نظریہ ضرورت

Pakistan

Pakistan

تحریر : مدثر اسماعیل بھٹی
کربلا میں ابن زیاد کی فوج کا ایک سپاہی سید زادی کے ہاتھ سے کنگن اُتارتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا۔سید زادی نے سوال کیا کہ رو کیوں رہے ہو تو کہنے لگا کہ رسولۖ پاک کی اولاد کی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہیں جا رہی جس دکھ کی وجہ سے میری انکھوں سے آنسو نہیں تھم رہے ۔سید زادی نے فرمایا کہ پھر کنگن کیوں اُتار رہے ہو تو اُس سپاہی نے روتے ہوئے جواب دیا کہ اگر یہ کنگن میں نہیں اُتاروں گا تو کوئی اور اُتا رلے گا۔یہاں پوری دنیا اسی قسم کے نظریہ ضرورت پر عمل پیرا ہے وہیں ہم جس معاشرے اور جس مُلک میں رہ رہے ہیں اس نظریے کا عملی ثبوت ہر روز دیکھنے کو ملتا ہے جیسے سیاستدانوں کو جب لگتا ہے کہ فوج اقتدار میں آنے والی ہے یا فوج اقدار سنبھال لے تو وہ غریب عوام اور ملک کی بھلائی کا نعرہ لگاتے ہوئے متحد ہو جاتے ہیں۔

جب کہ انہیں ملک یا عوام کی قطعی کوئی فکر نہیں ہوتی انہیں فکر یہ ہوتی ہے کہ ہماری لوٹ مار بند ہو جائے گی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو فوج کے آنے سے جمہوری حکومتوں کی نسبت نقصان کم ہوتا ہے۔مشرف دور میں لال مسجد آپریشن کے بعد سب نے بہت واویلا کیا لیکن سانحہ ماڈل ٹائون پر لب سی لیے کہ شریف برادران ہمارے پیٹی بھائی ہیں اسی نظریہ ضرورت کے تحت زرداری دور میں اپوزیشن فرینڈلی رہی کہ جتنی لوٹ مار اُس نے کرنی ہے وہ کر لے بعد میں ہماری باری ہے۔عوام کی حالت پر مگر مچھ کے آنسو بہا کر مقصد صرف اُن کا ووٹ حاصل کر کے ملک کو لوٹنا ہوتا ہے۔

اسی طرح کا نظریہ ضرورت یہ اپنے ساتھیوں کو نوازنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیںچیک اینڈ بیلنس کے نام پر ایک محکمے کے اوپر کئی اور محکمے قائم کر دیے جاتے ہیں تاکہ لوٹ مار میں سب کو انکی وفاداری کے حساب سے حصہ ملتا رہے۔یہاں ایک کہانی یاد آ گئی کہ ایک بادشاہ کو اپنے گھوڑے سے بڑا پیار تھاگھوڑے کے کھانے پینے کے لیے اعلیٰ قسم کی چیزیں ہوتی تھیں اور دیکھ بھال کے لیے ایک نگران مقرر تھا وہ نگران کچھ چیزیں خود کھاتا اور کچھ گھوڑے کو کھلاتا۔گھوڑہ کمزور ہو گیا تو بادشاہ نے نگران کے اوپر ایک اور نگران مقرر کر دیا پھر وہ کھانا تین جگہ تقسیم ہونے لگ گیا۔

Corruption

Corruption

گھوڑہ مزید کمزور ہو گیا پھر بادشاہ نے ایک اور نگران اُن دو نگرانوں کے اوپر مقرر کر دیا اب گھوڑہ کا حصہ مزید کم ہو گیا اسی طرح نگران بڑھتے گئے اور آخرکارگھوڑہ بھوک سے مر گیا۔ہمارے ملک میں بھی کرپشن کی بظاہر روک تھام کے لیے کئی محکمے قائم کیے گئے ہیں لیکن کرپشن بجائے کم ہونے کے بڑھتی جا رہی ہے۔ایک پولیس کانسٹیبل یہ سوچ کرکسی مجرم سے رشوت لیتا ہے کہ میں نہیں لوں گا تو میرے افسران رشوت لے کر اُسے چھوڑ دیں گے افسران کی سوچ یہ ہوتی ہے جائیدادوں پر قبضے کی تو الگ بات اوپر سے کرپشن کا ایسا بازار گرم کررکھا ہے کہ تھانہ کلچر ضلع بھر میں بہت زیادہ غیر منظم ہے کسی عام شخص کو انصاف نہیں ملتاجب تک اسکے پاس کسی ایم این اے ،ایم پی اے کی پرچی یا نمائندہ ساتھ نہ ہو تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن تو جیسے سیاسی اکھاڑہ بن چکا ہے اور ٹی ایم اے کے آفیسران کو سیاسی آشیر باد حاصل ہے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل سابقہ ڈی سی اوجھنگ نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی خصوصی گرانٹ سے 46لاکھ روپے کی ٹی ایم اے جھنگ کو ایک سکیم دی جس کی چوہدری محمد اسلم ایکسیئن ٹی ایم اے جھنگ نے قانون کی دھجیاں اڑادیں ٹھیکیدار کو 90فیصد پے منٹ دے دی مگر تاحال سائیڈ پر کام نہ ہے چوہدری اسلم نے صرف ذاتی مفاد کی خاطر سرکاری خزانہ سے من پسند ٹھیکیدار کو 35لاکھ کی پے منٹ کروا دیں۔

ایڈمنسٹریٹر سمیت تمام افسران نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں دلچسپ بات یہ کہ اس سکیم کے سب انجینئر کو تبدیل ہوے 5ماہ ہوچکے مگر ایکسیئن ٹی ایم اے جھنگ خاموش ہے لیکن نئے سب انجینئر محمد رمضان سے سی /ایس کروانے کے بعد بل پاس کردیا جاتا ہے وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف صاحب کو چاہیے کہ جھنگ میں اپنی خصوصی ٹیم کو بھیج کر انکوائری کروائی جائے اور کرپٹ افسران کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔

ٹی ایم اے کے عملے جن کے پاس اپنی کوٹھیاں ہیں جس کے چپڑاسی اپنی گاڑیوں پر آفس آئے یہاں تو گیٹ کے پلر گرنے سے 2بچیاں مرجاتی ہیں اور ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے بعدازاں اسی ٹھیکیدار کو مدت دیکر بحال کردیا جاتا ہے۔

غرضیکہ ہر کوئی نظریہ ضرورت پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔ڈاکٹر حضرات اسی نظریے پر عمل کرتے ہوئے پوری کوشش کرتے ہیں کہ مریض کے علاج کی صورت میں اتنی رقم بٹور لی جائے کہ مریض کے ٹھیک ہونے کے بعد اُس مریض اور اسکے لواحقین کے پاس کھانے پینے کو بھی کچھ نہ بچے اور وہ جیتے جی مر جائیں۔

Jhang

Jhang

جرائم پیشہ افراد،قبضہ مافیااور کرپٹ ٹھیکیداروں کے پیچھے سیاستدان کھڑے نظر آتے ہیں تو بھی نظریہ ضرورت کے تحت آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں۔ایم پی ایز اور ایم این ایز کے ڈر سے سرکاری اہلکاران و افسران نظریہ ضرورت پر عمل کرتے ہوئے ہر نا جائز کام کرتے ہیں۔ہر بڑے ظلم یا کرپشن کے خلاف عوام کوخوش کرنے کیلئے ایک جوڈیشل یا انکوائری کمیٹی بنا دی جاتی ہے جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیٹھ کر سکون سے مراعات اور تنخواہ وصول کریں لیکن صدیوں تک یہ انکوئری جوں کی توں رہے یا پھر سب اچھے کی رپورٹ کی جائے۔

ہمارے ملک کے بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے محکمے میں نظریہ ضرورت کے پیروکار بھرے پڑے ہیں۔یہاں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے جنگل کا قانون رائج ہے جس کی ایک بالکل چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ ضلع جھنگ میںگندے پانی میں ڈوب کر دو بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔سیوریج ڈالنے والے ٹھیکیداران حضرات جنہیں سیاستدانوں کی آشیر باد حاصل ہوتی ہے وہ سو میں سے صرف پانچ روپے خرچ کرتے ہیں اور دنوں دنوں میں کروڑ پتی بن جاتے ہیںاُن کی اس لوٹ مار میں پورا ٹی ایم اے محکمہ مدد کرتا ہے ۔اصل میں سب قصور عوام کا ہے جو ان نظریہ ضرورت کے پیروکاروں کو اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں۔

Mudassar Ismail Bhatti

Mudassar Ismail Bhatti

تحریر : مدثر اسماعیل بھٹی