تعلیم کی صورتحال کی بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔ محمد عبداللہ مینگل

Government  Boys High School Wadh

Government Boys High School Wadh

وڈھ (نمائندہ خصوصی) تعلیم کی صورتحال کی بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔ ضلعی آفیسران فوٹو سیشن کے سوا کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ طلباء کتابوں سے محروم ہیں۔ محمدعبداللہ مینگل ۔تحصیل ایجوکیشن کمیٹی وڈھ کی گورنمنٹ ہائی سکول وڈھ کا دورہ، تمام کلاسوں کا جائزہ لیا گیا۔ہیڈ ماسٹر غیر حاضر پائے گئے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تحصیل ایجوکیشن کمیٹی کے سربراہ میر محمد عبداللہ مینگل نے مجاہد عمرانی اورکمیٹی کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ گونمنٹ بوائز ہائی سکول کا تفصیلی دورہ کیا ۔ دورہ کے موقع پر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول ڈیوٹی سے غائب پائے گئے ۔ کمیٹی نے ہر کلاس کا دورہ کیا اور سکول کی صورتحال کا بخوبی جائزہ لیا۔ پرائمری سیکشن میں 100 سے زائد بچوں کی کلاسسز اور کلاس رومز نہ ہونے اور اسٹاف کی کمی کے بارے میں سینئر اساتذہ طارق احمد بلوچ اور شمس الحق مینگل نے بریفنگ دی۔

اس موقع پر محمد عبداللہ نے کہا کہ ہائی سکول کے طلباء کی تعداد کو دیکھ کرڈسٹرکٹ کے کسی بھی ہائی سکول کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ اوّل ادنیٰ اور اوّل اعلیٰ کے کلاسز 300 بچوں پر مشتمل ہیں جن کیلئے کوئی کلاس روم نہیں ہے جس سے محکمہ تعلیم کے افسران کی نااہلی واضح ہے۔ ہائی سکول کی تعداد 650 سے اوپر ہے اور اسٹاف اور کمروں کی گنجائش 300 بچوں کی ہے۔ اسکول میں فوری طورپر مزید 10 کمرے، 5 جے وی ٹیچرز، 3جے ای ٹی، 3 لیب اسسٹنٹ اور درجہ چہارم کے 3 ملازموں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی افسران صرف فوٹو سیشن تک محدود ہے کسی بھی افسرنے ادارے میں دلچسپی نہیں لی ہے ۔ نان لوکل ہیڈماسٹر اسکول کے ساتھ مخلص نہیں ہے وہ ہفتوں اپنے فرائض سے غائب رہتے ہیں۔ ٹیچنگ اسٹاف بہترانداز میں تدریسی امور سرانجام دے رہے ہیں مگر ضلع کی طرف سے تدریسی کتب اور دیگر مواد انتہائی کم مقدار میں فراہم کی گئی ہیں ۔ اب تک 200 سے زائد طلباء کتابوں سے محرو م ہیں۔