اپنا قبلہ درست کریں

India and Pakistan

India and Pakistan

تحریر: چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
اپنا قبلہ درست ہو تو کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔دشمن کی ہر سازش الٹی پڑتی ہے۔سازشی خود گرفت میں آ جاتا ہے۔بظاہر پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کو سازشی کہتے ہیں۔دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو سازشی کہنے کی بجائے اپنا اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ دونوں ملکوں نے ماضی میں بھی متعدد نقصانات اٹھائے۔آزادی سے لے کر آج تک دونوں ملک دشمنی کی آگ میں جل رہے ہیں اوران کی آگ میں کشمیر بھی جل رہا ہے۔برطانیہ نے دونوں ممالک کی تقسیم میں نا انصافی کر کے دونوں ملکوں کو نقصان پہنچایا ہے۔بظاہر مسلمان اکثریتی علاقے بھارت کے حوالے کر کے بھارت کو فائدہ اور پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا۔مگر آپ گزشتہ کئی برسوں کی پاک بھارت دشمنی کو دیکھ لیں۔

اس غلط تقسیم کی وجہ سے دونوں ملکوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔مسئلہ کشمیر کے معاملے میں صرف بھارت ہی نہیں اقوام متحدہ بھی ہٹ دھرمی دکھاتا رہا اور دکھا رہا ہے۔کشمیر کے معاملے کو کوئی صدق دل سے حل کرنا چاہتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔اگر اقوام متحدہ صدق دل سے کشمیر کا حل چاہے تو حل کروا سکتا ہے بھارت پر ذور ڈال کر اس معاملے کا حل یقینی بنا سکتا ہے۔مگر کبھی ایسا چاہے گا نہیں۔دنیا کی بڑی طاقتوں کو ہر گز منظور نہیں کہ برصغیر میں امن قائم ہو۔بظاہر امن کا نعرہ لگانے والے گورے دل کے کھوٹے ہیں انہیں قوموں کو استعمال کرنے کا فن بخوبی آتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہیں۔اسی لئے یہ معاملات کو لٹکانا چاہتے ہیں سلجھانا نہیں۔یہ کبھی ایک حریف کے کان بھرتے ہیں اور کبھی دوسرے کے۔پاک بھارت آزادی سے لے کر اب تک ایک محدود سیاست کی گرفت میں ہے۔دونوں ملک ایک دوسرے پر برتری لے جانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔

Wapens

Wapens

یہ سچ ہے کہ اسلحہ خریدنے میں بھی بھارت نے پہل کی۔پاکستان نے وقت کی ضرورت و دفاع کے لئے ہی اسلحہ کی خریدو فروخت کی۔ماضی میں پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر جنگیں لڑی گئیں۔دونوں ملکوںکو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔جنگ کی پہل بھی ہمیشہ بھارت کی طرف سے کی گئی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نقصان بھی زیادہ بھارت کو ہی اٹھانا پڑا۔بظاہر کوئی بھی شکست کو تسلیم نہیں کرتا مگر بھارت ہمیشہ شکست سے دو چار رہا۔بھارت کے پاس ہمیشہ سے ہی اسلحہ اور افرادی قوت پاکستان سے زیادہ ہے۔مگر ہمت و جذبہ میں ہمیشہ پاکستان برتر رہا۔دوستو پاکستانی فوج وہ فوج ہے جو دشمن کے ٹینکوں کو اڑانے کے لئے اپنے سینوں پر بم باندھ کر دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھتی ہے۔پاکستان کی فوج دنیا کی افواج میں سے بہادر اور نمبر ون فوج ہے۔اسے دنیا بھی تسلیم کرتی ہے۔بلکہ بڑے ملک کی افواج اپنے کیڈٹس کو جذبہ دلانے کے لئے پاک فوج کے کارنامے سناتی ہیں۔صرف فوج ہی نہیں یہ پوری قوم ہی بہادر اور غیور ہے۔پوری قوم میں ملکی دفاع کی صلاحیت موجود ہے۔یہ قو م اپنی سالمیت بچانے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔گزشتہ کئی دنوں سے بھارتی فوج کی نقل و حرکت کو دیکھا گیا اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ بھارت پاکستان پر اٹیک کرنے کا سوچ رہا ہے۔

بھارتی میڈیا پر بھی جنگی جنون تاری ہے۔مگر پاکستانی فضائیہ کی مشقوں کو دیکھ کر سارا جنون ممنوع ہوگیا۔شاید بھارتی بنیا جانتا ہے کہ جنگ میں نقصان بھارت کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ سب بھارتی دکھاوہ ہے پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر کمزور کرنے کی سازش ہے۔اڑی سیکٹر حملہ اور پھر پاکستان کو اقوام متحدہ میں دہشتگرد قرار دینا یہ سب بھارت افغان کی پلاننگ کا حصہ تھا۔جو مودی اور اشرف غنی کی ملاقات میں ہوئی۔یہ بھی سچ ہے کہ بھارتی واویلے کی وجہ سے پاکستان کی آواز مدھم ضرور ہوئی لیکن ختم نہیں ہوسکی۔وزیر اعظم نواز شریف نے صحیح معنوں میں جو کشمیر کی آواز اٹھائی بہت سے دلوں پر گہرا اثر کر گئی اور سفارتی سطح پر بھی پاکستان کی جیت ہوئی۔بھارت کی نسبت پاکستان کا قبلہ ہمیشہ ہی درست رہا۔بھارت شروع ہی سے مکاریوں اور چالاکیوں کی کوشش میں رہا۔بھارت نے پاکستان کو بین الاقومی سطح پر تنہا کرنے کی بھی کوششیں کیں۔

Instability

Instability

پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوششیں بھی کیں۔مگر ہمیشہ ناکام رہا۔یہ بھی درست ہے پاکستان اندرونی مسائل سے دو چار ہے۔پاکستان کو فی الفور اپنا اندرونی قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔دوستو بھارت جو پاکستان کو تنہا کرنے کی باتیں کر رہا ہے وہ خود تنہا ہوتا جا رہا ہے اور ایسا صرف ہمارے بیرونی قبلے کے درست ہونے کی وجہ سے ہے۔یعنی بہترین خارجہ پالیسی۔ہماری خارجہ پالیسی میں دوغلا پن نہیں بڑی کلیئر ہے ہماری خاجہ پالیسی۔اسی وجہ سے آج بھارت کے بڑے اتحادی ملک کی فوج پاکستان میں دوستی کے نام سے جنگی مشقیں کر رہی ہے۔آج چین ہمہ وقت ہمارے ساتھ کھڑا ہے ترکی ہمارے سانس کے ساتھ سانس بھرتا ہے۔برطانوی کمانڈر انچیف ہمارے آرمی سربراہ کی تعریفوں پر الفاظ برسا رہا ہے۔نیو یارک ٹائم بھارتی جارہیت کو بیان کر رہا ہے۔یہ سب ہماری بہترین خارجہ پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ہمیں خود پر انحصار کرنا آگیا۔ہمیں پتہ چل گیا کہ ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہے۔

اگر ہمارا قبلہ درست سے درست ہوتا گیا اور خود پر انحصار بڑھ گیا تو ایک دن دنیا ہماری تعریفوں میں پل باندھا کرے گی۔بھارتی قوم کے لئے مفید مشورہ مکاری چلاکی چھوڑ دیں دوسروں پر بلا وجہ تنقید اور ظلم کرنا چھوڑ دیں۔اپنا قبلہ درست کریں خود پر انحصار کریں مودی جیسے انتہا پسندوں کو آخری صفوں میں دھکیل دیں اقلیتوں کے ساتھ انصاف کریں۔بے جا غیر ملکی مداخلت پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیں۔غاصبانہ قبضوں کو چھوڑ دیں۔اگر ایسا کرنے میں ناکام رہے تو ایک دن باکل تنہا ہو جائو گے۔آج امریکہ تمہارے ساتھ ہے تو وہ بھی اپنے مفاد کے بعد تمہیں چھوڑ دے گا تمہارے وطن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔مودی اسکی پہل ہے۔پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ اپنے اندرونی معاملات کو نمٹانے کی ضرورت ہے۔سیاسی جماعتوں کو آپس کی ذاتی دشمنیوں کو ختم کرنا ہوگا ۔حکومت اور اداروں کے درمیان اعتماد کو قائم کرنا ہوگا۔آرمی اور حکومت کو ایک پیج پر کھڑا ہونا ہوگا۔سب صوبوں میں توازن رکھنا ہوگا ۔اپنے ملکی غداروں کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔

اندرونی معاملات کو سمجھنا ہوگا۔سمجھنا ہوگا کہ کوئی خود کش بمبار کیوں بنتا ہے۔کوئی بندوق کیوں اٹھاتا ہے اپنوں کے خلاف۔ہمیں بلوچستان پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ہمیں آزاد کشمیر اور گلگت میں خوشیوں کو بکھیرنا ہو گا۔ہمیں مقبوضہ کشمیر کی ہمیشہ کے لئے آواز بننا ہوگا۔پورے وطن میں امن و خوشحالی کو پھیلانا ہوگا۔انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔کرپشن و دہشگردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔قانون پر عملدرآمد کرنا اور کروانا ہوگا۔میڈیا کو مثبت پیغام پھیلانا ہوگا۔اپنا تن من مضبوط کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے من کو اتنا مضبوط کرنا ہوگا کہ دشمن کا ہر وار الٹا پڑے۔ہمیں پوری قوم کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی کسی دشمن کے بہکاوے میں نا آسکے۔ہمیں اسلام کو پاکستان کو اور انسانیت کو ایسی لڑی میں پرونا ہوگا جسے دشمن کی بڑی سے بڑی سازش و سرمایہ کاری بھی نہ توڑ سکے۔

Zulqarnain Hundal

Zulqarnain Hundal

تحریر : چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی