موت کا فیصلہ

Arnold William

Arnold William

تحریر: شاہد شکیل
کچھ لوگوں کے لئے ڈاکٹر آرنولڈ رحمت کا فرشتہ اور کچھ لوگوں کیلئے موت کا سوداگر ہے کیونکہ ایک طرف شدید بیمار افراد کا علاج کرتا ہے تاکہ وہ جلد ازجلد شفایاب ہوں تو دوسری طرف کئی قریب المرگ انسانوں کو موت کی نیند سلانے یعنی خود کشی کرنے میں مدد کرتا ہے،برلن کا رہائشی ڈاکٹر آرنولڈ یورولوجسٹ ہے اور انیس سو اسی سے سن دوہزار تک ایک ہاسپیٹل میں کام کرتا رہا سن نوے کے وسط سے اس نے قریب الموت افراد کی خواہش اور انکی مرضی و خوشی سے موت یعنی خود کشی کرنے میں امداد کا آغاز کیا اور دس سال تک شدید تکلیف میں مبتلا افراد کو موت کی نیند سلانے میں مدد کی ۔چند دنوں بعد جرمن پارلیمنٹ میں فیصلہ کیا جائے گا کہ اپنی مرضی اور ڈاکٹرز کی امداد سے خود کشی کرنا معاشرے میں قانونی عمل اور جائز ہے یا غیر قانونی اور ان عوامل پر مکمل طور پر پابندی عائد کی جائے۔

خود کشی کرنے والوں کی حمایت کی جائے یا انہیں قدرتی موت آنے تک شدید تکلیف میں مبتلا رکھا جائے اور محض ادویہ سے سکون پہنچایا جائے مثلاً ایسے انسان زندہ رہیں لیکن موت سے بھی بد تر زندگی کی باقی گھڑیاں تڑپ تڑپ اور بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر گزاریں،کیونکہ فیصلہ آنے اور عمل درامد میں کچھ وقت ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جرمنی کے ایک معروف آن لائن میگزین نے ڈاکٹر آرنولڈ سے انٹرویو کیا کہ شدید تکالیف میں مبتلا افراد کو مرنے میں مدد کرنی چاہئے یا نہیں اور اگر پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس ہو گیا کہ کوئی ڈاکٹر کسی قریب المرگ انسان کو کسی قسم یا طریقے سے مرنے میں امداد نہیں کرے گا تو ایسے ڈاکٹرز کے مستقبل پر کیسے اثرات مرتب ہونگے کیا وہ ذاتی پریکٹس جاری رکھ سکیں گے یا کسی اور پیشے کا رخ کریں گے ،جس کے جواب میں ڈاکٹر آرنولڈ نے چند غیر معمولی جواب دئے۔

آن لائن میگزین نمائندہ۔آپ کیوں لوگوں کو مرنے میں مدد کرتے ہیں ؟۔ڈاکٹر آرنولڈ۔کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں کسی نے یہ کام کرنا ہے ،ڈاکٹروں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مریضوں کو تلخ تجربات یا تکالیف سے نجات دلائیں اور انکی ہر ممکن مدد کریں جس میں موت کو آسان کرنا بھی ان کے فرائض میں شامل اور ذمہ داری ہے ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں نے حلف لیا تھا کہ بیمار افراد کی مدد کروں گا اور انہیں بذریعہ علاج شفایاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کے بعد نئی زندگی دونگا لیکن اگر ایک مریض خود اپنی مرضی سے شدید تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے مجھ سے گڑ گڑا کر التجا کرتا ہے کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا ،باقی کی زندگی بستر پر لیٹے اور تڑپ تڑپ کر مرنا نہیں چاہتا تو میرا فرض اور ذمہ داری ہے کہ موت میں اسکی مدد کروں تاکہ اسکی آخری خواہش پوری ہو اور وہ اپنی مرضی سے پر امن اور مطمئن ہو کر موت کو گلے لگائے۔نمائندہ۔آپ کیسے اس بے رحمانہ قتل پر آمادہ ہوئے اور کیا وجوہات تھیں ؟۔

Urologist

Urologist

ڈاکٹر۔ اصل میں میرا موت یا خودکشی میں امداد سے کوئی واسطہ نہیں میں یورولو جسٹ کی حیثیت سے برلن کے ہاسپیٹل میں طویل عرصے سے کام کرتا رہا ہوں لیکن انیس سو چوراسی میں ایک مریض کی خود کشی جیسے موضوع میں دلچسپی لی کیونکہ ہاسپیٹل میں قریب الموت مریضوں سے کئی بار واسطہ رہا انہیں مختلف سکون آور ادویہ کے علاوہ مارفین دیا جاتا اور میں مارفین کے خلاف تھا لیکن کبھی نہ کبھی انسان کو اٹل فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ایسے مریضوں کو تاحیات ادویہ نہیں دی جا سکتیں ایسے مریضوں کو سلو موشن میں سلو پوائزن دے دے کر مارنے سے بہتر ہے ایک ہی بار آرام اور پر امن طریقے سے موت کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ تڑپ تڑپ کر مرنے سے بچ جائیں۔نمائندہ۔کیا آپ کو یاد ہے کہ کب پہلی بار کسی مریض کو خود کشی کرنے میں مدد کی تھی؟۔ڈاکٹر۔جی بالکل یاد ہے۔

ایک مریض شدید تکلیف میں مبتلا تھا اور جانتا تھا کہ اگر وہ زندہ رہا تو دوسرے لوگوں پر انحصار کرنا پڑے گا اور اس بات سے خوفزدہ تھا کہ وہ نہ کسی پر انحصار کرنا چاہتا ہے اور نہ اسے کسی کی مدد کی طلب ہے وہ ایک ذہین بزنس مین تھا لیکن ایکسڈینٹ میں ایک بازو سے محروم ہونے کے علاوہ سر پر چوٹیں لگنے سے تقریبا ایب نارمل ہو چکا تھا اس کا کہنا تھا کسی پر انحصار کرنے سے بہتر ہے میں اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لوںکیونکہ وہ اولڈ ہاؤس وغیرہ سے نفرت کرتا تھا۔نمائندہ۔اور اس بارے میں آپ کے کیا تاثرات اور خیالات تھے؟۔ ڈاکٹر ۔میں شدید اعصابی طور پر متاثر ہوا تھا اور وہی حالت تھی جیسے کوئی انسان پہلی بار کوئی انجانا عمل کرتا ہے اور خوفزدہ ہونے کے علاوہ شدید کھچاؤ میں مبتلا ہوتا ہے۔

میرا تاثر بھی ایسا ہی تھا کیونکہ میں پائلٹ بھی ہوں اور پہلی بار چھوٹا طیارہ اڑاتے وقت شدید اعصابی طور پر متاثر ہوا تھا۔نمائندہ۔طیارہ اڑانے اور ایک انسان کی زندگی اور موت میں بہت فرق ہے ۔ ڈاکٹر۔میں نے آپ کو ایک مثال پیش کی تھی یقینا دو مختلف عوامل ہیں اسوقت میں نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا کہ جو کچھ میں نے کیا درست ہے تو مطمئن ہو کر سوچا زندگی بچانا ڈاکٹر کا فرض ہے لیکن ایسے حالات میں کڑا امتحان تھا لیکن میں مطمئن تھا میں جانتا تھا کہ ممکنہ طور پر پولیس ، سرکاری وکیل اور عدالت کے کارکن میرے دروازے پر کھڑے ہونگے اور الزام لگائیں گے کہ تم ایک قاتل ہو لیکن میں نے اپنا فرض ادا کیا اور اس سے قبل اپنے ذاتی وکیل سے بھی صلاح مشورہ کر چکا تھا۔

Death

Death

نمائندہ۔ کتنے افراد اپنی مرضی اور آپ کے توسط سے موت سے ہمکنار ہوئے؟۔ ڈاکٹر۔اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایک بار کسی اخبار کو درست اعداد وشمار سے آگاہ کیا تو کہیں سے بھی مثبت اور اچھا تاثر نہیں ملا۔نمائندہ۔موجودہ اور مستقبل قریب میں خود کشی کے بارے میں نئے قوانین نافذہونے کے بارے میں تقریباً سب جانتے ہیں نئے سوالات کا سامنا ہوا تو کیا آپ معقول جواب دے سکتے ہیں؟۔ جی ہاں اور بہت زیادہ، میرے ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا بند ہی نہیں ہوتی دن میں کم سے کم بیس ٹیلی فون اٹینڈ کرتا ہوں اور فون کرنے والے بہت جلدی میں ہوتے ہیں کہ ہم فوری طور پر مرنا چاہتے ہیں ہمیں چیک کیا جائے اور موت دی جائے ایسا نہ ہو کہ قوانین میں تبدیلی آگئی تو موت مزید دشوار ہو گی اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ہمیں موت آنی چاہئے۔نمائندہ۔پھر آپ ان سب کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں ؟۔میں انکی کوئی مدد نہیں کرتا کہ وہ جلد از جلد موت کا شکار ہوں میں کوئی موت کا فرشتہ نہیں اور نہ پیزا ڈیلیور کرنے والا ہوں کہ جس نے جب چاہا اسے موت دے دی۔

انہیں تسلیاں اور دلاسے دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ سب عوامل کمپلیکس پراسس ہے اور پیچیدہ ہونے کے علاوہ مشاورت لازمی ہے جس کیلئے وقت درکار ہوتا ہے اگر کوئی کینسر کا مریض پوچھے کہ ابھی میری موت آنے میں چھ ماہ باقی ہیں اگر اس دوران قانون نافذ ہو گیا تو میرا کیا ہوگا لہذا مجھے ابھی مار دو تو ایسے مریضوں کو انکار کر دیتا ہوں۔نمائندہ۔نئے قانون کے تحت آرگنائزڈ کی ہوئی موت یا خودکشی کرنے میںامداد کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے اور ترمیم میں رد وبدل کے بعد آپ کے کیا تاثرات ہوں گے؟۔ ڈاکٹر ۔یہ ایک پیچیدہ سوال ہے کیونکہ ایک طرف مریض اپنی مرضی سے موت چاہتا ہے لیکن اسکی کوئی مدد نہیں کرتا کہ وہ پر امن طریقے سے مرے تو ایسی صورت میں لواحقین یا دوست کیا کر سکتے ہیں کیا وہ چوہے مار دوا پلائیں تاکہ وہ مر جائے یہ تو غیر قانونی اور اقدام قتل ہے۔

جس سے تمام لوگ قانون کی گرفت میں آ سکتے ہیں اسلئے اگر قانون اجازت دے گا تو ڈاکٹر ہی یہ کام انجام دے سکتا ہے۔نمائندہ۔آپ کی رائے میں کیسا قانون نافذ ہونا چاہئے جو مرنے والے کیلئے آسان ہو اور غیر قانونی بھی نہ ہو؟۔ڈاکٹر۔گزشتہ بیس سال سے میں اسی کشمکش میں مبتلا ہوں لیکن میرا خیال ہے اس قسم کی امداد کو خود کشی یا بے رحمانہ قتل نہیں کہا جا سکتا دیکھا جائے تو اگر کوئی خاتون بچہ نہیں چاہتی تو ابارشن ہوتا ہے اور اس لحاظ سے وہ بھی قتل ہے بھلے ایمبریو کیوں نہ ہو کسی کی جان لینا قتل ہے وہ دنیا میں ہے یا ماں کے پیٹ میں اور میں اس قسم کے عوامل کے خلاف ہوں لیکن ایک انسان کے مسائل اور تکالیف کو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔

Psychiatric Diseases

Psychiatric Diseases

کیونکہ اگر ڈاکٹرز یا قوانین ایسے افراد کی مدد نہیں کریں گے تو مریض موجودہ بیماری یا تکالیف کو برداشت نہ کرتے ہوئے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور کئی افراد نفسیاتی ڈاکٹرز یا کلینک کے نام سے ہی خوفزدہ ہونے یعنی پاگل ہونے سے خوف محسوس کرتے ہیں اور یہی وجوہات ہیں کہ وہ موت کی سفارش کرتے ہیں۔نمائندہ۔کیا آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ فراموش نہیں کر سکتے؟۔ ڈاکٹر۔مجھے ہمیشہ ان افراد نے متاثر کیا اور فراموش نہیں کر سکتا جو مضبوط ارادوں کے مالک تھے مثلاً وہ مریض جو کسی کی مدد کے بغیر خود اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لیتے ہیں یا وہ جو خود اعتمادی کے سبب کہتے تھے مرتے مر جائیں گے لیکن خود کشی نہیں کریں گے مثال کے طور پر ایک عمر رسیدہ خاتون پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھی اور بیرون ملک رہائش پذیر تھی میرے بارے میں جاننے کے بعد رابطہ کیا ہم اکثر فون اور بذریعہ میل رابطے میں رہتے بات چیت ہوتی کہ ایک دن اسکے بچوں کا فون آیا ہماری ماں نے اپنے ہاتھوں سے ادویہ کے استعمال سے اپنی جان لے لی آپ کی مدد کے بغیر ہی ماں نے اپنا مسئلہ حل کر لیا۔

لیکن ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ اسے باتوں میں الجھا کر مزید چند دنوں کی زندگی دی۔نمائندہ۔مطلب یہ کہ آپ کا پروفیشن بہت گہرائی سے تعلق رکھتا ہے ؟۔ ڈاکٹر۔ڈاکٹر پروفیشن نام ہی گہرائی اور محسوس کرنے کا ہے، لیکن کسی زندہ انسان کو موت دینا ڈاکٹر کے فرائض میں شامل نہیں ،میں اکثر اس بات پر بے چین اور پریشان رہتا ہوں کہ کئی عرصہ تک ایک مریض سے اتنی زیادہ قربت ہو جاتی ہے کہ وہ اپنا لگتا ہے لیکن اچانک دنیا چھوڑ دینے پر میرے لئے نہایت دکھ اور پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

نمائندہ۔ مرنے والے کے لواحقین کے آپ کے بارے میں کیا تاثرات ہوتے ہیں؟۔ڈاکٹر۔زیادہ تر لواحقین میرا شکریہ ادا کرتے ہیں شاذ ونادر ہی ایسے افراد ہوتے ہیں جو غیر دوستانہ یا متعصب رویہ اختیار کریں اور جیسے ہی میرے بارے میں تمام معلومات حاصل کرلیتے ہیں تو نارمل ہو جاتے ہیں اور آخر میں صبر کرنے کے بعد کہ میں نے ان کے پیارے کو موت آسان کرنے میں مدد دی تو خوش بھی ہوتے ہیں کہ مرنے والا بغیر کسی تکلیف اور پر امن طریقے سے دنیا چھوڑ گیا کیونکہ ایک دن تو سب نے دنیا چھوڑنی ہے۔ جرمن پارلیمنٹ میں فیصلہ ہو گیا ہے خود کشی میں معاونت کرنا جرم اور غیر قانونی ہے۔

Shahid Sakil

Shahid Sakil

تحریر: شاہد شکیل