فرانکفرٹ، جرمنی، میں ہیومین ویلفیر ایسوسی ایشن کی جانب سے شاندار عالمی طرحی مشاعرہ کا اہتمام

Germany Aalmi Mushaira

Germany Aalmi Mushaira

جرمنی (انجم بلوچستانی) گزشتہ دنوں جرمنی کے مشہور صنعتی و کاروباری شہر فرانکفرٹ میں ہیومین ویلفیر ایسوسی ایشن کی جانب سے ا یک عالمی طرحی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے معروف شعراء کرام اور ادبی شخصیات نے شرکت کر کے محفل کی رونق کو چار چاند لگا دئے۔

مشاعرہ کے روح رواںایسوسی ایشن کے چیرمین، یورپ کی معروف ادبی شخصیت سید اقبال حیدر تھے۔جواپنی تنظیم ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے گزشتہ بیس سال سے اردو ادب کی خدمت و فروغ کے لئے اس طرح کی تقریبات منعقد کررہے ہیں۔مشاعرے کی صدارت بر طانیہ کے معروف ،سینئر شاعر راغب دہلوی نے فرمائی۔

مہمانان خصوصی میںہر دل عزیز شاعر محمد علی وفا نے کویت ، جرمنی سے برطانیہ جا کر آباد ہونے والے جواںسال شاعر سجاد حید رنے برطانیہ، لاہور کے مقبول جواں سال شاعرحسن عباسی، نوجوان دانشورعلی عباس اور ”قطب آن لائن ”کے مشہور و معروف اینکرسید بلال قطب نے پاکستان سے شرکت فرمائی ،جبکہ ویزے کی عدم فراہمی کے باعث جمیل موسوی امریکہ سے تشریف نہ لا سکے۔اس محفل کی نظامت میزبان سید اقبال حیدر نے اپنے مخصوص انداز میں فرمائی۔

اس عالمی طرحی مشاعرے میں شرکت کیلئے مہمان اعزازی، ممتاز ایشین یورپین صحافی و شاعر، عالمی سربراہ بین الاقوامی اردو مرکزBAUM، سرپرست منہاج ایم سی بی یورپ، شکیل چغتائی( پرنس انجم بلوچستانی) علالت کے باو جودبرلن سے تشریف لائے ۔دیگرمعزز شعرائے کرام میں کولون سے صحافی و شاعر باقر زیدی اورمدبر آسان شامل تھے۔مقامی شعرا میں طارق الیاس،محمد سلیم بھٹی،عطاء الرحمن اشرف، منفرد لہجہ کے شاعرطاہر عدیم،شریف اکیڈمی کے سر براہ معروف شاعرشفیق مراداور سیّد اقبال حیدر نے اپنا طرحی کلام سامعین کی خدمت میں پیش کیا۔ مصرع طرح” سفرنصیب پرندوں کا کوئی گھر بھی توہو” تھا۔محفل کے پہلے حصہ میںسید بلال قطب کی کتاب”بنام خدا” کی رسم اجراء منعقد ہوئی،جس میںاقبال حیدر، علی عباس ا ورسجادحیدر نے کتاب کے بارے میں اظہار خیال کیا۔اسکے بعدسید بلال قطب نے اسلام کے فلسفہء زندگی پربڑے موثر اور مدلل انداز میں روشنی ڈالی۔

مشاعرہ کا آغازاقبال حیدر نے نعت رسول مقبولۖ سے کیا۔اس کے بعد مشاعرہ کی و احد شاعرہ شازیہ نورین نے طرحی غزل پیش کی ۔ مصرعہ کے تناظر میں جوشاعری کی گئی، اسمیں غزل کے مخصوص لہجہ کے ساتھ ساتھ ہجرت ،خصوصی طور پر شام کے مہاجرین اور ساحلِ سمندر پر معصوم بچے کی لاش کا ذکر نمایاں رہا۔چندشعراء نے واقعہ کربلا کے بعد خاندانِ رسولۖ کی در بدری کو بھی نہائت موثر انداز میں نظم کیا۔اس سال ڈاکٹر تقی عابدی کی کتاب”فیض فہمی”کی رسم اجراء کے بعدیہ فرانکفرٹ میں جرمنی کی دوسری بڑی ادبی تقریب تھی۔جس کے اہتمام میں سجادنقوی، سلیم بٹ اور عاصم علی پیش پیش تھے۔ آخر میںسید بلال قطب کے ساتھ سوال و جواب کی ایک مختصر نشست ہوئی۔جس کے بعدجملہ مہمانان خصوصی کو خصوصی تحائف سے نوازا گیا۔

تقریب کے اختتام پر شہرکی مشہور سیاسی وسماجی ،شخصیت سید سجاد حسین نقوی کی طرف سے شرکاء کے لئے عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں کمرشل کونسلر، پاکستان قونصلیٹ طارق رضوان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔دیگر معززین شہر میں امجد علی،عبدالمالک، محمد قاسم ، آزاد حسین آزاد،اقبال خان، جعفرزیدی، ڈاکٹر لائق علی،شجاعت زیدی، مقصود حیدر، خاور علی، سیفی زیدی ، نذر حسین، شبیر احمدکھوکھر، اسلم صدیقی،رانا بشیر،ریاض خان ،صفدر عباس نقوی و دیگر شامل تھے۔ان کے علاوہ کثیر تعداد میں خواتین و حضرات موجود تھے۔