کراچی کی خبریں 9/12/2015

Karachi

Karachi

کراچی (اسٹاف رپورٹر) قومی ایئر لائن کی نجکاری کیلئے حکومت و اپوزیشن مذاکرات کی کامیابی اور پی آئی کو نجکاری کیلئے کارپوریشن میں تبدیل کرنے کیلئے قومی اسمبلی میں آرڈیننس کی پیشی قومی اثاثوں کی فروخت پر جمہوریت کے علمبرداروں کا اتفاق ہے حالانکہ گھریلو اشیاءبیچنے کی روایت ایک روز گھر کی نیلامی کے اسباب پیدا کرتی ہے جس سے واقفیت کے باوجود جمہوریت پسندوں کا نجکاری کے نام پر قومی اثاثوں کی فروخت پر اتفاق کالم نگار چوہدری نثار کی اس بات کو درست ثابت کررہا ہے کہ ”ہماری جمہوریت کی مثال اس قیمہ بنانے کی اس مشین جیسی ہے جس کے ایک طرف خنزیر ڈالا جاتا ہے اور دوسری طرف سے قیمہ شدہ خنزیر ہی برآمد ہوتا ہے اسلئے جب تک مشین کے اس طرف خنزیر ڈالاجاتا رہے گا اس طرف سے حرام ہی برآمد ہوتا رہے گا “ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام قومی مسائل ‘ بحرانوں اور مصائب کے ذمہ دار وہ عوام ہیں جو جمہوریت کی اس مشین کو چلانے اس میں خام مال ڈالنے او ر اس سے پروڈکشن لینے کا کردار ادا کررہے ہیں اور عوام کا نظریہ انتخاب بدلے بناءنہ تو قومی مستقبل کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی حال کے مصائب و مسائل سے نجات ممکن ہے کیونکہ ہم نے مشین کے اس طرف جو ڈال دیا جب تک وہ اس طرف سے پورا نکل نہیں جاتا ہم اس کے تعفن و مضمرات سے خود کو بچا نہیں سکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) دبئی میں زرداری و بلاول ملاقات میں سندھ میں رینجرز کی تعیناتی کو گرفتاریوں سے قبل وزیراعلیٰ کی اجازت سے مشروط کرنے کی اخباری اطلاعات پراظہار تشویش کرتے ہوئے گجراتی قومی موومنٹ کے سربراہ گجراتی سرکار امیر سولنگی عرف پٹی والا المعروف سورٹھ ویر نے کہا کہ جمہوریت اور جمہوری حکمرانوں کا انتخاب عوام محض اسلئے کرتے ہیں کہ منتخب نمائندے و حکمران دیانتدارانہ طریقے سے فرائض اداکرتے ہوئے عوامی امنگوں و خواہشات و ضروریات کے مطابق معاشرے میں نظم و ضبط ‘ تحمل و برداشت پیدا کریں اورآئین وقوانین کی پاسداری یقینی بناتے ہوئے انصاف و مساوات کی حکمرانی کے ذریعے عوام کو امن ‘تحفظ اور بنیادی سہولیات کے ساتھ ہر فرد کو ترقی و خوشحالی کے یکساں مواقع بھی فراہم کریں مگر عوام بذریعہ اقتدار دولت کے انبار لگانے کیلئے عوام کو غریب تر بنانے والوں کی طرز و فکر کہیں سے بھی جمہوری دکھائی نہیں دیتی اور ان کے مفاد پرستانہ اقدامات ایک بار پھر آمریت کیلئے ایسی کھلی دعوت ہے جسے کسی بھی وقت قبول کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں اور جمہوریت کی نرسری کو بے اختیار بنانے سے جمہوریت کا پورا گلستان خزاں رسیدہ ہوجائے گا اسلئے بلدیاتی نمائندوں اور میئر کو با اختیار بنانے کیلئے سیاسی جماعتوں کی جاب سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ عوامی مفاد میں ہے جس کی عوام کے ہر طبقے اور عوام دشمنوںکے سوا دیگر تمام محب وطن سیاسی قوتوں اور جماعتوں کویقینا حمایت کرنی چاہئے ۔ یہ بات پاکستان راجونی اتحاد میں شامل اتحادی جماعت روشن پاکستا ن پارٹی کے سربراہ امیر پٹی ‘ پاکستان سولنگی اتحاد کے رہنما سردار خادم حسین سولنگی ‘ پاکستان خاصخیلی اتحاد کے سربراہ سردار غلام مصطفی خاصخیلی ‘پاکستان مارواڑی الائسنس کے رہنما اقبال ٹائیگر مارواڑی ‘ پاکستان راجپوت اتحاد کے رہنما عارف راجپوت ‘ پاکستان میمن اتحاد کے رہنما عدنان میمن ‘ گجراتی قومی موومنٹ کے رہنما یونس سایانی ‘ بلوچ اتحاد کے رہنما عبدالحکیم رند بلوچ ‘ جونیجو اتحاد کے رہنما محمد اسماعیل جونیجو ‘ارائیں اتحاد کے رہنما اشتیاق ارائیں‘ پاکستان تنولی اتحاد کے رہنما یحییٰ خانجی تنولی اور قومی امن کمیشن ہیومن رائٹس کے رہنما امیر علی خواجہ و دیگر نے کہا کہ بلدیاتی اداروں و نمائندوں کے اختیارات کیلئے عدلیہ سے رجوع کا فیصلہ کرنے والی سیاسی جماعت سے نظریاتی اختلافات کے باعث ہم اس کی حمایت نہیں کرتے مگر میئر کے اختیارات کیلئے عدلیہ سے رجوع کا اس کا فیصلہ مستحسن اور عوامی مفاد میں ہے اسلئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تمام محب وطن سیاسی و جمہوری قوتوں کو عوامی مفاد میں اس فیصلے کی حمایت کرنی چاہئے۔