ڈاکٹر نرگس جہاں کے افسانوں میں مثبت اور تعمیری طرز فکر موجود ہے: پروفیسر اعجاز علی ارشد

Patna

Patna

پٹنہ: ڈاکٹر نرگس جہاں باروی ایڈوکیٹ کے افسانوی مجموعے ”دہلیزز” کی تقریب اجرا اعلان کے مطابق انتہائی سادہ اور غیر رسمی انداز میں پروفیسر سید احمد (کناڈا) ،ڈاکٹر احمد عبد الحئی، حشمت عبد الحئی، پروفیسر اعجاز علی ارشد، ڈاکٹر شکیل احمد کے دست مبارک سے اور کم از کم دو درجن معروف ادبی شخصیات کی موجودگی میں انجام پذیر ہوئی۔

تقریب رونمائی کے بعد پروفیسر علیم اللہ حالی کی صدارت میں ایک مختصر سی ادبی نشست ہوئی جس میں بیشتر مقرروں نے مختصر مگر جامع الفاظ میں افسانہ نگار کی شخصی اور فنی خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی۔ڈاکٹر نسیم اختر نے نظامت کے لیے مائک سنبھالا اور گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے پروفیسر اعجاز علی ارشد وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی نے فرمایا کہ سماجی زندگی میں اب ڈاکٹر نرگس جہاں ایک مثال اور نمونۂ عمل بن چکی ہیں۔

ان کی افسانہ نگاری کے اور بھی انفرادی رنگ ہیں۔ڈاکٹر شکیل احمد سابق وزیر حکومت ہند نے موصوفہ سے اپنے دیرینہ مراسم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبدالحئی نے موصوفہ کی سماجی خدمات پر روشنی ڈالی۔ مشہور فکشن رائٹر شوکت حیات نے نرگس جہاں کے فن پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر طلحہ یٰسین نے مشورہ دیا کہ نرگس جہاں کو اسلامی تاریخ کی بعض اہم کہانیوں کو بھی پیش کرنا چاہیے۔

مشتاق احمد نوری نے احساس دلایا کہ عورت بنیادی طور پر کہانی کار ہوتی ہے۔ ڈاکٹر زرنگار یاسمین نے موصوفہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس نکتے پر زور دیا کہ مرد اساس معاشرے میں عورتوں کو دہلیز سے باہر کا حال جاننے کی زیادہ اجازت ہی نہیں ہے۔افضل حسین،ڈاکٹر سید فضل رب،پروفیسر سید احمد،ڈاکٹر محسن رضا رضوی، ڈاکٹر احتشام کٹونوی اور قیصر زاہدی نے بھی اپنے تاثرات اور مقالے کے اقتباسات پیش کئے۔ دیگر حاضرین میں حشمت حئی، کہکشاں توحید، شبانہ پروین، گلناز بیگم، ریاض عظیم آبادی، پرویز عالم اور نور الہدیٰ شمسی کے نام اہم ہیں۔

جلسے کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر علیم اللہ حالی نے تمام آرا کا احاطہ کیا اور اپنی جانب سے بعض اہم نکات پیش کیے۔ ساتھ ہی اتنی صاف ستھری باوقار ادبی مجلس کے انعقاد پر بہار رابطہ کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔ جلسے کے آخر میں نرگس جہاں نے تمام شرکاکا شکریہ ادا کیا۔