کھانے پینے سے ہی رک جانے کا نام روزہ نہیں

Dua After Iftari

Dua After Iftari

تحریر : صادق رضا مصباحی، ممبئی
روزہ صرف کھانے پینے اور جائز خواہشات چھوڑ دینے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل روحانی تربیتی عمل ہے جس کے ذریعے اللہ عزوجل ہمیں پاک وستھرا کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم صفتِ مادیت کے بجائے صفتِ ملکوتیت کے حامل بن جائیں۔ صبر اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے قرآن شریف میں ایک جگہ فرمایا کہ” تم صبر اور نماز سے مدد چاہو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”۔ صبر کی بے شمار فضیلتیں اور برکتیں احادیثِ نبویہ میں موجود ہیں مگراس سے بڑی فضیلت و سعادت اورکیا ہوسکتی ہے کہ خود اللہ عزوجل کی رفاقت صبر کرنے والوں کو نصیب ہوتی ہے اورپھرجوروزے داربھی ہوتواس کے نصیبے کاکیاپوچھنا۔ بعض لوگ بلکہ اکثر لوگ صرف کھانے پینے اور جائز خواہشات سے رک جانے کے عمل کو ہی روزہ سمجھتے ہیں اوروہ سارے کام کرنانہیں چھوڑتے جووہ دیگرایام میں کرتے تھے ایسے لوگ انتہائی غفلت میں ہیں۔

انہیں اپنے تصورِروزہ پرنظرثانی کرناچاہیے ۔ پورا دن بھوکا پیاسا رکھ کراور تمام جائز خواہشات سے روک کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کوکسی مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتاوہ تو اپنے بندوں سے بے حد پیار کرتا ہے تو وہ بھلا کیوں انہیں مشقت میں ڈالنے لگا اگرکھانے پینے سے روک دینابس یوں ہی ہوتا اس کے پس پشت کوئی مقصدکوئی فلسفہ نہ ہوتاتوظاہرہے کہ یہ ایساحکم بالکل لغوقرارپاتامگرچونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیاہے اوراللہ عزوجل ہرگزہرگز ایسے کام نہیں کرتابلکہ وہ انہیں بھوکاپیاسارکھ کران کواس طریقے سے سمجھاناچاہتاہے،

ان کی تربیت کرناچاہتاہے اوراسلامی زندگی جینے کے اصول بتاناچاہتاہے تاکہ وہ اسے عملی طورپرسمجھ لیںاوراپنی زندگی اسی کے مطابق گزاریں۔ اس کے پیچھے سب سے اہم اورقیمتی راز یہ ہے کہ بندوں کے اندر صبر وتحمل پیدا ہواوران کانفس پاکیزہ وستھراہوجائے۔اللہ تعالیٰ کوصبربہت عزیزہے اوروہی لوگ اسے پیارے ہیںجوصبرکرتے ہیں ۔اس تین حرفی لفظ میں بے پناہ حکمتیں ہیںصبربے شماربیماریوں اورخرافات کاعلاج ہے اس کی برکات تصورِانسانی سے باہرہیںاس کاحقیقی بدلہ دنیامیں نہیں مل سکتابلکہ اللہ عزوجل اس کی جزاآخرت میں دے گا۔ ایک مہینے کے یہ روزے رکھواکرایک طرح سے اللہ تعالیٰ نے ہماری ٹریننگ کرائی ہے۔

ALLAH

ALLAH

اگرہم غورکریں توہمیں معلوم ہوگاکہ یہ مہینہ کئی طرح کی ٹریننگس کامجموعہ ہے جذبۂ خیرکی ٹریننگ ،صبروتحمل کی ٹریننگ،ہمدردی اورغم خواری کی ٹریننگ،مساوات کی ٹریننگ،اللہ عزوجل کی اطاعت شعاری کی ٹریننگ،وقت پرساراکام نبٹانے کی ٹریننگ،تہجدکے لیے اٹھنے کی ٹریننگ،گناہوںسے بچنے کی ٹریننگ،نیکی کرنے کی ٹریننگ ،تلاوتِ قرآن وفہمِ قرآن کی ٹریننگ ،عبادت وریاضت کی ٹریننگ،روحانیت کی ٹریننگ ،غریبوں کی دکھ دردکے احساس کی ٹریننگ،بھوک وپیاس کے احساس کی ٹریننگ،نظم وضبط کی ٹریننگ اورا س کے علاوہ اوربھی بہت ساری باتوں کی ٹریننگ اس مقدس ماہ میں کرائی جاتی ہے کہ جن سے ایک اسلامی معاشرہ وجودمیں آتاہے ۔ اسلامی معاشرے کے خط وخال کاخاکہ اوراس کے عملی نفاذکی صورتوں کی طرف رہنمائی کرتایہ مہینہ امتِ مسلمہ پراللہ عزوجل کابہت بڑاحسان ہے۔

ایک مہینے کی ٹریننگ اس لیے کرائی جارہی ہے تاکہ پھر سال بھرتک اسی کے مطابق عمل ہوتارہے اوراسی کے اثرات مسلمانوں کے فکروعمل پرحاوی رہیں۔ روزے کے اس فلسفے پرغورکریں اوراس منظرنامے میں ہم اپنے روزوں اوررمضان المبارک میں اپنے شب وروز کاتنقیدی جائزہ لیں تواس حقیقت کاکڑواگھونٹ ہمیں اپنے گلے کے نیچے اتارناہی پڑے گاکہ رمضان المبارک ہم سے دورہے اورہم رمضان المبارک سے دورہیں ۔سال بھر تک اس کا اثرنہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے روزے اوررمضان کومحض رسم اوررواج سمجھ لیاہے ۔روزہ محض اس لیے رکھ لیتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ روزہ رکھتے آئے ہیں ۔نوّے فی صد مسلمانو ں کو اس کی حکمتیں ،مصلحتیں ،فضیلتیں،سعادتیں اوربرکتیںمعلوم ہی نہیں اس لیے وہ اس سے حقیقی طورپر لطف اندوزنہیں ہوپاتے۔ مسلمان اگراس کی روح کی گہرائی تک پہنچے ہوتے توحالات وہ نہ ہوتے جو،اب ہیں۔

بہرحال روزے کے ذریعے یہ پیغام دینا مقصد ہے کہ مسلمانوں کو ہر حال میں صبر کرنا چاہیے حالات خواہ کیسے بھی ہوں انہیں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عام دنوں میں تو درکنار خود رمضان المبارک میں بھی لوگ صبر وضبط کا مظاہرہ نہیں کرپاتے وہی جھوٹ، چغلی، لڑائی وغیرہ کا معمول اس مقدس ماہ میں جاری رہتا ہے۔ یہ مقدس مہینہ دراصل لوگوں کومزکیٰ ومصفیٰ کرنے کے لیے جلوہ گر ہوتا ہے ان کی نفس کی ساری آلائشیںپاک کرکے انہیں ستھرا بناتا ہے اورخدائے عزوجل کے تخلیقی مقصد سے انہیں قریب کردیتا ہے ۔الحمدللہ آج بھی ایسے مسلمان ہیںکہ جن کے یہاں رمضان کے دنوںمیں صبر کے عملی مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں اوراس کے نقوش بعدِرمضان بھی نظرآتے ہیں لیکن کثیرترین تعدادایسے لوگوں کی ہے کہ جورمضان المبارک کی برکتوں اوررحمتوں سے محروم ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ کھانے پینے سے خود کو روک لینے کانام روزہ سمجھ لیاگیا ہے اور بس۔ رمضان کے ایام میں دن بھرمیں محض ایک مختصروقت ایساآتاہے

Iftari

Iftari

جب مسلمان خواہ وہ کیسابھی مسلمان ہوخداکے حضوراپنے صبروضبط کاامتحان دینے میں کامیاب ہوجاتاہے ۔یہ مبارک لمحہ کتنا فرحت بخش،کیف آگہی اور مسرت کناں ہوتا ہے جب افطار کا وقت ہوتا ہے کھانے کی ساری نعمتیں دستر خوان پر سجی ہوتی ہیں مسلمان چاروں طرف بیٹھے ہوتے ہیں دل میں کھانے کی زبردست اشتہا ہوتی ہے طبیعت دستر خوان کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہتی ہے قسم کے قسم کے ماکولات ومشروبات کی طرف وہ للچائی ہوئی نظروںسے دیکھتاتوہے مگر وہ یہ سب چاہتے ہوئے بھی نہیں کر پاتا،کیوں؟ حکمِ مولیٰ ہے، اطاعتِ خداوندی کی تلوارتنی کھڑی ہے نامۂ اعمال کے کاتبین اور خداکی طرف سے مامور پہرے دار اس کے سرپررجسٹرلیے کھڑے ہیں ہے۔ اگر وقت سے پہلے ہاتھ بڑھالیا تو حکم خداکی خلاف ورزی ہوگی اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا۔اللہ تعالیٰ کواپنے بندوں کی یہ ادا بہت پسند ہے کہ مواقع ملنے کے باوجودوہ اللہ کے ڈرسے خودکوروکتے ہیں اوراف تک نہیں کرتے ہیں۔

ہمارے خیال میں روزے کی حالت میں یہی وہ وقت ہوتا ہے جب عام مسلمانوں میں صبر کی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے ورنہ دوسرے اوقات تووہ تمام دنوں کی ہی طرح دیکھے جاتے ہیں الا ماشاء اللہ۔ وہ حضرات بڑے سعادت مند اورقابل رشک ہیںجو صحیح معنوں میں روزے کا حق ادا کرتے ہیں اور اس کی حقیقی روح آشناہیں۔ جس نے حقیقی طورپر روزے کو سمجھ لیا اورعملی طورپراس کوبرتاتو اسی کے لیے خدا نے فرمایا کہ” میںہی اس کی جزا دوں گا” ۔ یہ حدیث شریف اور دیگر بہت ساری روزوں کے فضائل والی احادیث اورروایات ہمارے مقررین وخطبااورائمۂ مساجد سامعین ومقتدین کو سناتے ہیں اور فضائل سنا سنا کر انہیں جنت کا ٹکٹ تقسیم کرتے ہیں اور بے چارے یہ مسلمان اسی میں خوش ہوجاتے ہیں کہ اب تو جنت میں اپنی سیٹ پکی ہوگئی ہے۔

Pray

Pray

یاد رکھیے یہ سارے فضائل وکمالات انہیںلوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے روزے کو صحیح طور سے سمجھا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ورنہ ایک جگہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ روزے کی حالت میں اگر بندہ جھوٹ بولنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے کھانے پینے کو چھوڑدینے کی کوئی پرواہ نہیں۔ جب تک روزے کی حقیقی مطالب ومفاہیم کو نہیں سمجھا جائے گا تب تک روزے کی وہ برکات وحسنات نہیں حاصل ہوں گی جو احادیثِ نبویہ میں مذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزے کی حقیقی مسرتوں اور برکتوں سے بہرہ ور فرمائے۔

تحریر : صادق رضا مصباحی، ممبئی
موبائل :09619034199