تعلیمی ایمرجنسی۔۔۔۔

Government Boys High School Wadh

Government Boys High School Wadh

تحریر: امین بلوچ
زیر نظر تصاویر میں دکھائے گئے بچے کسی گلی میں دیواروں کے سائے میں نہیں کھیل رہے ہیں بلکہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول وڈھ کے اوّل ادنیٰ اور اوّل اعلیٰ کی کلاسوں کے 247 بچے جن میں 131ادنیٰ کلاس کی جبکہ 116 اوّل اعلیٰ کلاس کے بچے اسکول میں کلاس رومزموجود نہ ہونے کی وجہ سے اسکول کے عقب میں بلڈنگ کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے اور اساتذہ انہیں تعلیم دینے کی جدوجہد میں ہیں۔ 11:15کے بعد جب اسکول بلڈنگ کا سایہ گھٹ کر ختم ہوجاتا ہے تو اساتذہ اور بچے کسی اور سائے کے متلاشی اسکول بانڈری میں دوڑیں لگاتے ہیں۔

گرمی کی اس شدید موسم میں دھوپ اور گھٹن کی وجہ سے روزانہ بچے بے ہوش بھی ہوجاتے ہیں جہاں کچھ لمحات کیلئے استاد کو ڈاکٹر بن جانا پڑتا ہے۔ محکمہ تعلیم خضدار و اعلیٰ حکام کو کئی سالوں سے اس با رے میں آگاہ کیا گیا ہے اور ان کو بخوبی علم بھی ہے مگر انہو ں نے کبھی بھی اسکول کے بلڈنگ میں توسیع کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ ضلعی افسران سال کے اوائل میں تعلیمی داخلہ مہم واک اور فوٹو سیشن کرکے راستے بھول گئے ہیں۔

Balochistan Education Department

Balochistan Education Department

تعلیمی ایمرجنسی کے دعویدار محکمہ ایجوکیشن بلوچستان کے حکام ٹرانسفر اینڈ آرڈر میں لگے ہوئے ہیں کسی ایک کو تعلیمی اداروں میں دلچسپی لینے کا فرصت ہی نہیں ملتی ۔ 45سال پہلے بننے والے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول وڈھ کی دس کمروں پر مشتمل بلڈنگ میں کبھی کسی نے ایک کمرہ بنوانے کی زحمت نہیں کی ہے۔

اسکول کے بچوں کی تعداد 650سے تجاوز کرچکی ہے ۔ جن میں سے 247 بچے صرف کچی اور پکی کے جماعتوں کی ہیں۔ حکام بالا کیلئے لمحہ فکریہ ضرور ہونا چاہیئے کہ آپ کے مستقبل کے معماران آدھے دھوپ اور آدھے چھائوں میں اسکول کے پیچھے بیٹھ کر علم حاصل کررہے ہیں اور ہمیں ان کا کوئی احساس نہیں۔۔۔

Mohammad Amin Baloch

Mohammad Amin Baloch

تحریر: امین بلوچ