مشہور و معروف بھارتی نثراد برطانوی سنگر و ڈانسر پلوی پانڈیا سے تفصیلی انٹرویو

Pallavi Pandya,Detail Interview

Pallavi Pandya,Detail Interview

برمنگھم (ایس ایم عرفان طاہر سے) پلوی پانڈیا آج سے کچھ برس پہلے بھارت کے شہر گجرات میں پیدا ہوئیں انکا تعلق ایک موسیکار اور سنگیت کار گھرانے سے ہے بنیادی تعلیم گجرات سے حاصل کی گا ئیکی آرٹ کے طور پر خون میں شامل ہے۔

سنگیت اور گا ئیکی کو پوجا اور عبادت کا درجہ دیتے ہو ئے اپنا یا اور پھر اس کی گہرائی کو سیراب کرنے کے لیے ہر صبح ایک نئی لگن اور ایک نئی امنگ کے ساتھ خود کو بہتر سے بہتر بنا نے میں ہمہ وقت مصروف اور کوشاں رہیں۔

والد گرامی کلا سیکل میو زک سے وابستہ رہے جن کی بدولت انہیں بھی سوز و گداز کی نعمت میسر آئی ۔ مشہور و معروف بھا رتی نثراد برطانوی سنگر و ڈانسر پلوی پانڈیا نے نوجوان صحافی و معروف کالم نگا ر ایس ایم عرفان طا ہر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہو ئے بتا یا کہ ایک خو بصورت آواز اور پر کشش انداز اللہ کا دیا ہوا وردان ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا ہے ۔ بے شک تعلیم کے میدان میں انسان ہمہ وقت سیکھتا ہو ا دکھائی دیتا ہے وہ کوئی علم یا معلومات کا ذخیرہ ہو یا کوئی ہنر مندی کا شعبہ گلو کا ری ایک بہت بڑے سمند ر کی مانند ہے جو جتنی محنت اور گیا ن کرتا ہے تو اسے اتنا ہی نصیب ہو تا ہے۔

ابتداء میں استاد غلام علی ، نصرت فتح علی خان ، نور جہا ں ، ریشماں ،مہندی حسن اور دیگر کو سنا اور ان سے سیکھنے اور اپنے انداز گلوکاری کو بہتر بنا نے کا موقع ملا میری آئیڈیل میرے دیس کی دو مشہور گلوکاری کی دنیا کی بین الاقوامی شہرت یافتہ دیویاں لتا منگیشتر اور عائشہ بو سلے ہیں بلا شبہ وہ گلو کا ری کے اندر بے مثال اور لا جواب ہیں میں اپنے آپ کو ان کے برابر تو نہیں کہتی لیکن دونوں کو سامنے رکھتے ہو ئے گاتی ہو ں اور بعض لوگ مجھے داد دیتے ہو ئے یہ کہتے ہیں کہ میری آواز لتا جی اور عائشہ جی سے بہت ملتی ہے تو اپنے آپ پر فخر محسوس ہو تا ہے۔

میرے والدین نے ہر لمحہ میری اس گلو کا ری کے شعبہ میں بہت زیادہ سپورٹ کی جس کی بدولت ابتداء ہی سے سکول میں پہلی مرتبہ گلوکاری کے مقابلہ میں حصہ لیا اور فرسٹ پو زیشن حاصل کی اسکے بعد یہ سلسلہ وہا ں نہ رکا بلکہ مزید حوصلہ افزائی اور مورل سپورٹ کی وجہ سے میں نے انتہائی محنت اور لگن سے اپنا کام جا ری رکھا 1997 کا وہ حسین سال کبھی بھی بھول نہیں سکتی جب مجھے بیسٹ لیڈی سنگر ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ کئی فلموں کے اندر کام کرنے کی آفر کی گئی لیکن والدین نے منع کردیا جس کی بد ولت ایک اداکارہ تو نہیں بلکہ ایک اچھی گلوکا رہ ضرور بن گئی ۔ بھا رت کے اندر گجرات جونا گڑھ اور شیر کوٹ کے اندر ریڈیو سٹیشن اور ٹی وی پر پرفارمنس کے دوران خاصا سراہا گیا ۔ 2001 میںمو سیقی کے سب سے بڑے مقابلے ،،سارے گا ما پا،، برطانیہ کے اندر رنر اپ پو زیشن پر رہی۔

ابھی تک کسی باقاعدہ فلم کے لیے نہیں گا یا ہے جبکہ اس حوالہ سے کافی آفرز ہو چکی ہیں ۔ ہندی اور پنجابی سمیت 7زبانوں میں گا لیتی ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہاکہ دور جد ید میں سوشل میڈیا کی آمد کے بعد دوسرے چیدہ چیدہ شعبوں سمیت گلوکا ری بھی حد درجہ متاثر ہوئی ہے ۔ سوشل میڈیا پر بے حساب اور لا تعداد مواد موجود ہو نے کی وجہ سے لو گو ں کا رحجان بدل گیا ہے ۔سی ڈی ایز ، ڈی وی ڈیز اور کسیٹس کی ڈیمانڈ کم ہوتی جا رہی ہے ۔ اسی طرح بے ہودہ شاعری اور بے معنی موسیقی و گلوکا ری نے بھی اس انڈسٹری کو خاصا نقصان پہنچا یا ہے۔

ایسے گیت لکھے اور پڑھے جا نے چا ہیں جو با معنی ہو ںجن کے زریعہ سے نہ صرف عوام الناس کو تفریح کا موقع میسر ہو روح اور دل کا سکون بھی نصیب ہو اسی طرح سے ایک مثبت پیغام کا بھی باعث بنیں ۔ اپنی ثقافت روایات اور اپنے فن کواجا گر کرنے کیلیے یہ ایک موئثر ترین زریعہ ہے ۔ ایک آرٹسٹ کے سامنے کوئی مذہب اور سرحد معنی نہیں رکھتی ہے بلکہ وہ تو اپنے فن کو دنیا کے اندر پھیلاتا ہو ا محبت امن اور رواداری کو فروغ دیتا ہے ۔ با لعموم ایشین اور با الخصوص پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے اس پرائے دیس میں بے حد سراہا ہے کئی پروگرامات کا اہتمام کیا اورحوصلہ افزائی کی۔ گا ئیکی اور ڈانس کے علاوہ پہلے شعبہ تعلیم کے اندر اور پھر سماج سیوکھ کے حوالہ سے بھی سیوا انٹر نیشنل کے ساتھ مل کر انسانیت کی بھلائی کے لیے بلا تفریق خدما ت سرانجام دیں۔