کنونشن کی جگہ کی تبدیلی کا فیصلہ تحت ضابطہ کابینہ کے منعقدہ آئینی اجلاس میں اکثریت رائے سے کیا گیا

Taimoor Lone

Taimoor Lone

لیوٹن (پریس ریلیز) جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے صدر صادق سبحانی ایڈووکیٹ نے پریس ریلیز جاری کی ہے اورپارٹی کے برطانیہ برانچ میں موجودہ حالات کے تناظر میں کابینہ کے آئینی اور حقائق پر مبنی فیصلہ جات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی کی برطانیہ برانچ اپنے فیصلہ جات سے مرکز کو باقاعدہ اگاہ رکھتی آئی ہے ۔

پارٹی کے بریڈ فورڈ اجلاس میں کابینہ کے مشترکہ فیصلہ کے مطابق برانچ کا کنونشن 17جنوری 2016 کو کروانے کا باقاعدہ فیصلہ کیا گیا تھا جس میں پہلے سے موجود ممبرشپ کمیٹی میں توسیع کرتے ہوئے یونٹ سازی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے ہر کمیٹی ممبر کو یکساں اختیارات کے ساتھ رسائی والے شہروں میں کسی بھی ممبر کی جانب سے یونٹ سازی کا عمل مکمل کرنے بارے فیصلہ کیا گیا جس پر تمام کابینہ اجلاس میں موجود کابینہ اراکین کے دستخط موجود ہیں ۔ یونٹ سازی کا عمل انتہائی سست روی سے جاری ہوا ۔ کابینہ کی نوٹنگھم میٹنگ میں کنونشن میں جانے کیلئے کابینہ اراکین سے دستبردارہونے کی شرط سے مشروط کیا گیا جگہ کے تعین کے بعد دس طے شدہ یونٹس پر الیکٹرول کالج قائم کرنے کے فیصلہ کے بعد یونٹ سازی اور کنونشن میں آئیندہ کی مدت کیلئے قیادت کیلئے صف بندیوں کا آغاز ہوا تو یونٹ سازی اور اپنے اپنے طرفدار یونٹس کی روش نے آغاز پایا ۔

ممبرشپ کمیٹی کو غیر جانبداری کا مظاہرہ ہر صورت کرنا چاہئے تھا ۔ لیکن ہر دو طرف سے ممبرشپ کمیٹی میں موجود ممبران بطور امیدوار اپنے اپنے پینل میں سامنے آگے ۔ اور موجودہ ٹینشن کا آغاز اس وقت شروع ہوا جب برانچ صدر نے اولڈھم میں کنونشن منعقد کروانے اور غیر جانبدار اور شفاف بنانے کی غرض سے ہال وغیرہ اور انتظامات کی خود نگرانی کرنا چاہئے تو پارٹی کے برانچ آرگنائزر جو کہ پینل میں بطور آرگنائزر پھر امیدوار تھے ۔ ماورائے پارٹی آئین روش اپناتے ہوئے کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کیا بلکہ کنونشن کو اپنے زیر انتظام کروانے کے اقدامات شروع کردیئے ۔

ڈیوز بری یونٹ کے قیام پر برانچ آرگنائزر نے ممبرشپ کمیٹی کے ممبر کیخلاف اولڈھم میں رات ٢ بجے پارٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی خبر چلائی جو کہ غیر آئینی تھی اور برانچ کے متوازی پارٹی کھڑی کرنے کا آغاز کیا گیا ۔ ان غیر آئینی اقدامات اور پینل میں امیدوار سامنے آنے پر کابینہ نے آرگنائزر امجد اشرف ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری واجد ایوب ، چیئر مین سفارتی بورڈ آصف مسعود اور ممبر ممبرشپ کمیٹی ماجد میر کے اختیارات کنونشن کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کی غرض سے پارٹی کے برانچ صدر کو تفویض کردیئے جوکہ شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کیلئے ایک آدرشوں کے عین مطابق کابینہ کا متوازن فیصلہ تھا ۔

جناب امجد اشرف نے فیصلہ نہ مانتے ہوئے اس کو سوشل میڈیا میں خوب اُچھالا اور پارٹی کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی کی گئی برانچ کے صدر کیخلاف اور دیگر اراکین کیخلاف نا زیبا اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے اس کے باوجود کابینہ نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہر قسم کے تعصب سے بالا تر ہوتے ہوئے اور مرکز کی طرف سے ہدایات کے مطابق اور اپنے آئینی فیصلہ جات کے مطابق درخواستیں جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کی ۔ آخری تاریخ کے گزر جانے کے بعد جن ممبران کابینہ کی طرف سے درخواستیں موصول ہوئیں وہ مستعفی تصور کرتے ہوئے کابینہ اجلاس میں نہ بلائے گے جن میں فنانس بورڈ کے سردار الطاف اور میڈیا بورڈ کے تیمور اعظم لون شامل ہیں جبکہ آرگنائزر امجد اشرف اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری واجد ایوب کو درخواستیں نہ جمع کروانے پر اپنے عہدوں پر بحال کرکے اگلے دن کی کابینہ اجلاس میں شرکت کا پیغام بھیج دیاگیا جس کے جواب میں امجد اشرف صاحب کا انفرادی استدالال تھا کہ میٹنگ اولڈھم کی جائے جبکہ کابینہ کے اکثریت اراکین کی رائے کے مطابق میٹنگ لیوٹن میں منعقد کی گئی ۔20

دسمبر2015 عین اس وقت جب کابینہ کی میٹنگ ہو رہی تھی اس مقام سے گزر کر لنڈن میں امجد اشرف اور اعجاز پیر سیکرٹری مالیات نے پہلے سے قائم شدہ یونٹ کے متوازی یونٹ قائم کرکے متوازی پارٹی کھڑی کرنے کا آغاز راتوں کے اجلاسوں میں کیا تھاجس میں ان کو سیکرٹری مالیات اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری کی بوجہ زیر اثر حمایت حاصل ہے کو عملی شکل دے ڈالی ۔ کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرنے کی بجائے لنڈن میں پارٹی کے متوازی پارٹی کھڑی کرکے پارٹی کے آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی اور متوازی یونٹ کے نام سے ہی اخبارات میں خبریں بھی شائع کی گئی ۔ میڈیا پر ایسی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے پارٹی میں اولڈھم کے مقام پر کسی قسم کی ہلڑ بازی سے بچنے اور پارٹی کی مزید جگ ہنسائی سے بچاؤ کی خاطر پارٹی کے وسیع مفاد میں کابینہ کے لیوٹن میں منعقدہ اجلاس میں اکثریتی رائے سے متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ کنونشن اولڈھم کی بجائے باٹلے میں منعقد کیا جائے گا ۔ اس پر بھی پارٹی کے آئین و منشور کی پروا کئے بغیر میڈیا پر پارٹی کیخلاف ایک باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے ۔

لنڈن میں پارٹی کے خلاف متوازی پارٹی کھڑی کرنے کے عملی اقدام کے بعد ارگنائزر امجد اشرف اور سیکرٹری مالیات اعجاز پیر کے خلاف اظہار وجوع کے نوٹس جاری کئے گے اور ان سے پوچھا گیا کہ کیوں نہ پارٹی ان کے ان غیر آئینی اقدامات کی وجہ سے تادیبی کاروائی کرے ۔ اب دونوں ممبران جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پارٹی کے متوازی پارٹی کھڑی کی ہے اپنے دفاع کیلئے کابینہ کے روبرو اصالتاً یا تحریری طور پر پیش ہوسکتے ہیں ۔ کوئی بھی انقلابی پارٹی اپنے آدرشوں پر اپنی منزل کی طرف گامزن ہوتی ہے جب وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے بنائے گے آئین و منشور کی پاسداری کرتی ہے ۔ پارٹی کی مضبوطی کیلئے پارٹی کے ہر ممبر کی طرف سے آئینی طریقہ کار کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ پارٹی کے مفادات کیخلاف اور کسی بھی قسم کے غیر آئینی اقدام کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔

پارٹی کے مرکزی صدر کی طرف سے مکمل پابندی کے بعد پارٹی سے منسلک سیاسی دوستوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکز کی پالیسیوں کو مانتے ہوئے پارٹی مسائل کو پارٹی کے اداروں میں حل کرنے کو رواج دیں ۔ امید ہے کہ ایک انقلابی پارٹی سے منسلک انقلابی دوست پارٹی کے وسیع تر مفادات کی خاطر اپنے انفرادی مفادات کو پارٹی کے اجتماعی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے مادر وطن جموں کشمیر کی قومی آزادی و خوشحالی کے قیام کی جدوجہد کو اپنے آدرشوں کے مطابق جاری رکھیں گے ۔