یورپی پارلیمنٹ میں سجاد کریم کی میزبانی میں منعقدہ ”کشمیر ای یو ویک” کی چار روزہ تقریب

SHK with HR activists

SHK with HR activists

نیلسن (عبد اللہ زید) نارتھ ویسٹ سے رکن یورپین پارلیمنٹ سجاد کریم (ستارہ قائد اعظم) کو اگلے روز ‘جموں کشمیرکوالیشن آف سول سو سائیٹی ‘ کے اراکین خرم پر ویز اور کارٹک موروکوتلانے کشمیر میںانسانی حقوق کی پامالی پر لکھی گئی ” سٹرکچر آف وائلنس” کے عنوان سے تیار کی گئی اپنی رپورٹ پیش کی اس ہفتے یورپی پارلیمنٹ میں سجاد کریم کی میزبانی میں منعقدہ ”کشمیرای یو ویک’ ‘ کی چار روزہ تقریب میں شرکت کی۔

غرض سے آئے دونوں مصنفین نے اپنی یہ رپورٹ رکن یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم کو پیش کی ۔سجاد کریم بھارت ، پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے بڑے متحرک رکن یورپی پارلیمنٹ ہیں۔ای یو انڈیا فری ٹریڈ پر یورپی پارلیمنٹ کی ہدایات پر دو رپورٹوں کی مصنف بھی ہیں جنہیں پارلیمنٹ منظور کر چکی ہے اور فریقین میں معاہدہ طے پا چکاہے اس کے علاوہ کشمیر میں نامعلوم قبروں کی دریافت پرموصوف کی تحریک پر یورپی پارلیمنٹ میں قرارداد پیش ہو چکی ہے یہ رپورٹ وصول کر نے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سجاد کریم نے کہا کہ انہیں خوشی ہوئی کہ خرم ‘کشمیر ای یو ویک’میں شامل ہوئے اور ہمیں انسانی حقوق پر اپنی رپورٹ پیش کی۔

خرم پرویز کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ علاقے میںجموں کشمیر کو الیشن آف سول سوسائیٹی کے لئے ان احباب کا کام بے مثال ہے اور رپورٹ ہذا ظلم و تشدد کو بے نقاب کرنے میں بڑی اہم ثابت ہو گی اسے وہ بڑے غور سے پڑھیں گے اور اس اہمیت سے استفادہ کرنے کی بھی بحیثیت مجموعی کوشش کی جائے گی۔ رپورٹ پیش کرنے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے خرم پرویز نے کہا کہ سجاد کریم نے ہمیں یقین دلا یا ہے کہ نہ صرف خود اسے تفصیل سے پڑھیں گے بلکہ کسی ایسے موقع کی تلاش کریں گے کہ یورپین یونین میں کشمیر پرہونے والے مذاکرات میں شامل کرنا ممکن ہو سکے۔

ہمیں امید ہے کہ دوسرے اراکین پارلیمنٹ بھی اس رپورٹ کو پڑھ کر کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کو دیکھنے کے لئے ای یو مشن بھیجنے پر سوچ بچار کریں گے یا کم از کم یورپین پارلیمنٹ میں کشمیر پر سماعت کے امکان پر غور کریں گے انہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپی یونین کے بلا واسطہ کشمیر سے کوئی مفادات وابستہ نہیں تو کیا بھارتی حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی پرآنکھیں چرانا جائز ہوگا؟مذکورہ رپورٹ میں بڑی تفصیل سے اس بے امن خطہ کشمیر میں بھارتی عدالتی نظام کی ناکامی پرسوال اٹھا ئے گئے ہیںاور ظلم و تشدد کرنے والے ہزاروں مجرموںکاپادا ش سے بریت پا جانے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔