میسی بننا ہے یا شاہد آفریدی؟‎

Massey

Massey

تحریر : عماد ظفر
فٹ بال دنیا کے مہنگے ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے اور غالبا سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کھیلوں میں سے ایک ہے. فٹ بال کو آپ دیکھتے ہوں یا نہ ہوں لیکن میسی کا نام آپ نے ضرور سن رکھا ہو گا.ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والا یہ کھلاڑی فٹ بال کی دنیا کا لیجنڈ مانا جاتا ہے.اپنے کھیل میں مہارت اور عبور کے باعث اسے بعض فٹ بال کے نقاد میرا ڈونا سے بھی اچھا کھلاڑی تصور کرتے ہیں. میسی دنیا بھر میں فٹ بال کی مہنگی ترین کلب لیگ جو کہ سپین میں “لالیگا” کے نام سے منعقد ہوتی ہے اس میں سٹار کلب بارسلونا کی نمائندگی کرتا ہے اور متعدد بار اہنے کلب کو چیمپیئن بنوا چکا ہے. اپنے ملک ارجنٹینا کو بھی 2008 میں میسی نے اولیمپک میڈل جتوایا تھا. ابھی میسی محض 29 سال کا ہے اور اپنے کھیل کے عروج پر بھی ہے.لیکن چند روز قبل کوپا امریکہ نامی کپ کے فائنل میں چلی کی ٹیم کے خلاف میسی نے ایک پنالٹی کک مس کر دی اور پنالٹی شوٹ آؤٹ میں اس کی ٹیم کو شکست ہو گئی. میسی نے انٹنیشنل فٹ بال مقابلوں میں پہلی دفعہ کوئی پنالٹی مس کی اور اس کی ٹیم کو یہ بھاری پڑ گئی. اس شکست کے فورا بعد میسی نے بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے ارجنٹینا کی نمائندگی دوبارہ نہ کرنے سے معذرت کر لی.

میسی نے شکست کی ذمہ داری اپنے اوپر لی اور ایک بیان میں اپنے وطن ارجنٹینا کے شائقین سے اس شکست اور دو سال قبل فٹ بال ورلڈ کپ فائنل نہ جیت سکنے پر معذرت کا اظہار بھی کیا. آج کی تاریخ تک ارجنٹینا کے صدر سے لیکر اپوزیشن رہنماوں اور لیجنڈ ڈیگو میراڈونا نے میسی سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے اور دوبارہ ارجنٹینا کی نمائندگی کرے.میسی یہ فیصلہ واپس لیتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والے چند روز یا ہفتوں میں ہو جائے گا لیکن میسی کی یہ اپروچ بنیادی طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ بڑا کھلاڑی یا بڑا انسان کبھی بھی لالچ یا عہدوں کا بھوکا نہیں ہوتا. میسی کی اس اپروچ سے ایک اور بات بھی سامنے آتی ہے کہ شکست کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے والے کاندھے ناتواں نہیں ہوتے. دوسری جانب آئیے ہم لوگوں کی اپروچ کی جانب جو گھومتی ہی عہدوں یا مراعات کے لالچ کے گرد ہے یا جو محض دوسروں پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالتی ہے. قریب میسی سے عمر میں دس سال بڑے اور بین الاقوامی مقابلوں کیلئے ان فٹ شاہد آفریدی نے ایشیا کپ ٹی ٹوینٹی ورلڈکپ سے لیکر عالمی ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم کی عبرتناک شکست پر نہ تو کسی بھی قسم کی ذمہ داری لی اور نہ ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا.

Shahid Afridi

Shahid Afridi

بلکہ موصوف نے صفر کاکردگی کے باوجود بھی بین الاقوامی مقابلوں میں کھیلنے کا ارادہ برقرار رکھا. یہی حال ہمارے ہاں زندگی میں مختلف شعبہ جات سے وابستہ افراد کا ہے جو اپنے آپ کو غیر متبادل سمجھتے ہوئے کرسی یا عہدے سے چپک کر بیٹھے رہتے ہیں اور آخر دم تک اپنے اپنے شعبے سے چپکا رہنے کی کوشش کرتے ہیں بھلے ہی وہ قوم عوام یا نجی اداروں کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچا لیں لیکن احسان جتاتے نہیں تھکتے کہ ہم یا ہماری خدمات نہ ہوتیں تو نہ جانے کیا کیا قیامتیں ٹوٹ پڑتی.چارلس ڈیگال کا بہت مشہور قول ہے کہ قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو اہنے آپ کو غیر متبادل سمجھتے تھے. اور غالبا میسی نے اس قول کو بہت کم عمری میں سمجھ لیا.کاش میاں نواز شریف آصف زرداری عمران خان یا راحیل شریف اور دیگر جرنیل بھی اس حقیقت کو سمجھیں اور میسی کی طرح جرات اور سپورٹسمین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے شعبہ جات میں پالیسیوں کی ذمہ داری کی ناکامی یا کامیابی قبول کریں.

میسی اور شاہد آفریدی دو مختلف نظریات ہیں جو واضح طور پر ہمارے معاشرے کی نفسیات اور بیرونی معاشروں کی نفسیات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں. ایک جانب شاہد آفریدی جیسے لوگ ہیں جو صرف اپنے لیئے کھیلتے ہیں دولت شہرت کماتے ہیں اور کھیل سے چپکا رہنے کیلئے صحافیوں سے لے کر لیڈروں تک میں اپنے حوالے سے لابنگ کرتے رہتے ہیں. دوسری جانب میسی جیسے لوگ ہیں جو ٹیم پلیئر ہوتے ہیں وطن یا کلب کی جیت کیلئے کھیلتے ہیں اور کامیابی یا ناکامی کی ذمہ داری کھلے دل سے قبول کرتے ہیں.یہی وجہ ہے کہ فائنل میں شکست کے باوجود ارجنٹینا کا ہر شہری اس وقت میسی کے اس فیصلے سے آبدیدہ ہے اور میسی کو ارجنٹینا کیلئے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے. یہی وجہ ہے کہ میسی کو شاہد آفریدی کی مانند ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کیلئے لیڈروں کے تلوے نہیں چاٹنے پڑتے بلکہ ملک کا صدر اسے خود درخواست کرتا ہے کہ آپ کھیلتے رہیئے.

Communities

Communities

ہم سب میسی کے اس واقع سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں. ہم چاہیں تو میسی کی مانند اپنے اپنے شعبہ جات کے ماہر اور پیشہ ور بن سکتے ہیں اور دوسری جانب ہم شاہد آفریدی کی طرح اپنے اپنے شعبہ جات سے چپکے رہ کر تمام وقت اپنی پوزیشن یا مرتبے کی بقا کیلئے جی حضوری میں ضائع کر سکتے ہیں. جانا تو سب کو ہوتا ہے چاہے وہ کوئی شعبہ ہو یا پھر زندگی کس سفر لیکن کس حیثیت میں جانا ہے یہ سب ان دو مختلف نظریات پر منحصر ہے. میسی جیسے نظریات یا لوگ ہار کر بھی فاتح رہتے ہیں اور شاہد آفریدی جیسے لوگ جیت کر بھی ہار جایا کرتے ہیں.

اگر میسی چاہے تو وہ کم سے کم مزید اگلے دس بارہ سال اپنے وطن کی نمائندگی کر سکتا ہے اور کوئی اسے ٹیم سے باہر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اس نے اعتراف کیا کہ وہ قومی ٹیم کو مسلسل بڑے اعزازات جتوانے میں ناکام رہا.اس کے اس اعتراف سے اس کا قد بڑھا ہے نا کہ چھوٹا ہوا. یہی رویہ اگر ہمارے لیڈر اور پالیسی میکرز بھی اپناتے ہوئے کامیابیوں اور ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کریں گے تو ان کا بھی قد اونچا ہی ہو گا اور معاشرے میں ترقی کے اور کامیابی کے نئے باب کھل سکیں گے.اسی طرح اگر ہم سب بھی میسی کی مانند اپنی اپنی ذمہ داریوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسی عزم سے آگے بڑھیں گے کہ ہمیں جیتنا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت کوئی مشکل ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک پائے گی. میسی بننا ہے یا آفریدی فیصلہ ہم سب کے اور ہمارے پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے.