی جائے گی اس لحاظ سے پریس کانفرنس میں خطاب کرنے کیلئے ٤ خضرات اور ٢ خواتین موجود ہیں۔

جماعت اسلامی کے مہاراشٹر کے عبداحفیظ فاروقی نے ملک کے موجودہ سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسبات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک قانون میں تما م مذاہب کے لوگوں کو حقوق اور انصاف کی بات کی ہے اس کے باوجود فرقہ پرست طاقت میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہے اور قدم قدم پر ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ گائے کے تحفظ کے نام پر خوف و خطرات مسلمانوں کے مال و جان سے ہولی کھیلی جارہی ہے جبکہ مرکزی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

آل انڈیا OBC آرگنائزیشن کے صدر بشیر انصاری نے بتایا کہ مشاورت کے انیجنڈے پر صرف مسلمانوں کی شناخت اور تخفظ کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ مشاورت مسلمانوں کیلئے قرداد 10 اگست 1950 کے صدارتی حکمنامے کی مسنوفی اور مسلمانوں کو سرکاری ملازمت کی ترغیب دلانے میں بھی اہم کردار ادا کریگی۔ پروفیسر شبانہ خان نے مجلس مشاورت کے ذہہ دران کے ذریعے خواتین کو بھرپور نمائندگ کی بات کا بھرپور استقبال کیا اور کہا کہ ہم خواتین کے اہم مسائل کے حل کیلئے کاربند رہینگے۔ مولانا شعیب نے ملک کے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجلس مشاورت کے نام پر ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا ہو رہا ہے جسکے ذرعیے تمام مکتب فکر کے لوگ اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کی پہلی رکن عظمی ناہید نے مجلس مشاورت کی پچھلے ایک سال کی کامیاب کارکردگی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ آنے والے مختصر عرصہ میں ہم بہتر سے بہتر کام کرنے کی کوشش کرینگے۔ پریس کانفرس میں ایڈوکیٹ عاصم، سعید خان، شاداب صدیقی، شبانہ ندیم خان،ایس ایم ملک و مجلس کے دیگر ذمہ داران شریک تھے۔