جب دل ہوا شاد

Happy Couple

Happy Couple

تحریر : دعا اعوان
میں نے پھٹی آنکھوں سے شکستہ دل کا یہ منظر دیکھا اور وہیں کی وہیں رہ گئی۔۔وہ دھیمی مسکراہٹ سے چلتا ہوا میرے پاس آن ر کا ا نگشت شہادت میرے دل کے وسط پہ رکھ کر بجاتے ہوئے بولا۔۔”یہاں رہتا ہوں میں اور تمہیں پتا ہے تمہاری ہر سوچ مجھ سے ہو کر گزرتی ہے اور میں نے اتنے دنوں کی محنت کے بعد بلآخر تمہارے شہر دل کا وہ کونا ڈھونڈ ہی لیا ہے جہاں کسی جگنو کی سی مدہم سی روشنی میں میری محبت ہولے ہولے پھڑپھڑا رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ایک نا ایک دن وہ تھوڑی سی روشنی ضرور اتنی بڑھ جائے گی کہ سیاہ بے چاند راتوں میں تمہارے دل کے کونے کونے میں پھیل کر تمہیں راہ دکھائے گی اور تب میری محبت تمہاری خوبصورت غصیلی آنکھوں میں نرم تاثر کی لو دے کر روشنی بن کر پھوٹے گی اور میں اس دن کا انتظار کروں گا۔۔

اور جب وہ دن آجائے تو دل سے مجھے ایک صدا دینا میں فوراً چلا آؤں گا۔۔۔”یہ کہہ کر وہ رکا نہیں بلکہ واپس مڑ گیا اور وہ کسی لٹے پٹے جواری کی طرح اپنی متاع دل وہیں چھوڑ کر باہر آ گئی۔۔دل ابھی بھی بڑے انوکھے انداز میں دھڑک رہا تھا کہ اسکی پوروں کا لمس دل کی دیواروں پر ابھی بھی زندہ تھا۔۔دماغ کو واضخ واضح شکست ہوئی تھی لہٰذا ٹک کر وہ خود بیٹھا اور نہ اسے بیٹھنے دیا سو یہ طے کر ڈالا کہ اسے چھوڑ دو یا اسے بھلا دو۔۔
نتیجہ کیا نکلا؟؟ یہ۔۔
کم بخت مانتا ہی نہیں اسے بھلانے کو…
میں ہاتھ جوڑتا ہوں تو وہ پاؤں پکڑتا ہے۔۔

بلآخر دماغ نے دل کے ہاتھوں بری طرح شکست کھائی اور فیصلہ اسی مہربان اجنبی کے حق میں دے دیا۔۔ہک ہااااا۔۔۔پینتالیس دن بعد دل دماغ سے جیت گیا۔۔اور آج شہر دل میں جشن بہاراں تھا کہ دل فاتح قرار پایا تھا۔۔ہر طرف خوشی کے شرارے پھوٹ رہے تھے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھیں ہزاروں چراغ روشن تھے ہر اور قمقمے جل بجھ رہے تھے وہ آہستہ روی سے چلتی ہوئی آگے بڑھی تو دھک رہ گئی کیونکہ دل کی اکلوتی مسند آج خالی پڑی تھی نظریں جس کو دیکھنے کی عادی ہو چکی تھیں وہ ایک دم سے کہاں اور کیوں چلا گیا تھا۔۔؟؟

Sad Man

Sad Man

وہ ابھی اسی کشمکش میں تھی کہ اچانک بگل بجا اور شہر دل میں ہلچل سی مچ گئی۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتی کہ یہ سب کیا کیوں اور کس لیے ہو رہا ہے کہ اسکی توجہ اس طرف بٹ گئی جہاں سب متوجہ تھے اسنے دیکھا کہ ایک طرف سے گرد اڑاتا ایک خوبصورت تیز رفتار سفید گھوڑا نمودار ہوا اور ہاں اس پہ وہی تھا یونانی دیوتاؤں کی سی آن بان رکھنے والا? شہزادوں کی مانند اٹھی گردن والا? سدا کا فاتح?جادوگر? قابض۔۔یہ وہی ستمگر جس کے بارے میں وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے پریشان تھی وہ ایک شان بے نیازی سے نیچے اترا اس پہ پھولوں کی بارش کر دی گئی نگارے بجا بجا کر خوشی کا اظہار کیا جا رہا تھا وہ ایک تمکنت سے چلتا ہوا میرے سامنے آ رکا ایک نرم مسکراھٹ میری طرف اچھالی ہر طرف روشنی پھیل گئی اور بولا
“مان لو پاگل لڑکی۔۔۔
یہی حقیقت ہے۔۔اٹل حقیقت۔۔!!

اور وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے سر جھکا گئی کہ کہیں آنکھیں راز دل ظاہر نہ کر دیں کیونکہ اس کی آنکھوں میں چھپی داستان اس نے پڑھ لی تھی۔۔وہ مسکراتا ہوا کرسی پر جا بیٹھا اور اپنی مطلوبہ نشست سنبھال لی اس نے دل ہی دل میں ? کا شکر ادا کیا کہ ان چند دنوں میں اس کے ہونے نا ہونے کا اندازہ وہ بخوبی لگا چکی تھی۔۔تبھی بستء دل کے سبھی ارکان اس شہزادے کو تحفے پیش کرنے لگے تو اسے بھی خیال آیا کہ ایک عدد تحفہ تو اسے بھی دینا ہے سو اتنے سارے لوگوں کے درمیان سے چلتی راستہ بناتی اس کی نشست کے عین سامنے جا پہنچی آن واحد میں ہر طرف سناٹا چھا گیا سب خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگے وہ گھٹنوں کے بل نیچے جھکی اور اس مغرور شہزادے کے قدموں میں بیٹھ گئی اور پہلو میں رکھا تحفہ نکال کر اس کے قدموں میں رکھ دیا۔۔

شہزادے نے ازحد حیرانی سے اسے دیکھا مگر اس کی نظریں بدستور شہزادے کے قدموں سے لپٹی تھیں۔۔خوشی کا نگارا اتنی زور سے بجا کہ ساری خاموشی ٹوٹ گئی اور ہر طرف رقص شروع ہو گیا شہزادہ بہت حیرانی سے کبھی اسے اور کبھی اس کے تحفے کو دیکھتا وہ اپنا کام کر چکی تھی سو ایک دم سے اٹھی اور اتنے لوگوں کی بھیڑ میں گم ہوتی چلی گئی۔۔داخلی دروازے پر پہنچ کر اس نے لمبی لمبی سانسیں لیں مگر بے چینی کم نہیں ہوئی۔۔مادام۔۔کیا ہوا۔۔؟؟ آپ کا دل نہیں لگا وہاں۔۔۔؟؟دروازے پر کھڑے دربان نے جھک کر تمیز سے پوچھا اور جواباً وہ آسودگی سے مسکرا دی کیونکہ دل تو وہ خوبصورت مغلئی آنکھوں والے یونانی شہزادے کو تحفتاً پیش کر آئی تھی سو وہ وہیں پڑا تھا۔۔اس کے قدموں میں۔۔۔

Rasheed Ahmad Naeem

Rasheed Ahmad Naeem

تحریر : دعا اعوان